ملکی مسٹ ڈیری فوڈز کا آئی پی او سبسکرپشن کے لیے کھلا، 17 اگست کو ہوسکتی ہے لسٹنگ
نئی دہلی، 11 اگست (ہ س)۔ ڈیری مصنوعات تیار کرنے اور مارکیٹنگ کرنے والی کمپنی ملکی مسٹ ڈیری فوڈ لمیٹڈ کا 1,553 کروڑ روپے کا آئی پی او آج سبسکرپشن کے لیے لانچکر دیا گیا۔ اس آئی پی او میں 13 اگست تک بولی لگائی جا سکتی ہے۔ ایشو کی کلوزنگ کے بعد 14 اگست
New-IPO-Milky-Mist-Dairy-Food


نئی دہلی، 11 اگست (ہ س)۔ ڈیری مصنوعات تیار کرنے اور مارکیٹنگ کرنے والی کمپنی ملکی مسٹ ڈیری فوڈ لمیٹڈ کا 1,553 کروڑ روپے کا آئی پی او آج سبسکرپشن کے لیے لانچکر دیا گیا۔ اس آئی پی او میں 13 اگست تک بولی لگائی جا سکتی ہے۔ ایشو کی کلوزنگ کے بعد 14 اگست کوشیئروں کا الاٹمنٹ کیا جائے گا، جبکہ الاٹ کیے گئے حصص 17 اگست کو ڈیمیٹ اکاؤنٹ میں کریڈٹ کر دیے جائیں گے۔ کمپنی کے حصص 18 اگست کو بی ایس ای اور این ایس ای پر لسٹ کیے جاسکتے ہیں۔ لانچنگ کے بعد، اس آئی پی او کودوپہر 1:15 بجے تک 40فیصد سبسکرپشن مل چکا تھا۔

اس آئی پی او میں بولی لگانے کے لیے پرائس بینڈ 133روپے سے کر 140 روپے فی شیئر طے کیا گیاہے، جس میں 107 شیئرز کا لاٹ سائز ہے۔ اس آئی پی او میں خوردہ سرمایہ کار کم سے کم ایک لاٹ سائز یعنی 107شیئروں کے لئے بولی لگا سکتے ہیں، جس کے لئے انہیں 14,980 روپے کی سرمایہ کاری کرنی ہوگی۔ اسی طرح، خوردہ سرمایہ کار 1,94,740 روپے کی سرمایہ کاری کے ساتھ 1,391 حصص پر مشتمل زیادہ سے زیادہ 13 لاٹ کے لیے بولی لگا سکتے ہیں۔

ملکی مسٹ ڈیری فوڈز کے اس آئی پی او کے تحت دو روپے فیس ویلیو والے کل 11,09,43,193 شیئرز جاری کیے جائیں گے۔ ان میں سے تقریباً 1,428 کروڑ روپے کے 10,20,14,623 نئے حصص جاری کیے جائیں گے۔ اس کے علاوہ 125 کروڑ روپے مالیت کے 89,28,570 شیئرز آفر فار سیل ونڈو کے ذریعے فروخت کیے جائیں گے۔ آئی پی او کا زیادہ سے زیادہ 50 فیصد اہل ادارہ جاتی خریداروں (کیو آئی بی ) کے لیے مختص کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ، کم از کم 35 فیصد خوردہ سرمایہ کاروں کے لیے اور کم از کم 15 فیصد غیر ادارہ جاتی سرمایہ کاروں (این آئی آئی ) کے لیے مختص ہے۔ اس ایشو کےلئے جے ایم فائنانشیل لمیٹڈ کو بک رننگ لیڈ منیجر بنایا گیا ہے۔ کیفن ٹیکنالوجیز لمیٹڈ رجسٹرار بنایا گیا ہے۔

ملکی مسٹ ڈیری فوڈ لمیٹڈ کی مالی حالت کے بارے بات کریں توپراسپیکٹس میں کئے گئے دعوے کے مطابق اس کی مالی حالت مسلسل مضبوط ہوئی ہے۔مالی سال 2023-24 میں، کمپنی نے 19.44 کروڑ روپے کا خالص منافع کمایا تھا، جو مالی سال 2024-25 میں بڑھ کر 46.07 کروڑ روپے ہو گیا۔ مالی سال2025-26 میں، کمپنی نے 127.01 کروڑ روپے کا خالص منافع کمایا۔ اس عرصے کے دوران کمپنی کی آمدنی کی وصولیوں میں مسلسل اضافہ ہوا ہے۔ مالی سال 2023-24 میں، اس نے 1,826.86 کروڑروپے کی کل آمدنی حاصل کی، جو 2024-25 کے مالی سال میں بڑھ کر 2,354.79 کروڑ روپے ہو گئی۔مالی سال 2025-26 میں، کمپنی نے 3,145.01 کروڑ روپے کی آمدنی حاصل کی۔

اس عرصے کے دوران کمپنی کے قرضوں میں بھی بتدریج اضافہ ہوا۔ مالی سال 2023-24 کے اختتام پر، کمپنی پر 1,036.72 کروڑ روپے قرض کا بوجھ تھا، جو مالی سال 2024-25 میں بڑھ کر 1,376.38 کروڑ روپے ہو گیا۔ پچھلے مالی سال، 2025-26 میں، اس مدت کے دوران کمپنی کے قرض کا بوجھ 1,671.85 کروڑ روپے تک پہنچ گیا۔ اس عرصے کے دوران کمپنی کی مجموعی مالیت میں بھی اضافہ ہوا۔ مالی سال 2023-24 میں، یہ 197.05 کروڑ روپے تھی۔ اسی طرح، 2024-25 میں، کمپنی کی مجموعی مالیت 242.77 کروڑ روپے تک بڑھ گئی۔ پچھلے مالی سال، 2025-26 میں، یہ ?378 کروڑ روپے تک پہنچ گئی ۔

کمپنی کے ریزرو اور سرپلس کے حوالے سے، کمپنی کو اس عرصے کے دوران اتار چڑھاو¿ کا سامنا کرنا پڑا۔ مالی سال 2023-24 میں، یہ 278.04 کروڑ روپے رہا۔ تاہم، اگلے سال، 2024-25 میں، کمپنی کے ذخائر اور سرپلس کم ہو کر 199.23 کروڑ روپے ہو گئے۔ پچھلے مالی سال، 2025-26 میں، کمپنی کے ریزرو اور سرپلس بڑھ کر 333.55 کروڑ روپے ہو گئے۔ اسی طرح ای بی آئی ٹی ڈی اے 2023-24 میں 222.33 کروڑ روپے تھا، جو 2024-25 میں بڑھ کر 310.35 کروڑ روپے ہو گیا۔ اسی طرح، پچھلے مالی سال، 2025-26 میں، یہ 435.22 کروڑ تھا۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / محمد شہزاد


 rajesh pande