بینکرز بکس ایویڈنس بل کو پارلیمنٹ کی منظوری
نئی دہلی، 10 اگست (ہ س)۔ راجیہ سبھا نے بینکرز بکس ایویڈنس بل-2026 کو زبردست ہنگامے کے درمیان پیر کو صوتی ووٹ سے منظور کر دیا۔ لوک سبھا سے یہ بل پہلے ہی منظور ہو چکا ہے۔ اس سے قبل مرکزی وزیر خزانہ نرملا سیتارمن نے آج راجیہ سبھا میں ’بینکرز بکس ایوی
بینکرز بکس ایویڈنس بل کو پارلیمنٹ کی منظوری


نئی دہلی، 10 اگست (ہ س)۔ راجیہ سبھا نے بینکرز بکس ایویڈنس بل-2026 کو زبردست ہنگامے کے درمیان پیر کو صوتی ووٹ سے منظور کر دیا۔ لوک سبھا سے یہ بل پہلے ہی منظور ہو چکا ہے۔

اس سے قبل مرکزی وزیر خزانہ نرملا سیتارمن نے آج راجیہ سبھا میں ’بینکرز بکس ایویڈنس بل-2026‘ کو غور اور منظوری کے لیے پیش کیا۔ وزیر خزانہ نے راجیہ سبھا میں بل پر ہونے والی بحث کا جواب دیتے ہوئے بتایا کہ یہ بل بینکروں کی کتابوں سے متعلق شواہد کے لیے قانون وضع کرنے، اسے موجودہ ڈیجیٹل بینکنگ کے طریقہ کار کے مطابق بنانے اور اس سے متعلق تمام معاملات کے لیے دفعات فراہم کرتا ہے۔

بینکرز بکس ایویڈنس بل کو 5 اگست 2026 کو لوک سبھا پہلے ہی منظور کر چکی ہے۔ یہ نیا بل 135 سال پرانے نوآبادیاتی دور کے ’بینکرز بکس ایویڈنس ایکٹ، 1891‘ کی جگہ لے گا۔ اس کے تحت اب عدالتوں میں بینکنگ سے متعلق ڈیجیٹل، ورچوئل اور کلاؤڈ پر مبنی ریکارڈ کو قانونی ثبوت کے طور پر تسلیم کیا جائے گا۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / عبدالواحد


 rajesh pande