بھارتی خفیہ افسران کے بنگلہ دیش پہنچنے پر سوالات، رحمان حکومت نے قیاس آرائیوں کو مسترد کیا
ڈھاکہ، 11 اگست (ہ س)۔ بھارت کی اعلیٰ خفیہ ایجنسی ’را‘ (ریسرچ اینڈ اینالیسس ونگ ) کے افسران کی دارالحکومت ڈھاکہ میں حکومت اور دیگر ایجنسیوں کے نمائندوں سے ملاقات پر سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ اس معاملے پر وزیر اعظم طارق رحمان کے اطلاعات و نشریات کے مشیر
بھارتی خفیہ افسران کے بنگلہ دیش پہنچنے پر سوالات، رحمان حکومت نے قیاس آرائیوں کو مسترد کیا


ڈھاکہ، 11 اگست (ہ س)۔ بھارت کی اعلیٰ خفیہ ایجنسی ’را‘ (ریسرچ اینڈ اینالیسس ونگ ) کے افسران کی دارالحکومت ڈھاکہ میں حکومت اور دیگر ایجنسیوں کے نمائندوں سے ملاقات پر سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ اس معاملے پر وزیر اعظم طارق رحمان کے اطلاعات و نشریات کے مشیر ڈاکٹر زاہد الرحمٰن نے وضاحت پیش کی۔ انہوں نے اسے ”عام بات چیت“ قرار دیتے ہوئے اس دورے سے متعلق قیاس آرائیوں کو مسترد کر دیا۔

ڈھاکہ ٹریبیون اخبار کی رپورٹ کے مطابق مشیر ڈاکٹر زاہد الرحمٰن نے منگل کو اطلاعاتی شعبے کے کانفرنس روم میں ہفتہ وار بریفنگ کے دوران صحافیوں کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے کہا، ”اس معاملے میں بلاوجہ قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں۔“ اطلاعاتی مشیر نے بتایا کہ بھارتی افسران چین سے ڈھاکہ آئے تھے اور انہیں بنگلہ دیش کے متعلقہ حکام سے ملاقات کرنی تھی۔

انہوں نے کہا، ”مختلف ممالک کی خفیہ ایجنسیوں کے افسران کے درمیان اس طرح کا رابطہ ایک معمول کی بات ہے۔“ انہوں نے کہا کہ بنگلہ دیشی خفیہ افسران بھی پہلے بھارت کا دورہ کر چکے ہیں۔ تاہم زاہد نے زور دیتے ہوئے کہا کہ ایسی بات چیت بنگلہ دیش کی آزادی، خودمختاری اور خود اعتمادی کے دائرے میں ہونی چاہیے۔ انہوں نے کہا، ”پہلے جیسا رویہ، جس کے تحت کوئی بھارتی تنظیم یا ادارہ بنگلہ دیش میں کام کرتا تھا، اب نہیں چل سکتا۔“

زاہد نے کہا کہ اب بنگلہ دیش میں عوام کی منتخب حکومت ہے اور وہ قومی و عوامی مفاد کی قیمت پر کسی بھی ملک کے ساتھ تعلقات قائم نہیں کر سکتی۔ مشیر نے کہا کہ بنگلہ دیش کو بھارت کے ساتھ بات چیت اور رابطہ برقرار رکھنا چاہیے، کیونکہ دونوں ممالک پڑوسی ہیں، لیکن تعلقات کی نوعیت تبدیل ہونی چاہیے۔

انہوں نے کہا، ”دوست بدلے جا سکتے ہیں، لیکن پڑوسی نہیں بدلے جا سکتے۔ اس لیے بنگلہ دیش کا بھارت کے ساتھ رابطہ اور بات چیت جاری رہنی چاہیے۔ تاہم اس رشتے کی نوعیت تبدیل ہونی چاہیے۔“ انہوں نے کہا، ”میں نے بارہا تعلقات کو نئے سرے سے ترتیب دینے (ری الائنمنٹ) کی بات کی ہے۔ گزشتہ 17 برسوں میں جس طرح تعلقات برقرار رکھے گئے تھے، اب اس سے مختلف انداز میں تعلقات قائم کرنے ہوں گے۔“ انہوں نے کہا کہ بھارت کی وزارت خارجہ کے حالیہ بیان سے بھی ایسا لگتا ہے کہ بنگلہ دیش کی منتخب حکومت کی حقیقت کو اہمیت دی جا رہی ہے۔

زاہد نے یہ امید بھی ظاہر کی کہ ڈھاکہ میں بھارتی ہائی کمشنر بنگلہ دیش حکومت کا موقف نئی دہلی تک پہنچائیں گے۔ را افسران کے دورے سے متعلق نیوز پورٹل ’نارتھ ایسٹ نیوز‘ کی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ دارالحکومت ڈھاکہ میں پیر کو دو اہم ملاقاتیں ہوئیں۔ بھارتی ہائی کمشنر دنیش ترویدی نے وزیر اعظم طارق رحمان سے ملاقات کی۔ اسی دوران را کے سربراہ پراگ جین نے بنگلہ دیش سیکریٹریٹ میں طارق رحمان کے سکیورٹی مشیر بریگیڈیئر جنرل (ریٹائرڈ) ڈاکٹر اے کے ایم شمس الاسلام کے ساتھ اہم ملاقات کی۔

رپورٹ کے مطابق، را سربراہ جین کی قیادت میں بھارتی سکیورٹی افسران کا چار رکنی وفد ڈائریکٹوریٹ جنرل آف فورسز انٹیلی جنس (ڈی جی ایف آئی) کی دعوت پر بنگلہ دیش میں موجود ہے۔ ڈی جی ایف آئی بنگلہ دیش کی اہم فوجی خفیہ ایجنسی ہے۔ بھارتی وفد اتوار کی دوپہر سرکاری دورے پر ڈھاکہ پہنچا۔ اس نے ڈھاکہ کے حضرت شاہ جلال انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے راستے بنگلہ دیش میں داخلہ لیا۔ جین کے ساتھ اشون مکند کوٹنیس، راہل نیگی اور شیبل رائے چودھری بھی ہیں۔

یہ دورہ دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات اور سکیورٹی معاملات کو معمول پر لانے اور خفیہ معلومات کے تبادلے سے متعلق بتایا جا رہا ہے۔ را وفد کے دورے کو کئی اعتبار سے اہم قرار دیا جا رہا ہے۔ یہ دورہ نئی دہلی میں بنگلہ دیش کی معزول وزیر اعظم شیخ حسینہ کی ورچوئل پریس کانفرنس کے ایک ہفتے سے بھی کم وقت بعد ہوا ہے۔ حسینہ کہہ چکی ہیں کہ وہ دسمبر تک وطن واپس لوٹیں گی۔ اس سے پہلے نئی دہلی میں برکس اجلاس ہونا ہے، جس میں بنگلہ دیش کے وزیر اعظم طارق رحمان کی شرکت کا بھی امکان ہے، تاہم اس حوالے سے غیر یقینی صورتحال برقرار ہے۔ 5 اگست 2024 کو بنگلہ دیش چھوڑنے کے بعد سے شیخ حسینہ بھارت میں مقیم ہیں۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / عبدالواحد


 rajesh pande