شیئر مارکیٹ میں اے جی ایس ٹیک کی شاندار انٹری، پریمیم لسٹنگ کے بعد سرمایہ کاروں کا زبردست فائدہ
نئی دہلی، 11 اگست (ہ س)۔ سولر پلانٹس کی صفائی کے لیے روبوٹک مشینیں تیار کرنے اور انٹیلی جنٹ آٹومیشن سیکٹر کے لیے کام کرنے والی کمپنی اے جی ایس ٹیکنالوجیز کے شیئرز نے آج شیئر مارکیٹ میں شاندار آغاز کیا۔ کمپنی کے شیئرز پریمیم پر لسٹ ہونے کے فوراً بعد
شیئر مارکیٹ میں اے جی ایس ٹیک کی شاندار انٹری، پریمیم لسٹنگ کے بعد سرمایہ کاروں کا زبردست فائدہ


نئی دہلی، 11 اگست (ہ س)۔ سولر پلانٹس کی صفائی کے لیے روبوٹک مشینیں تیار کرنے اور انٹیلی جنٹ آٹومیشن سیکٹر کے لیے کام کرنے والی کمپنی اے جی ایس ٹیکنالوجیز کے شیئرز نے آج شیئر مارکیٹ میں شاندار آغاز کیا۔ کمپنی کے شیئرز پریمیم پر لسٹ ہونے کے فوراً بعد اپر سرکٹ پر پہنچ گئے، جس سے آئی پی او میں سرمایہ کاری کرنے والے سرمایہ کاروں کو پہلے ہی دن اچھا منافع حاصل ہوا۔آئی پی او کے تحت کمپنی کے شیئرز 105 روپے فی شیئر کے حساب سے جاری کیے گئے تھے۔ منگل کو بی ایس ای کے ایس ایم ای پلیٹ فارم پر کمپنی کے شیئرز 18.57 فیصد پریمیم کے ساتھ 124.50 روپے کی سطح پر لسٹ ہوئے۔لسٹنگ کے بعد خریداری میں تیزی کے باعث شیئر کی قیمت کچھ ہی دیر میں بڑھ کر 130.70 روپے کے اپر سرکٹ کی سطح پر پہنچ گئی۔ اس طرح پہلے ہی دن آئی پی او سرمایہ کاروں کو فی شیئر 25.70 روپے یعنی 24.48 فیصد کا منافع حاصل ہوا۔ اے جی ایس ٹیکنالوجیز کا 23.71 کروڑ روپے کا آئی پی او 4 سے 6 اگست کے درمیان سبسکرپشن کے لیے کھولا گیا تھا۔ آئی پی او کو سرمایہ کاروں کی جانب سے زبردست ردعمل ملا اور یہ مجموعی طور پر 29.91 گنا سبسکرائب ہوا۔کوالیفائیڈ انسٹی ٹیوشنل بائرز(کیو آئی بی) کے لیے مختص حصہ 23.88 گنا، نان انسٹی ٹیوشنل انویسٹرز(این آئی آئی) کا حصہ 48.05 گنا جبکہ ریٹیل سرمایہ کاروں کے لیے مختص حصہ 25.59 گنا سبسکرائب ہوا۔آئی پی او کے تحت 10 روپے فیس ویلیو والے مجموعی طور پر 22,58,400 نئے شیئرز جاری کیے گئے ہیں۔ کمپنی کے مطابق آئی پی او سے حاصل ہونے والی رقم کا استعمال پروڈکٹ ڈیولپمنٹ، پروجیکٹس کے لیے نئی زمین کی خریداری، سول ورک کے ذریعے مینوفیکچرنگ سہولت تیار کرنے، ورکنگ کیپیٹل کی ضروریات پوری کرنے اور عام کارپوریٹ مقاصد کے لیے کیا جائے گا۔سیبی کے پاس جمع کرائے گئے ڈرافٹ ریڈ ہیرنگ پراسپیکٹس میں دی گئی معلومات کے مطابق کمپنی کی مالی حالت میں گزشتہ چند برسوں کے دوران نمایاں بہتری آئی ہے۔مالی سال 2023-24 میں کمپنی کو 93 لاکھ روپے کا خالص منافع ہوا تھا، جو 2024-25 میں بڑھ کر 1.39 کروڑ روپے ہوگیا۔ گزشتہ مالی سال 2025-26 میں کمپنی کا خالص منافع مزید بڑھ کر 4.02 کروڑ روپے تک پہنچ گیا۔کمپنی کی آمدنی میں بھی مسلسل اضافہ دیکھا گیا۔ مالی سال 2023-24 میں کمپنی کی مجموعی آمدنی 15.28 کروڑ روپے تھی، جو 2024-25 میں بڑھ کر 21.90 کروڑ روپے ہوگئی۔ مالی سال 2025-26 میں کمپنی نے 41.22 کروڑ روپے کی آمدنی حاصل کی۔کمپنی پر موجود قرض میں معمولی اتار چڑھاؤ کے بعد گزشتہ مالی سال میں نمایاں اضافہ ہوا۔ مالی سال 2023-24 کے اختتام پر کمپنی پر 4.16 کروڑ روپے کا قرض تھا، جو 2024-25 میں معمولی کم ہوکر 4.10 کروڑ روپے رہ گیا۔ تاہم 2025-26 میں قرض کا بوجھ بڑھ کر 11.93 کروڑ روپے ہوگیا۔کمپنی کا ریزرو اور سرپلس مالی سال 2023-24 کے اختتام پر 5.82 کروڑ روپے تھا، جو 2024-25 میں کم ہوکر 5.30 کروڑ روپے ہوگیا۔ تاہم 2025-26 میں یہ بڑھ کر 9.28 کروڑ روپے تک پہنچ گیا۔اسی طرح کمپنی کے نیٹ ورتھ میں بھی مسلسل اضافہ ہوا۔ مالی سال 2023-24 میں نیٹ ورتھ 5.83 کروڑ روپے تھا، جو 2024-25 میں بڑھ کر 11.42 کروڑ روپے اور 2025-26 میں 15.40 کروڑ روپے تک پہنچ گیا۔کمپنی کے ای بی آئی ٹی ڈی اے میں بھی نمایاں بہتری ریکارڈ کی گئی۔ مالی سال 2023-24 میں ای بی آئی ٹی ڈی اے 1.66 کروڑ روپے تھا، جو 2024-25 میں بڑھ کر 3.13 کروڑ روپے اور 2025-26 میں مزید بڑھ کر 6.48 کروڑ روپے ہوگیا۔ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Mohammad Khan


 rajesh pande