متحدہ عرب امارات کے الظفرہ ایئر بیس پر ایران کا شدید حملہ ، ایئر بیس کا سیکیورٹی نظام متاثر ہونے کا امکان
تہران، 10 اگست (ہ س)۔ ایران نے ’آپریشن ٹرو پرامس 4‘ کے تحت متحدہ عرب امارات (یو اے ای) میں واقع الظفرہ ایئر بیس کو نشانہ بنایا ہے۔ الظفرہ ایئر بیس ابوظہبی سے تقریباً 30 کلومیٹر دور واقع ہے اور خلیجی خطے میں امریکی فوجی کارروائیوں کے لیے اسٹریٹجک اع
متحدہ عرب امارات کے الظفرہ ایئر بیس پر ایران کا شدید حملہ ، ایئر بیس کا سیکیورٹی نظام متاثر


تہران، 10 اگست (ہ س)۔ ایران نے ’آپریشن ٹرو پرامس 4‘ کے تحت متحدہ عرب امارات (یو اے ای) میں واقع الظفرہ ایئر بیس کو نشانہ بنایا ہے۔ الظفرہ ایئر بیس ابوظہبی سے تقریباً 30 کلومیٹر دور واقع ہے اور خلیجی خطے میں امریکی فوجی کارروائیوں کے لیے اسٹریٹجک اعتبار سے اہم سمجھا جاتا ہے۔ یہاں لڑاکا طیاروں، نگرانی اور ڈرون صلاحیتوں کے ساتھ ساتھ کمانڈ، مواصلات اور ایئر ڈیفنس سے متعلق فوجی سہولیات موجود ہیں۔ ایران نے اس اڈے پر میزائلوں اور ڈرونز سے حملے کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

ایران کی خبر رساں ایجنسی فارس نے ایک رپورٹ کے حوالے سے بتایا کہ 28 فروری 2026 کو ایران کی جوابی فوجی کارروائی شروع ہونے کے بعد الظفرہ ایئر بیس پر کئی مرتبہ ڈرون حملے کیے گئے۔ ایرانی فریق کے مطابق، اسلامی انقلابی گارڈ کور (آئی آر جی سی) کی ایرو اسپیس فورس نے بڑی تعداد میں ڈرونز کا استعمال کرتے ہوئے بیس کے سکیورٹی نظام کو چیلنج کیا۔

ان حملوں میں ’شہید-136‘ جیسے حملہ آور ڈرونز کے استعمال کا بھی دعویٰ کیا گیا ہے۔ ایرانی دعووں کے مطابق، ڈرونز کی بڑی تعداد نے کثیر سطحی ایئر ڈیفنس نظام پر دباؤ ڈالا اور کچھ حملے اپنے اہداف تک پہنچنے میں کامیاب رہے۔

سیٹلائٹ تصاویر کا حوالہ دیتے ہوئے رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ حملوں کے بعد بیس کے کچھ حصوں میں نقصان کے آثار دکھائی دیے۔ ان میں امریکی فوجی طیاروں اور ڈرونز سے متعلق علاقے، ہینگرز اور کمانڈ و مواصلات سے متعلق بنیادی ڈھانچہ شامل ہونے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔

تاہم، ان تمام فوجی نظاموں کے مکمل طور پر تباہ ہونے کے دعوے کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہوئی ہے۔ سیٹلائٹ تصاویر کسی علاقے میں نقصان کے آثار تو دکھا سکتی ہیں، لیکن ان سے کسی مخصوص ہتھیار کے نظام یا فوجی صلاحیت کے مکمل طور پر تباہ ہونے کی تصدیق اکثر ممکن نہیں ہوتی۔

الظفرہ پر حملوں کی اہمیت اس لیے بھی بڑھ جاتی ہے کیونکہ یہ خلیجی خطے میں امریکی فوجی موجودگی کا ایک اہم مرکز ہے۔ ایسے حملے امریکی اور اتحادی افواج کی نگرانی، کمانڈ، ایئر ڈیفنس اور لاجسٹک صلاحیتوں کو متاثر کرسکتے ہیں۔

ایران کی ڈرون حکمت عملی نے یہ بھی ظاہر کیا ہے کہ بڑی تعداد میں نسبتاً کم لاگت والے ڈرونز کا استعمال جدید اور کثیر سطحی ایئر ڈیفنس کو چیلنج کرنے کے لیے کیا جا سکتا ہے۔ تاہم، کسی بھی فوجی مہم کی حقیقی اثر پذیری کا اندازہ صرف حملوں کی تعداد یا نقصان کے دعووں سے نہیں، بلکہ متاثرہ فوجی صلاحیتوں اور ان کے دوبارہ فعال ہونے کی صورتحال سے لگایا جاتا ہے۔

الظفرہ پر حملوں کے دعووں نے خلیجی خطے میں امریکی فوجی تنصیبات کی سکیورٹی کو لے کر نئے سوالات پیدا کر دیے ہیں۔ اگر ایسے حملے طویل عرصے تک جاری رہتے ہیں تو اس سے امریکہ اور اس کے اتحادیوں کو ایئر ڈیفنس، فوجی تعیناتی اور کمانڈ ڈھانچے کو مزید مضبوط کرنے کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔

’آپریشن ٹرو پرامس 4‘ میں ڈرونز اور میزائلوں کے استعمال کو ایران کی وسیع تر جوابی حکمت عملی کا حصہ سمجھا جا رہا ہے۔ اس کے نتیجے میں خلیج فارس میں فوجی توازن، مزاحمتی صلاحیت اور علاقائی سیکیورٹی کے معاملات پر طویل مدتی اثرات مرتب ہونے کا امکان ہے۔

تاہم، الظفرہ ایئر بیس کے اندر ہونے والے حقیقی نقصان، تباہ ہونے والے دفاعی سسٹم اور امریکی فوجی صلاحیتوں پر پڑنے والے اثرات سے متعلق متعدد دعووں کی آزاد ذرائع سے مکمل طور پر تصدیق ہونا ابھی باقی ہے۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / عبدالواحد


 rajesh pande