
نئی دہلی، 10 اگست (ہ س)۔ پارلیمنٹ نے پیر کو ’ٹیکسیشن اور دیگر قوانین (ترمیمی) بل-2026‘ کو صوتی ووٹ سے منظور کرلیا۔ راجیہ سبھا نے بل پر بحث کے بعد اسے لوک سبھا کو واپس بھیج دیا۔ اس بل میں غیر ملکی سرمایہ کاری کے قوانین، ڈیجیٹل ادائیگی (یو پی آئی/ایم ڈی آر)، خام ہیروں کی تجارت میں رعایت اور آر ای آئی ٹی/اِن وِٹس پر ٹیکس سے متعلق تبدیلیاں شامل ہیں۔ لوک سبھا پہلے ہی اسے منظوری دے چکی تھی۔
وزیر خزانہ نرملا سیتارمن نےٹیکسیشن اور دیگر قوانین (ترمیمی) بل پر بحث کا جواب دیتے ہوئے واضح کیا کہ اس قانون میں یو پی آئی پر کوئی ٹیکس عائد نہیں کیا گیا ہے اور ڈیجیٹل ادائیگی کا نظام مفت برقرار رہے گا۔ گزشتہ ہفتے لوک سبھا سے منظور ہونے والے اس بل کو راجیہ سبھا نے وزیر خزانہ کے جواب اور مختصر بحث کے بعد ’وائس ووٹ‘ (زبانی ووٹنگ) کے ذریعے لوک سبھا کو واپس بھیج دیا۔
سیتارمن نے راجیہ سبھا میں اس بل پر بحث کے دوران زور دے کر کہا کہ اس میں یو پی آئی پر کسی بھی طرح کے ٹیکس یا لین دین چارج کی کوئی تجویز نہیں ہے۔ وزیر خزانہ نے کہا، کیا صارف کو کوئی یو پی آئی چارج دینا ہوگا؟ نہیں۔ سیتارمن نے ایوان کو بتایا کہ یو پی آئی اپنے آغاز کے وقت سے ہی صارفین کے لیے مفت رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہر ہندوستانی بغیر کسی لین دین چارج کے اس فوری ڈیجیٹل سہولت کا استعمال کرتا رہے گا۔
قابل ذکر ہے کہ راجیہ سبھا نے ’ٹیکسیشن اور دیگر قوانین (ترمیمی) بل، 2026‘ پر غور کیا اور اسے لوک سبھا کو واپس بھیج دیا۔ چونکہ اسے ’مالیاتی بل‘ کے طور پر پیش کیا گیا تھا، اس لیے وزیر خزانہ سیتارمن کی جانب سے پیش کیے جانے کے بعد ایوانِ بالا نے آئینی طریقہ کار کے مطابق اسے لوک سبھا کو واپس بھیج دیا۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / عبدالواحد