ٹرمپ کا دعویٰ-آبنائے ہرمز پر امریکہ کا 100 فیصد کنٹرول
واشنگٹن، 11 اگست (ہ س)۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ آبنائے ہرمز پر اس وقت صرف امریکی بحریہ کا کنٹرول ہے۔ انہوں نے وائٹ ہاو¿س میں ایک تقریب کے دوران کہا،”فی الحال آبنائے ہرمز پر صرف امریکی بحریہ کا کنٹرول ہے۔ ہماری ناکہ بندی ناقابل تس
Hormuz-US-control-Trump


واشنگٹن، 11 اگست (ہ س)۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ آبنائے ہرمز پر اس وقت صرف امریکی بحریہ کا کنٹرول ہے۔ انہوں نے وائٹ ہاو¿س میں ایک تقریب کے دوران کہا،”فی الحال آبنائے ہرمز پر صرف امریکی بحریہ کا کنٹرول ہے۔ ہماری ناکہ بندی ناقابل تسخیر ہے، یہ فولاد کی دیوار کی طرح ہے۔ اس آبنائے پر ہمارا 100 فیصد کنٹرول ہے۔“

گلف نیوز کی رپورٹ کے مطابق صدر ٹرمپ نے کہا”ایران جنگ سے مکمل طور پر دیوالیہ ہو چکا ہے۔ وہ اپنے فوجیوں کو تنخواہ نہیں ادا کر پا رہا ہے۔ وہاں افراط زر کی شرح 300 فیصد ہے۔ امریکہ نے آبنائے ہرمز سے بارودی سرنگیں ہٹا دی ہیں۔یہ آبی گزرگاہ اب غیر ایرانی بحری جہازوں کے لیے کھلی ہے۔ ناکہ بندی کے تحت جہازوں کو ایرانی بندرگاہوں میں داخلے کی اجازت نہیں ہے۔ جہاز رانی کی دیگر خدمات جاری ہیں“۔

اہم بات یہ ہے کہ امریکی ناکہ بندی پہلی بار اپریل 2026 میں لگائی گئی تھی۔ اسے ایک عبوری معاہدے کے تحت جون کے وسط میں عارضی طور پر ہٹا لیا گیا تھا۔ بحری جہازوں پر حملوں کے بعد جولائی کے وسط میں اسے دوبارہ نافذ کیا گیا ۔ دریں اثنا، امریکی سینٹرل کمانڈ نے اگست کے اوائل تک 20 سے زیادہ جنگی جہازوں کو خطے میں تعینات کرنے اور درجنوں تجارتی جہازوں (حالیہ اعداد و شمار کے مطابق تقریباً 55) کا رخ موڑنے کی اطلاع دی۔

کمانڈ نے کہا کہ آبنائے ہرمز عالمی توانائی کی سپلائی کے لیے ایک اہم اور حساس راستہ ہے۔ ٹرمپ کے تازہ ترین تبصرے ایرانی بندرگاہوں اور ساحلی علاقوں سے آنے جانے والے سمندری ٹریفک کو نشانہ بنا نے والی امریکی بحری ناکہ بندی کے درمیان سامنے آئے ہیں۔ ایران نے آبی گزرگاہ کے کنٹرول کو چیلنج کیا ہے اور اسے مکمل طور پر دوبارہ کھولنے کی شرط رکھی ہے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / محمد شہزاد


 rajesh pande