جاسوسی کے الزام میں چین کے دو سابق فوجی افسران جنوبی کوریا میں گرفتار
سوون (جنوبی کوریا)، 11 اگست (ہ س)۔ جنوبی کوریا کی پولیس نے چین کے دو سابق فوجی افسران کو جاسوسی اور فوجی راز سے متعلق معلومات افشا کرنے کے الزام میں گرفتار کیا ہے۔ دونوں پر جنوبی کوریا کے فوجی اڈوں سے متعلق حساس معلومات حاصل کرنے اور جنوبی کوریا و
جاسوسی کے الزام میں چین کے دو سابق فوجی افسران جنوبی کوریا میں گرفتار


سوون (جنوبی کوریا)، 11 اگست (ہ س)۔ جنوبی کوریا کی پولیس نے چین کے دو سابق فوجی افسران کو جاسوسی اور فوجی راز سے متعلق معلومات افشا کرنے کے الزام میں گرفتار کیا ہے۔ دونوں پر جنوبی کوریا کے فوجی اڈوں سے متعلق حساس معلومات حاصل کرنے اور جنوبی کوریا و امریکہ کی مشترکہ فوجی مشقوں کے بارے میں معلومات جمع کرنے کا الزام ہے۔جنوبی کوریا کی سرکاری خبر رساں ایجنسی یونہاپ کے مطابق گیونگ گی جنوبی صوبے کی پولیس نے بتایا کہ گرفتار مشتبہ افراد میں ایک 60 سالہ چینی شہری بھی شامل ہے۔ اس پر دشمن کو فائدہ پہنچانے اور مواصلاتی رازداری سے متعلق قوانین کی خلاف ورزی کا شبہ ہے۔

یہ شخص جنوری 2024 سے سیاحتی ویزا پر کئی مرتبہ جنوبی کوریا آیا۔ اس نے جنوب مغربی شہر گنسان میں ہوائی اڈے کے قریب واقع ایک ہوٹل سے جنوبی کوریا اور امریکی جنگی طیاروں کے درمیان ہونے والی ریڈیو گفتگو اور ایئر ٹریفک کنٹرول ٹاور کے مواصلات کو مبینہ طور پر سنا۔گنسان ہوائی اڈے پر جنوبی کوریا اور امریکی فضائی افواج کے فوجی وسائل تعینات ہیں۔ پولیس کے مطابق مشتبہ شخص نے چین کی پیپلز لبریشن آرمی (پی ایل اے) میں کئی برس خدمات انجام دینے کے بعد ریٹائرمنٹ لی تھی۔ اس کے جنوبی کوریا آنے کا وقت جنوبی کوریا اور امریکہ کی فضائی افواج کی معمول کی مشترکہ فوجی مشقوں سے بھی میل کھاتا ہے۔

پوچھ گچھ کے دوران مشتبہ شخص نے دعویٰ کیا کہ طیاروں کے درمیان ہونے والی گفتگو سننا صرف اس کا ’’شوق‘‘ تھا۔ تاہم پولیس اس بات کی تحقیقات کر رہی ہے کہ آیا اس نے کوئی حساس معلومات حاصل کیں اور کیا یہ معلومات چینی حکام تک پہنچائی گئیں۔ پولیس یہ بھی جانچ رہی ہے کہ آیا اس سرگرمی میں کوئی اور شخص بھی شامل تھا۔

گرفتار کیے گئے دوسرے مشتبہ شخص کی عمر 45 سال ہے۔ وہ چینی شہری اور نسلی طور پر کوریائی باشندہ ہے۔ پولیس نے اسے بھی دشمن کو فائدہ پہنچانے اور فوجی اڈوں کی سلامتی سے متعلق قوانین کی خلاف ورزی کے شبہ میں گرفتار کیا ہے۔

الزام ہے کہ اس نے سیول سے تقریباً 60 کلومیٹر جنوب میں واقع امریکی فوجی اڈے کیمپ ہمفریز میں کام کرنے والی ایک جنوبی کوریائی خاتون کو اپنے ساتھ شامل کیا۔ خاتون کے ذریعے اس نے جنوبی کوریا اور اس کے اتحادی ممالک کی مشترکہ فوجی مشقوں سے متعلق خفیہ معلومات حاصل کرنے کی کوشش کی۔پولیس کے مطابق مشتبہ شخص نے نومبر 2021 سے رواں سال مئی تک اپنی شناخت چھپا کر سرگرمیاں انجام دیں۔ وہ امریکی فوجی اڈے کے قریب فوجی سامان کی ایک دکان چلاتا تھا اور مبینہ طور پر خود کو پی ایل اے کا ریٹائرڈ افسر ظاہر کرتا تھا۔جنوبی کوریا کے فوجداری قانون کے تحت دشمن کو فائدہ پہنچانے کے جرم میں عمر قید یا کم از کم تین سال قید کی سزا ہوسکتی ہے۔

مواصلاتی رازداری کے تحفظ سے متعلق قانون کی خلاف ورزی پر ایک سے 10 سال تک قید یا پانچ سال تک بعض قانونی اہلیتوں سے محروم کرنے کی سزا ہوسکتی ہے۔ فوجی اڈوں کی سلامتی سے متعلق قانون کی خلاف ورزی پر زیادہ سے زیادہ تین سال قید یا 30 ملین وون (تقریباً 21,200 امریکی ڈالر) تک جرمانہ ہوسکتا ہے۔پولیس نے کہا ہے کہ معاملے کی تحقیقات جاری ہیں اور یہ معلوم کرنے کی کوشش کی جارہی ہے کہ آیا دونوں مشتبہ افراد کی سرگرمیاں کسی وسیع جاسوسی نیٹ ورک کا حصہ تھیں یا نہیں۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Mohammad Khan


 rajesh pande