
نئی دہلی، 12 اگست (ہ س)۔ آلو، پیاز جیسی کھانے پینے کی اشیا کی قیمتوں میں اضافے کے باعث خوردہ مہنگائی کی شرح میں مسلسل چوتھے ماہ اضافہ درج کیا گیا ہے۔ جولائی میں خوردہ مہنگائی کی شرح بڑھ کر 4.45 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔وزارت شماریات و پروگرام نفاذ کے مطابق غذائی اشیا کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے صارف قیمت اشاریہ (سی پی آئی) پر مبنی خوردہ مہنگائی کی شرح جولائی میں معمولی اضافے کے ساتھ 4.45 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔ اس سے گزشتہ ماہ جون میں یہ شرح 4.38 فیصد کی سطح پر تھی۔ اعداد و شمار کے مطابق جولائی میں غذائی مہنگائی بڑھ کر 5.52 فیصد ہوگئی، جو گزشتہ ماہ 5.32 فیصد رہی تھی۔ وزارت نے کہا کہ کھانے پینے کی اشیا کی قیمتوں میں اضافہ اس کی بڑی وجہ رہا ہے۔ جولائی کی خوردہ مہنگائی کی یہ شرح سی پی آئی کی نئی سیریز پر مبنی ہے، جس میں 2024 کو بنیادی سال مانا گیا ہے۔این ایس او کے مطابق دیہی بھارت میں مجموعی خوردہ مہنگائی جولائی میں 4.84 فیصد رہی، جبکہ جون میں یہ 4.74 فیصد تھی۔ شہروں میں مہنگائی 3.93 فیصد سے معمولی بڑھ کر 3.96 فیصد ہوگئی۔ کھانے پینے کی اشیا کے علاوہ کپڑے اور جوتے بھی دیہی علاقوں میں زیادہ مہنگے ہوئے ہیں۔ دیہی علاقوں میں ان کی مہنگائی کی شرح 3.97 فیصد رہی، جبکہ شہری علاقوں میں یہ 2.41 فیصد تھی۔ریزرو بینک آف انڈیا (آر بی آئی) کو خوردہ مہنگائی کی شرح کو دو فیصد کمی بیشی کے ساتھ چار فیصد پر برقرار رکھنے کی ذمہ داری دی گئی ہے۔ آر بی آئی نے اس ماہ کے آغاز میں مہنگائی سے متعلق خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے پالیسی ریٹ ریپو ریٹ کو 5.1 فیصد پر برقرار رکھا تھا۔ آر بی آئی نے مالی سال 2026-27 کے لیے مہنگائی کے اندازے کو 5.1 فیصد سے کم کرکے 5 فیصد کردیا ہے۔ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan