منریگا میں اجرت کے 32.62 لاکھ روپے پرانی گاڑیوں کی دیکھ بھال پر خرچ، 321.84 کروڑ روپے مزدوروں کو نہیں ملے:کیگ
رانچی، 11 اگست (ہ س)۔ جھارکھنڈ میں مہاتما گاندھی نیشنل رورل ایمپلائمنٹ گارنٹی اسکیم (منریگا) کے نفاذ سے متعلق کنٹرولر اینڈ آڈیٹر جنرل آف انڈیا(کیگ) کی رپورٹ میں کئی سنگین بے ضابطگیاں سامنے آئی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق ریاست میں منریگا کی اجرت کے مد میں
منریگا میں اجرت کے 32.62 لاکھ روپے پرانی گاڑیوں کی دیکھ بھال پر خرچ، 321.84 کروڑ روپے مزدوروں کو نہیں ملے:کیگ


رانچی، 11 اگست (ہ س)۔ جھارکھنڈ میں مہاتما گاندھی نیشنل رورل ایمپلائمنٹ گارنٹی اسکیم (منریگا) کے نفاذ سے متعلق کنٹرولر اینڈ آڈیٹر جنرل آف انڈیا(کیگ) کی رپورٹ میں کئی سنگین بے ضابطگیاں سامنے آئی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق ریاست میں منریگا کی اجرت کے مد میں مختص 32.62 لاکھ روپے پرانی سرکاری گاڑیوں کی دیکھ بھال پر خرچ کردیے گئے۔ وہیں 2019 سے 2024 کے دوران غیر ہنرمند مزدوروں کو 321.84 کروڑ روپے کی اجرت ادا نہیں کی گئی۔

کیگ کی یہ رپورٹ جھارکھنڈ اسمبلی کے مانسون سیشن میں پیش کی گئی۔ رپورٹ میں 2019 سے 2024 کے دوران منریگا کے نفاذ، اس سے حاصل ہونے والے فوائد اور اسکیم کے مقررہ اہداف کی تکمیل کا جائزہ لیا گیا ہے۔

آڈٹ کے لیے ریاست کے چھ اضلاع—مشرقی سنگھ بھوم، گڑھوا، گریڈیہ، گوڈا، گملا اور پاکوڑ کا انتخاب کیا گیا تھا۔ ان اضلاع کے 12 بلاکس اور 48 گرام پنچایتوں میں منریگا کے تحت چلنے والے 480 منصوبوں کی زمینی سطح پر جانچ بھی کی گئی۔

رپورٹ کے مطابق گریڈیہ، گملا اور پاکوڑ اضلاع میں 2019 سے 2022 کے درمیان منریگا کی اجرت کے مد سے 32.62 لاکھ روپے پرانی گاڑیوں کی دیکھ بھال پر خرچ کیے گئے۔ اس رقم سے گاڑیوں کے ٹائر، بیٹری اور دیگر سامان تبدیل کیا گیا۔ کیگ نے اسے منریگا کے ضابطوں کے خلاف قرار دیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق اجرت کے مد میں مختص رقم مقررہ کاموں کے علاوہ کسی دوسرے مقصد کے لیے استعمال نہیں کی جاسکتی۔

کیگ کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 2019 سے 2024 کے دوران غیر ہنرمند مزدوروں کو 321.84 کروڑ روپے کی اجرت ادا نہیں کی گئی۔ آڈٹ کے دوران معلوم ہوا کہ مارچ 2025 تک بھی یہ رقم مزدوروں کو نہیں مل سکی تھی۔رپورٹ میں اجرت کی ادائیگی میں تاخیر کو مزدوروں کے مفادات سے متعلق سنگین معاملہ قرار دیتے ہوئے بروقت ادائیگی یقینی بنانے پر زور دیا گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق 2019 سے 2024 کے دوران منریگا کے تحت تقریباً 1.02 کروڑ منصوبے درج کیے گئے، لیکن ان میں سے صرف 27.96 لاکھ منصوبے ہی مکمل ہوسکے۔ اس طرح منصوبوں کی تکمیل کی شرح تقریباً 27 فیصد رہی۔مارچ 2024 تک منریگا کی اسکیموں پر 2,633 کروڑ روپے خرچ کیے گئے تھے۔ اس کے باوجود 50.21 لاکھ، یعنی تقریباً 49 فیصد منصوبے نامکمل پائے گئے۔ وہیں تقریباً 24 فیصد منصوبے شروع ہی نہیں کیے گئے تھے۔کیگ نے منصوبوں کے نفاذ اور نگرانی کے نظام میں بہتری کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے انہیں مقررہ مدت میں مکمل کرنے کی ہدایت دی ہے۔

منریگا کے تحت کام کا مطالبہ کرنے والے دیہی خاندانوں کو ایک مالی سال میں 100 دن تک روزگار فراہم کرنے کا التزام ہے۔ تاہم کیگ کے آڈٹ میں پایا گیا کہ ریاستی سطح پر صرف 2 سے 4 فیصد خاندان ہی 100 دن کا روزگار مکمل کر سکے۔آڈٹ کے لیے منتخب کیے گئے چھ اضلاع میں صورتحال مزید خراب رہی، جہاں صرف 1 سے 2 فیصد خاندانوں کو ہی 100 دن کا روزگار مل سکا۔کیگ کی رپورٹ میں منریگا کے تحت اجرت کی بروقت ادائیگی، منصوبوں کے مؤثر نفاذ اور دیہی خاندانوں کو مقررہ مدت تک روزگار فراہم کرنے کے نظام میں فوری بہتری کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Mohammad Khan

 rajesh pande