جنوبی کوریا کے جوہری آبدوز منصوبے پر شمالی کوریا برہم، دی دھمکی
سیول، 12 اگست (ہ س)۔ شمالی کوریا نے جنوبی کوریا کی جوہری توانائی سے چلنے والی آبدوز تیار کرنے کے منصوبے کی سخت مخالفت کی ہے۔ پیانگ یانگ نے اسے جوہری ہتھیاروں کی صلاحیت حاصل کرنے کی سمت ایک قدم قرار دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ممکنہ خطرات کا مقابلہ ک
جنوبی کوریا کے جوہری آبدوز منصوبے پر شمالی کوریا برہم، دی دھمکی


سیول، 12 اگست (ہ س)۔ شمالی کوریا نے جنوبی کوریا کی جوہری توانائی سے چلنے والی آبدوز تیار کرنے کے منصوبے کی سخت مخالفت کی ہے۔ پیانگ یانگ نے اسے جوہری ہتھیاروں کی صلاحیت حاصل کرنے کی سمت ایک قدم قرار دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ممکنہ خطرات کا مقابلہ کرنے کے لیے وہ ’بے مثال جوابی طاقت‘ تیار کرے گا۔

جنوبی کوریا کی سرکاری خبر رساں ایجنسی یونہاپ کے مطابق، شمالی کوریا کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے سی این اے میں شائع ایک تبصرے میں وزارت خارجہ کے فرسٹ وائس منسٹر جانگ کِم چول نے جنوبی کوریا اور امریکہ کے درمیان جوہری تعاون کو نشانہ بنایا۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ سیول جوہری مواد کی پیداوار اور جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی سمت آگے بڑھ رہا ہے۔

جانگ کِم چول نے دعویٰ کیا کہ جنوبی کوریا کا مقصد جوہری ایندھن کی دوبارہ پروسیسنگ اور یورینیم افزودگی پر عائد پابندیوں سے آزاد ہوکر جوہری مواد تیار کرنے کی صلاحیت حاصل کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ کے ساتھ جنوبی کوریا کا جوہری تعاون جزیرہ نما کوریا میں عدم استحکام کو بڑھا سکتا ہے۔ شمالی کوریا نے اسے اپنی سلامتی اور سمندری خودمختاری کے لیے سنگین چیلنج قرار دیا ہے۔

شمالی کوریا کے عہدیدار نے خبردار کیا کہ پیانگ یانگ تمام موجودہ اور ممکنہ خطرات کو بے اثر کرنے کی صلاحیت حاصل کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ ملک کی اسٹریٹجک خودمختاری اور سلامتی کو چیلنج کرنے والی کسی بھی فوجی کارروائی کا ایسا جواب دیا جائے گا کہ مخالف دوبارہ کھڑے ہونے کی پوزیشن میں نہ رہے۔

جنوبی کوریا نے مئی میں ’جانگ بوگو این‘ پروگرام کا اعلان کیا تھا۔ اس کے تحت ملک اپنی پہلی جوہری توانائی سے چلنے والی آبدوز تیار کرے گا۔ جنوبی کوریا کا کہنا ہے کہ یہ منصوبہ شمالی کوریا سمیت خطے میں بڑھتے ہوئے فوجی خطرات سے نمٹنے اور اپنی بحری دفاعی صلاحیتوں کو مضبوط بنانے کی حکمت عملی کا حصہ ہے۔

امریکہ نے اس منصوبے کو آگے بڑھانے کے لیے جنوبی کوریا کو منظوری دے دی ہے۔ دونوں ممالک نے گزشتہ سال اکتوبر میں دونوں رہنماؤں کے درمیان طے پانے والے دفاعی معاہدے کو عملی شکل دینے کی سمت ابتدائی بات چیت بھی شروع کر دی ہے۔جنوبی کوریا کے منصوبے کے مطابق پہلی نیوکلیئر پاورڈ سب میرین کو 2030 کی دہائی کے وسط تک لانچ کیا جا سکتا ہے۔ اس کے بعد اسے دہائی کے اختتام تک باقاعدہ آپریشنل سروس میں شامل کرنے کا ہدف رکھا گیا ہے۔جنوبی کوریا کے اس اہم آبدوز منصوبے اور شمالی کوریا کے سخت ردعمل سے جزیرہ نما کوریا میں فوجی کشیدگی کے ساتھ ساتھ جوہری اور بحری سلامتی سے متعلق خدشات میں بھی اضافہ ہو سکتا ہے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Mohammad Khan


 rajesh pande