
نئی دہلی، 13 اگست (ہ س)۔ آٹو کمپوننٹس بنانے والی کمپنی ایل اے پی ایل آٹوموٹیو کے شیئروں نے آج شیئر بازار میں مضبوط شروعات کر کے اپنے آئی پی او سرمایہ کاروں کو خوش کر دیا۔ آئی پی او کے تحت کمپنی کے شیئر 94 روپے کی قیمت پر جاری کیے گئے تھے۔ آج بی ایس ای کے ایس ایم ای پلیٹ فارم پر اس کی لسٹنگ 43.62 فیصد پریمیم کے ساتھ 135 روپے کی سطح پر ہوئی۔لسٹنگ کے بعد خریداری کی حمایت سے یہ شیئر بڑھ کر 139 روپے کی سطح پر آ گیا۔ حالانکہ بعد میں منافع وصولی کے سبب کمپنی کے شیئر 128.25 روپے کی سطح تک گر کر بند ہوئے۔ دن کے دوسرے سیشن میں جم کر ہوئی منافع وصولی کے باوجود پہلے دن کے کاروبار میں کمپنی کے آئی پی او سرمایہ کاروں کو فی شیئر 34.25 روپے یعنی 36.44 فیصد کا فائدہ ہو گیا۔اس کمپنی کا 32.40 کروڑ روپے کا آئی پی او 10-06 اگست کے درمیان سبسکرپشن کے لیے کھلا تھا۔ اس آئی پی او کو سرمایہ کاروں کی جانب سے زبردست رسپانس ملا تھا، جس کی وجہ سے یہ اوور آل 344.31 گنا سبسکرائب ہوا تھا۔ ان میں کوالیفائیڈ انسٹی ٹیوشنل بائرس (کیو آئی بی) کے لیے ریزرو پورشن 200.23 گنا سبسکرائب ہوا تھا۔ اسی طرح نان انسٹی ٹیوشنل انویسٹرس (این آئی آئی) کے لیے ریزرو پورشن میں 433.26 گنا سبسکرپشن آیا تھا۔ اس کے علاوہ ریٹیل انویسٹرس کے لیے ریزرو پورشن 387.78 گنا سبسکرائب ہوا تھا۔اس آئی پی او کے تحت 10 روپے فیس ویلیو والے کل 34,46,400 نئے شیئر جاری کیے گئے ہیں۔ آئی پی او میں شیئروں کی فروخت سے حاصل کردہ پیسے کا استعمال کمپنی اورنگ آباد کی اورک سٹی میں نئی مینوفیکچرنگ یونٹ لگانے، پرانے قرض کے بوجھ کو ہلکا کرنے، ورکنگ کیپیٹل کی ضروریات کو پورا کرنے، آئی پی او سے متعلق اخراجات کو پورا کرنے اور عام کارپوریٹ مقاصد میں کرے گی۔ایل اے پی ایل آٹوموٹیو کی مالی صورتحال کی بات کریں تو کیپیٹل مارکیٹ ریگولیٹر سیبی کے پاس جمع کرائے گئے ڈرافٹ ریڈ ہیرنگ پراسپیکٹس (ڈی آر ایچ پی) میں کیے گئے دعوے کے مطابق اس کی مالی صحت میں مسلسل سدھار ہوا ہے۔ مالی سال 24-2023 میں کمپنی کو 2.17 کروڑ روپے کا خالص منافع ہوا تھا، جو اگلے مالی سال 25-2024 میں بڑھ کر 5.03 کروڑ روپے کی سطح پر پہنچ گیا۔ وہیں، گزشتہ مالی سال 26-2025 میں کمپنی کو 8.63 کروڑ روپے کا خالص منافع ہوا تھا۔اس دوران کمپنی کے ریونیو کی وصولی میں بھی اضافہ ہوا۔ مالی سال 24-2023 میں اسے 61.03 کروڑ روپے کا کل ریونیو حاصل ہوا، جو مالی سال 25-2024 میں بڑھ کر 67.07 کروڑ روپے کی سطح پر آ گیا۔ گزشتہ مالی سال 26-2025 میں کمپنی کو 94.32 کروڑ روپے کا ریونیو حاصل ہوا تھا۔ اس مدت میں کمپنی پر قرض کے بوجھ میں اتار چڑھاو ہوتا رہا۔ مالی سال 24-2023 کے اختتام پر کمپنی پر 13.37 کروڑ روپے کے قرض کا بوجھ تھا، جو اگلے مالی سال 25-2024 میں بڑھ کر 15.79 کروڑ روپے کی سطح پر آ گیا۔ گزشتہ مالی سال 26-2025 کی بات کریں تو اس دوران کمپنی پر لادے قرض کا بوجھ کم ہو کر 7.84 کروڑ روپے کی سطح پر آ گیا۔اس مدت میں کمپنی کے نیٹ ورتھ میں بھی اضافہ ہوا۔ مالی سال 24-2023 میں یہ 11.59 کروڑ روپے کی سطح پر تھا، اسی طرح 25-2024 میں کمپنی کا نیٹ ورتھ بڑھ کر 16.63 کروڑ روپے کی سطح پر آ گیا۔ گزشتہ مالی سال 26-2025 میں یہ 25.25 کروڑ روپے کی سطح پر پہنچ گیا۔کمپنی کے ریزرو اور سرپلس کی بات کریں تو اس مدت میں کمپنی اس محاذ پر معمولی اتار چڑھاو کے باوجود برتری حاصل کرنے میں کامیاب رہی۔ مالی سال 24-2023 میں یہ 8.39 کروڑ روپے کی سطح پر تھا، اسی طرح 25-2024 میں کمپنی کا ریزرو اور سرپلس گھٹ کر 7.83 کروڑ روپے کی سطح پر آ گیا۔ وہیں، گزشتہ مالی سال 26-2025 میں کمپنی کا ریزرو اور سرپلس زوردار چھلانگ لگا کر 16.45 کروڑ روپے کی سطح پر پہنچ گیا۔اسی طرح ای بی آئی ٹی ڈی اے (ارننگ بیفور انٹرسٹ، ٹیکسز، ڈیپریسی ایشنز اینڈ امورٹائزیشن) 24-2023 میں 5.38 کروڑ روپے کی سطح پر تھا، جو 25-2024 میں بڑھ کر 9.94 کروڑ روپے کی سطح پر آ گیا۔ گزشتہ مالی سال 26-2025 میں کمپنی کا ای بی آئی ٹی ڈی اے بڑھ کر 15.80 کروڑ روپے کی سطح پر پہنچ گیا۔ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / انظر حسن