ایران کی اسٹریٹجک ترجیحات میں تبدیلی، جوہری پروگرام کے بجائے آبنائے ہرمز پر توجہ مرکوز
واشنگٹن، 12 اگست (ہ س)۔ ایران نے اپنی اسٹریٹجک ترجیحات میں اہم تبدیلی کی ہے اور اب اس کی توجہ جوہری پروگرام کے بجائے آبنائے ہرمز پر دباؤ اور کنٹرول قائم کرنے پر مرکوز ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ امریکی فوج کے ایک خفیہ انٹیلی جنس جائزے سے واقف دو امریکی
ایران ابنائے ہرمز


واشنگٹن، 12 اگست (ہ س)۔ ایران نے اپنی اسٹریٹجک ترجیحات میں اہم تبدیلی کی ہے اور اب اس کی توجہ جوہری پروگرام کے بجائے آبنائے ہرمز پر دباؤ اور کنٹرول قائم کرنے پر مرکوز ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ امریکی فوج کے ایک خفیہ انٹیلی جنس جائزے سے واقف دو امریکی حکام کے حوالے سے یہ دعویٰ سامنے آیا ہے۔

امریکی نشریاتی ادارے این بی سی نیوز کے مطابق، امریکی انٹیلی جنس جائزے میں کہا گیا ہے کہ تہران آبنائے ہرمز کو اپنے جوہری پروگرام کے مقابلے میں زیادہ مؤثر دباؤ کے ایک ذریعے کے طور پر دیکھ رہا ہے۔ اس تبدیلی کی ایک بڑی وجہ ایران کی جوہری تنصیبات پر ہونے والے حالیہ حملے بھی بتائے گئے امریکی فوجی حکام نے صدر ڈونالڈ ٹرمپ کو خبردار کیا ہے کہ آبنائے ہرمز پر مکمل کنٹرول قائم کرنے یا اسے زبردستی کھلوانے کے لیے فوجی کارروائی طویل اور انتہائی مہنگی ثابت ہو سکتی ہے۔ حکام کے مطابق ایسی کارروائی میں امریکی فوجیوں کی بڑی تعداد میں ہلاکت اور زخمی ہونے کا خدشہ ہے، جبکہ کامیابی کی بھی کوئی ضمانت نہیں۔ایک امریکی عہدیدار کے مطابق، آبنائے ہرمز کو فوجی طاقت کے ذریعے کھلوانے کے لیے تیار کیے گئے منصوبوں میں امریکی فوجیوں کو بھاری جانی نقصان پہنچنے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔ یہی خطرات ایران کے خلاف آئندہ اقدامات کے حوالے سے ٹرمپ اور ان کے مشیروں کے درمیان ہونے والی بات چیت میں اہم موضوع بنے ہوئے ہیں۔ تین یورپی اور خلیجی ممالک سے متعلق دو عرب حکام نے بھی امریکی جائزے کے ان خدشات سے اتفاق کیا ہے۔ ان کے مطابق فوجی طاقت کے ذریعے آبنائے ہرمز کو کھولنے کی کوشش انتہائی خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔

ممکنہ فوجی کارروائی کی صورت میں امریکی جنگی جہازوں کو کروز میزائلوں اور ڈرون حملوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ اس کے علاوہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں مزید اضافہ اور عالمی سپلائی چین پر دباؤ بڑھنے کا خدشہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔امریکی انتظامیہ کا دعویٰ ہے کہ آبنائے ہرمز اس وقت امریکی بحریہ کے کنٹرول میں ہے۔ ایک امریکی عہدیدار نے کہا کہ امریکی ناکہ بندی کے باعث ایران تک سامان کی رسائی محدود ہے اور کسی معاہدے یا مکمل ہتھیار ڈالنے تک اس صورت حال میں تبدیلی نہیں آئے گی۔تاہم اسی عہدیدار نے یہ بھی واضح کیا کہ آبنائے ہرمز ایک بین الاقوامی آبی گزرگاہ ہے اور اس پر کسی ایک ملک کا مکمل کنٹرول نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ عارضی بحری راستوں کے استعمال کے لیے کسی خصوصی منظوری یا فیس کی ضرورت نہیں ہوگی۔

صدر ٹرمپ بھی حال ہی میں دعویٰ کر چکے ہیں کہ امریکی بحریہ آبنائے ہرمز پر کنٹرول رکھتی ہے۔ انہوں نے امریکی ناکہ بندی کو ایک ’’ناقابلِ عبور فولادی دیوار‘‘ سے تعبیر کیا تھا۔

جنگ سے قبل کے مقابلے میں آبنائے ہرمز سے گزرنے والی بحری ٹریفک میں نمایاں کمی آئی ہے۔ اطلاعات کے مطابق گزشتہ ہفتے کے اختتام پر صرف 17 بحری جہاز اس اہم آبی گزرگاہ سے گزرے، جبکہ معمول کے حالات میں روزانہ تقریباً 100 بحری جہاز یہاں سے گزرتے تھے۔آبنائے ہرمز عالمی توانائی کی تجارت کے لیے انتہائی اہم ہے اور دنیا کی تقریباً 20 فیصد تیل اور گیس کی سپلائی اسی راستے سے گزرتی ہے۔ اس لیے یہاں جاری کشیدگی نے عالمی توانائی منڈیوں میں تشویش بڑھا دی ہے۔

آبنائے ہرمز میں کشیدگی کے ساتھ ایران اور امریکہ کے درمیان فوجی سرگرمیاں بھی جاری ہیں۔ ایران کی جانب سے بحری جہازوں کو نشانہ بنانے کی اطلاعات سامنے آ رہی ہیں، جبکہ امریکی افواج میزائلوں اور ڈرونز کو روکنے کی کوشش کر رہی ہیں۔طویل عرصے تک جاری رہنے والی کشیدگی کے باعث امریکی میزائل شکن نظام کے ذخیرے اور مسلسل حملوں کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت پر بھی سوالات اٹھنے لگے ہیں۔یہ امریکی انٹیلی جنس جائزہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران اور امریکہ کے درمیان سفارتی کوششیں تعطل کا شکار دکھائی دے رہی ہیں۔ دوسری جانب ایندھن اور بنیادی اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافے کے باعث عالمی معیشت پر جنگ کے اثرات بھی مسلسل گہرے ہوتے جا رہے ہیں۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Mohammad Khan


 rajesh pande