سبسکرپشن کیلئے کھلا مولبیو ڈائیگنوسٹکس کا آئی پی او، 12 اگست تک لگا سکتے ہیں بولی
نئی دہلی، 10 اگست (ہ س)۔ گلوبل پوائنٹ آف کیئر مالیکیولر ڈائیگنوسٹکس کمپنی مولبیو ڈائیگنوسٹکس کا 939.70 کروڑ روپے کا آئی پی او آج سبسکرپشن کے لیے کھول دیا گیا ہے۔ اس آئی پی او میں 12 اگست تک بولی لگائی جا سکتی ہے۔ ایشو بند ہونے کے بعد 13 اگست کو شیئ
سبسکرپشن کیلئے کھلا مولبیو ڈائیگنوسٹکس کا آئی پی او، 12 اگست تک لگا سکتے ہیں بولی


نئی دہلی، 10 اگست (ہ س)۔ گلوبل پوائنٹ آف کیئر مالیکیولر ڈائیگنوسٹکس کمپنی مولبیو ڈائیگنوسٹکس کا 939.70 کروڑ روپے کا آئی پی او آج سبسکرپشن کے لیے کھول دیا گیا ہے۔ اس آئی پی او میں 12 اگست تک بولی لگائی جا سکتی ہے۔ ایشو بند ہونے کے بعد 13 اگست کو شیئرز کا الاٹمنٹ کیا جائے گا، جبکہ 14 اگست کو الاٹ کیے گئے شیئرز سرمایہ کاروں کے ڈی میٹ اکاؤنٹ میں کریڈٹ کر دیے جائیں گے۔ کمپنی کے شیئرز 17 اگست کو بی ایس ای اور این ایس ای پر لسٹ ہونے کا امکان ہے۔آئی پی او میں بولی لگانے کے لیے 768 روپے سے 807 روپے فی شیئر کا پرائس بینڈ مقرر کیا گیا ہے، جبکہ لاٹ سائز 18 شیئرز کا ہے۔ ریٹیل سرمایہ کار کم از کم ایک لاٹ یعنی 18 شیئرز کے لیے بولی لگا سکتے ہیں، جس کے لیے انہیں 14,526 روپے کی سرمایہ کاری کرنا ہوگی۔ اسی طرح ریٹیل سرمایہ کار 1,88,838 روپے کی سرمایہ کاری کے ساتھ زیادہ سے زیادہ 13 لاٹس یعنی 234 شیئرز کے لیے بولی لگا سکتے ہیں۔اس آئی پی او کے تحت ایک روپے فیس ویلیو والے مجموعی طور پر 1,16,46,246 شیئرز جاری کیے جا رہے ہیں۔ ان میں تقریباً 200 کروڑ روپے مالیت کے 24,80,246 نئے شیئرز جاری کیے جا رہے ہیں، جبکہ تقریباً 740 کروڑ روپے مالیت کے 91,66,000 شیئرز آفر فار سیل کے ذریعے فروخت کیے جا رہے ہیں۔آئی پی او میں کوالیفائیڈ انسٹی ٹیوشنل بائرز کے لیے زیادہ سے زیادہ 50 فیصد حصہ مختص کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ ریٹیل سرمایہ کاروں کے لیے کم از کم 35 فیصد اور نان انسٹی ٹیوشنل انویسٹرز کے لیے کم از کم 15 فیصد حصہ محفوظ رکھا گیا ہے۔ اس ایشو کے لیے کوٹک مہندرا کیپٹل کمپنی لمیٹڈ کو بک رننگ لیڈ مینیجر مقرر کیا گیا ہے، جبکہ کیفن ٹیکنالوجیز لمیٹڈ رجسٹرار ہے۔مولبیو ڈائیگنوسٹکس کی مالی حالت کی بات کی جائے تو کیپٹل مارکیٹ ریگولیٹر سیبی کے پاس جمع کرائے گئے ڈرافٹ ریڈ ہیرنگ پراسپیکٹس میں کیے گئے دعوے کے مطابق کمپنی کی مالی صحت مضبوط رہی ہے۔

مالی سال 2023-24 میں کمپنی کو 83.54 کروڑ روپے کا خالص منافع ہوا تھا، جو اگلے مالی سال 2024-25 میں بڑھ کر 138.58 کروڑ روپے ہوگیا۔ وہیں مالی سال 2025-26 میں کمپنی کا خالص منافع مزید بڑھ کر 164.14 کروڑ روپے تک پہنچ گیا۔اس دوران کمپنی کی آمدنی میں بھی مسلسل اضافہ ہوا۔ مالی سال 2023-24 میں کمپنی کو 840.66 کروڑ روپے کی مجموعی آمدنی ہوئی، جو 2024-25 میں بڑھ کر 1,027.94 کروڑ روپے ہوگئی۔ گزشتہ مالی سال 2025-26 میں کمپنی کی مجموعی آمدنی 1,455.17 کروڑ روپے رہی۔

اس مدت کے دوران کمپنی پر موجود قرض کے بوجھ میں اتار چڑھاؤ دیکھا گیا۔ مالی سال 2023-24 کے اختتام پر کمپنی پر 174.58 کروڑ روپے کا قرض تھا، جو 2024-25 میں کم ہو کر 123.16 کروڑ روپے رہ گیا۔ تاہم مالی سال 2025-26 میں کمپنی پر قرض کا بوجھ بڑھ کر 412.64 کروڑ روپے ہوگیا۔کمپنی کے ریزرو اور سرپلس میں بھی اس مدت کے دوران مسلسل اضافہ ہوا۔

مالی سال 2023-24 کے اختتام پر یہ 845.48 کروڑ روپے تھا، جو 2024-25 میں بڑھ کر 990.84 کروڑ روپے ہوگیا۔ گزشتہ مالی سال 2025-26 میں کمپنی کا ریزرو اور سرپلس مزید بڑھ کر 1,148.84 کروڑ روپے ہوگیا۔کمپنی کی نیٹ ورتھ میں بھی اضافہ ہوا۔ مالی سال 2023-24 میں نیٹ ورتھ 807.94 کروڑ روپے تھی، جو 2024-25 میں بڑھ کر 952.95 کروڑ روپے ہوگئی۔ مالی سال 2025-26 میں کمپنی کی نیٹ ورتھ 1,144.68 کروڑ روپے تک پہنچ گئی۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Mohammad Khan


 rajesh pande