
نئی دہلی/نیویارک، 11 اگست (ہ س)۔ ایک امریکی عدالت نے اڈانی گروپ کے چیئرمین گوتم اڈانی اور ان کے بھتیجے ساگر اڈانی کے خلاف سیکیورٹیز فراڈ سے متعلق مجرمانہ الزامات کو مستقل طور پر خارج کر دیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی مبینہ دھوکہ دہی اور رشوت معاملہ میں 2 سال سے جاری قانونی کارروائی اب ختم ہو گئی ہے۔
نیویارک کے مشرقی ضلع کے لیے امریکی ضلعی عدالت نے محکمہ انصاف کے قاعدہ 48 (اے) کے تحت استدعا کو قبول کرتے ہوئے فرد جرم میں شامل دوسرے، تیسرے اور چوتھے الزامات کو خارج کر دیا۔ جج نکولس گورافس نے استغاثہ سے مقدمہ واپس لینے کے فیصلے پر اضافی وضاحت طلب کرنے کے بعد محکمہ انصاف کی درخواست منظور کر لی۔ الزامات کو مستقل طور پر خارج کرنے کا مطلب یہ ہے کہ فوجداری کارروائی ہمیشہ کے لیے ختم ہو چکی ہے اور الزامات کو دوبارہ درج نہیں کیا جا سکتا۔ الزامات میں سیکیورٹیز فراڈ کرنے کی سازش،وائر فراڈ کرنے کی سازش اور سیکیورٹیز فراڈ شامل تھے۔
گوتم اڈانی نے فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اسے عاجزی اور عدالتی عمل کے لیے گہرے احترام کے ساتھ قبول کیا۔ اڈانی نے 'ایکس' پر ایک پوسٹ میں کہا، سچائی، انصاف پسندی اور قانون کی حکمرانی پر ہمارا یقین اس مشکل وقت میںبھی کبھی نہیں ڈ گا۔انہوں نے کہا کہ میں ان تمام لوگوں کا مشکور ہوں جنہوں نے ہم پر، نظام پر اور ہندوستان کے عدالتی نظام کی صلاحیت پر اعتماد برقرار رکھا۔ ہم اپنے ملک کی تعمیر، طویل مدتی اقدار پیدا کرنے اور اپنے سے بڑے مقصد کی تکمیل کے لیے کام کرتے رہیں گے۔ یہ ہمارا عہد ہے۔
مجرمانہ مقدمہ نومبر 2024 میں شروع ہوا، جب امریکی استغاثہ نے الزام لگایا کہ گوتم اڈانی، ساگر اڈانی، اڈانی گرین انرجی لمیٹڈ (اے جی ای ایل) کے سابق سی ای او ونیت جین اور دیگر ہندوستانی سرکاری اہلکاروں کو 25 کروڑ امریکی ڈالر رشوت دینے کی سازش میں ملوث تھے۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / عبدالسلام صدیقی