سعودی عرب میں صوفہ فیکٹری میں آگ لگنے سے 16 بنگلہ دیشیوں کی موت
ڈھاکہ، 10 اگست (ہ س)۔ سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض کے خوردم علاقے میں اتوار کو صوفہ بنانے والی ایک فیکٹری میں آگ لگنے سے کم از کم 16 بنگلہ دیشی تارکین وطن مزدوروں کی موت ہو گئی۔ بنگلہ دیش کی وزارت برائے تارکین وطن بہبود و بیرون ملک روزگار نے پیر
سعودی عرب میں صوفہ فیکٹری میں آگ لگنے سے 16 بنگلہ دیشیوں کی موت


ڈھاکہ، 10 اگست (ہ س)۔

سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض کے خوردم علاقے میں اتوار کو صوفہ بنانے والی ایک فیکٹری میں آگ لگنے سے کم از کم 16 بنگلہ دیشی تارکین وطن مزدوروں کی موت ہو گئی۔ بنگلہ دیش کی وزارت برائے تارکین وطن بہبود و بیرون ملک روزگار نے پیر کو سعودی عرب کے فائر سروس محکمہ کے حوالے سے حادثے کی تصدیق کی۔

بنگلہ دیش کے انگریزی اخبار پرتھوم آلو اور ترکی کی سرکاری خبر رساں ایجنسی اناطولیہ نے وزارت کے حوالے سے بتایا کہ ہلاک ہونے والوں میں 10 افراد شمالی بنگلہ دیش کے نواگاوں ضلع کے رہنے والے تھے، جبکہ دیگر افراد نٹور اور راجشاہی اضلاع سے تعلق رکھتے تھے۔ نواگاوں کے ڈپٹی کمشنر محمد سیف الاسلام نے بتایا کہ ضلع کے ہلاک شدگان میں سے 10 افراد اترائی اپ ضلع کے رہنے والے تھے۔ ہلاک ہونے والوں کی عمریں تقریباً 25 سے 35 سال کے درمیان بتائی جا رہی ہیں۔

نٹور کے نل ڈانگا اپ ضلع کے حکام نے بھی تین ہلاک شدگان کی شناخت کی ہے۔ ان میں صابر حسین شوو، شمیم حسین اور ربیع الاول ہِردو شامل ہیں۔ تینوں کھجورا یونین کے مختلف دیہات کے رہنے والے تھے۔

بتایا گیا ہے کہ فیکٹری میں اتوار کو بنگلہ دیشی وقت کے مطابق دوپہر تقریباً 3:30 بجے آگ لگی۔ آگ لگنے کی وجوہات کا فوری طور پر پتہ نہیں چل سکا ہے۔ حادثے کے بعد سعودی حکام نے راحت اور بچاؤ کا آپریشن شروع کیا۔

تارکین وطن بہبود اور بیرون ملک روزگار کے وزیر عارف الحق چودھری نے حادثے پر گہرے دکھ کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ روزگار کی تلاش میں سعودی عرب گئے بنگلہ دیشی شہریوں کی اس طرح قبل از وقت موت انتہائی افسوسناک ہے۔

وزیر نے حکام کو ہدایت دی ہے کہ لاشوں کو بنگلہ دیش لانے کے عمل میں تیزی لائی جائے اور متاثرہ خاندانوں کو ضروری سرکاری امداد اور معاوضہ فراہم کیا جائے۔

ریاض میں واقع بنگلہ دیشی سفارت خانے کے حکام جائے حادثہ پر پہنچ چکے ہیں اور ہلاک شدگان کی شناخت اور لاشوں کو واپس لانے کی کارروائی کے لیے سعودی حکام کے ساتھ رابطہ کر رہے ہیں۔ بنگلہ دیش کی وزارت خارجہ بھی صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہے۔

سعودی عرب بنگلہ دیشی تارک وطن مزدوروں کے لیے روزگار کے سب سے بڑے مراکز میں سے ایک ہے۔ بنگلہ دیش کے تقریباً 35 لاکھ شہری وہاں رہتے اور کام کرتے ہیں۔ ان میں بڑی تعداد کم ہنر مند اور محنت پر مبنی شعبوں میں کام کرنے والے تارکین وطن کی ہے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / عطاءاللہ


 rajesh pande