پاکستانی فضائی حملے میں بلوچستان کے سوراب میں 30 سے زائد افراد کی ہلاکت کا دعویٰ
اسلام آباد/سوراب، 12 اگست(ہ س)۔ پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے علاقے سوراب میں مبینہ پاکستانی فضائی حملے کے حوالے سے سنگین الزامات سامنے آئے ہیں۔ ''دی ریپبلک آف بلوچستان'' کی جانب سے جاری بیان میں دعوی کیا گیا ہے کہ سوراب کے علاقے گدار میں پاکستانی
ہلاکت


اسلام آباد/سوراب، 12 اگست(ہ س)۔ پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے علاقے سوراب میں مبینہ پاکستانی فضائی حملے کے حوالے سے سنگین الزامات سامنے آئے ہیں۔ 'دی ریپبلک آف بلوچستان' کی جانب سے جاری بیان میں دعوی کیا گیا ہے کہ سوراب کے علاقے گدار میں پاکستانی فضائیہ کی جانب سے شہری علاقوں کو نشانہ بنانے کے بعد 30 سے زائد افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہوئے ہیں۔

بیان میں حملے کے دوران خواتین اور بچوں سمیت شہری ہلاکتوں کا دعوی کیا گیا ہے۔ تنظیم نے دعوی کیا کہ پاک فوج اور فضائیہ نے سوراب اور اس کے آس پاس بڑے پیمانے پر بمباری اور فائرنگ کی، جس سے شہریوں اور املاک کو نقصان پہنچا۔

تنظیم نے یہ بھی الزام لگایا ہے کہ زخمی شہریوں کو سیکیورٹی فورسز نے حراست میں لیا ہے۔ اس دوران مقامی لوگوں اور اہلکاروں کو بھی راحت اور بچاو¿ کے کام سے روک دیا گیا تھا۔ اسپتالوں کو مبینہ طور پر فوجی اہلکاروں کے گھیرے میں لینے اور ڈاکٹروں پر دباو¿ ڈالنے کا دعوی کیا گیا ہے۔

اس کے علاوہ، مقامی رہائشیوں کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ ڈرون اور کوبرا گن شپ ہیلی کاپٹر علاقے میں گشت کر رہے ہیں۔ تنظیم کا دعوی ہے کہ انٹرنیٹ خدمات پہلے ہی بند ہیں اور زخمیوں کو بروقت طبی امداد نہ ملنے کی وجہ سے کچھ اموات بھی ہوئی ہیں۔

جمہوریہ بلوچستان نے بین الاقوامی برادری سے اپیل کی ہے کہ وہ اس معاملے کا نوٹس لے اور بلوچ شہریوں کی زندگیوں اور بنیادی حقوق کے تحفظ کے لیے مداخلت کرے۔

سوراب اور آس پاس کے علاقوں میں حالیہ مہینوں میں فوجی کارروائیوں اور پرتشدد واقعات کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ جولائی 2026 میں، پاکستانی فوج نے سوراب اور مستونگ میں کارروائیوں کے دوران 10 مشتبہ عسکریت پسندوں کو ہلاک کرنے کا دعوی کیاتھا۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / عبدالسلام صدیقی


 rajesh pande