بیلسٹک میزائل اور خلائی لانچ سے 24 گھنٹے قبل اطلاع دینے کا مطالبہ
استنبول، 12 اگست(ہ س)۔ 41 ممالک کے ایک گروپ نے جوہری ہتھیار رکھنے والے ممالک سے طویل فاصلے تک مار کرنے والے بیلسٹک میزائلوں اور خلائی لانچ سے کم از کم 24 گھنٹے قبل اطلاع دینے کا مطالبہ کیا ہے۔ گروپ نے خبردار کیا ہے کہ پیشگی اطلاع کے بغیر میزائل ت
بیلسٹک میزائل اور خلائی لانچ سے 24 گھنٹے قبل اطلاع دینے کا مطالبہ


استنبول، 12 اگست(ہ س)۔

41 ممالک کے ایک گروپ نے جوہری ہتھیار رکھنے والے ممالک سے طویل فاصلے تک مار کرنے والے بیلسٹک میزائلوں اور خلائی لانچ سے کم از کم 24 گھنٹے قبل اطلاع دینے کا مطالبہ کیا ہے۔ گروپ نے خبردار کیا ہے کہ پیشگی اطلاع کے بغیر میزائل تجربات علاقائی امن اور عالمی سلامتی کے لیے سنگین خطرات پیدا کر سکتے ہیں۔

ترکی کی سرکاری خبر رساں ایجنسی انادولو اور دیگر میڈیا رپورٹس کے مطابق، جنیوا میں منعقدہ تخفیف اسلحہ کانفرنس میں دیے گئے مشترکہ بیان میں ممالک نے میزائلوں کے پھیلاؤ سے متعلق بڑھتی ہوئی تشویش پر زور دیا۔ یہ بیان منگل کے روز بین الاقوامی تنظیموں میں امریکی مشن کی جانب سے جاری کیا گیا۔

بیان میں دستخط کنندہ ممالک نے بیلسٹک میزائلوں کے پھیلاؤ کے خلاف ہیگ ضابطہ اخلاق (ایچ سی او سی) سمیت شفافیت اور اعتماد سازی کے اقدامات پر عمل کرنے کی اپیل کی۔ ان ممالک نے کہا کہ مناسب پیشگی اطلاع اور ضروری تفصیلات کے بغیر جوہری صلاحیت رکھنے والے بیلسٹک میزائلوں کا تجربہ خطرناک ہے۔ اس سے تجربے کے علاقے کے آس پاس موجود ممالک کے امن اور سلامتی کو متاثر کیا جا سکتا ہے۔

گروپ نے بحرالکاہل کے خطے میں حال ہی میں کیے گئے بغیر پیشگی اطلاع کے میزائل تجربات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ تصادم سے بچنے کے لیے قائم طریقہ کار پر عمل نہ کرنے سے غلط فہمی کا خطرہ بڑھتا ہے اور عالمی استحکام کمزور ہوتا ہے۔

یہ مشترکہ بیان ایسے وقت میں آیا ہے جب چین نے 6 جولائی کو بحرالکاہل کے کھلے سمندر میں اچانک ایک ایس ایل بی ایم لانچ کیا تھا، جس پر امریکہ اور دیگر ممالک نے تنقید کی تھی۔ بیان میں ممالک نے چین کا نام نہیں لیا۔ ستمبر 2024 میں بحرالکاہل میں ایک بین البراعظمی بیلسٹک میزائل (آئی سی بی ایم) کے تجربے کے بعد یہ چین کا دوسرا اسٹریٹجک میزائل تجربہ تھا۔ ستمبر 2024 کا تجربہ 1980 کے بعد چین کا اس نوعیت کا پہلا تجربہ تھا۔41 ممالک نے خاص طور پر جوہری ہتھیار رکھنے والے ممالک سے آئی سی بی ایم، آبدوز سے لانچ کیے جانے والے بیلسٹک میزائل (ایس ایل بی ایم)اور اسپیس لانچ وہیکل (ایس ایل وی( کے لانچ سے کم از کم 24 گھنٹے قبل اطلاع دینے کی اپیل کی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ مناسب پیشگی اطلاع کے بغیر جوہری صلاحیت رکھنے والے میزائلوں کے تجربات خطرناک ہوتے ہیں اور تجربے کے قریب موجود ممالک کے امن کو متاثر کرتے ہیں۔ ان کے مطابق پیشگی اطلاع میں میزائل یا لانچ وہیکل کی قسم، لانچ کے ممکنہ وقت کی مدت، لانچ کا علاقہ، متوقع پرواز کا راستہ، ملاحوں اور طیارہ پائلٹوں کے لیے واضح حفاظتی انتباہ وغیرہ شامل ہونا چاہیے۔

گروپ نے کہا کہ باقاعدہ اور شفاف اطلاع کا نظام کسی ملک کی فوجی صلاحیتوں یا آپریشنل ضروریات کو محدود نہیں کرتا۔ اس کے بجائے اس سے غلط فہمی کا خطرہ کم ہوتا ہے، باہمی اعتماد میں اضافہ ہوتا ہے اور بین الاقوامی سلامتی کے حوالے سے مشترکہ عزم مضبوط ہوتا ہے۔ گروپ نے یہ بھی کہا کہ اگر کوئی ملک اپنی بین الاقوامی ذمہ داریوں کے مطابق کام نہیں کرتا تو اسے جواب دہ ٹھہرایا جانا چاہیے۔

اس بیان پر دستخط کرنے والے ممالک میں امریکہ، البانیہ، آسٹریلیا، آسٹریا، بلجیم، بلغاریہ، کینیڈا، کروشیا، چیکیا، ڈنمارک، ایسٹونیا، فن لینڈ، فرانس، جرمنی، یونان، ہنگری، آئس لینڈ، اٹلی، جاپان، لٹویا، لتھوانیا، لکسمبرگ، مارشل آئی لینڈز، مونٹی نیگرو، نیدرلینڈز، نیوزی لینڈ، شمالی مقدونیہ، ناروے، پلاؤ، فلپائن، پولینڈ، پرتگال، جنوبی کوریا، رومانیہ، سلوواکیہ، سلووینیا، اسپین، سویڈن، ترکی، یوکرین اور برطانیہ شامل تھے۔دوسری جانب تخفیف اسلحہ کے امور کے لیے چین کے سفیر لی چھی چیانگ نے اس بیان کو مسترد کرتے ہوئے زور دیا کہ چین کی جائز اور مناسب دفاعی جدیدکاری پر سوال نہیں اٹھایا جانا چاہیے اور میزائل لانچ سے متعلق پیشگی اطلاع دینے میں بیجنگ کی نیک نیتی کا جغرافیائی سیاسی مفادات کے لیے غلط استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Mohammad Khan


 rajesh pande