حکومت کا ہدف بُنکروں کی سالانہ آمدنی 10 لاکھ روپے تک پہنچانا ہے : نیلم شمی راؤ
نئی دہلی، 10 اگست (ہ س)۔ مرکزی وزارتِ ٹیکسٹائل کی سکریٹری نیلم شمی راؤ نے پیر کو کہا کہ حکومت کا ہدف بُنکروں کی سالانہ آمدنی 10 لاکھ روپے تک پہنچانا اور ہینڈلوم صنعت کو روایتی حدود سے باہر نکال کر جدید بازار کی ضروریات کے مطابق ڈھالنا ہے۔ سکریٹری
حکومت کا ہدف بُنکروں کی سالانہ آمدنی 10 لاکھ روپے تک پہنچانا : نیلم شمی راؤ


نئی دہلی، 10 اگست (ہ س)۔ مرکزی وزارتِ ٹیکسٹائل کی سکریٹری نیلم شمی راؤ نے پیر کو کہا کہ حکومت کا ہدف بُنکروں کی سالانہ آمدنی 10 لاکھ روپے تک پہنچانا اور ہینڈلوم صنعت کو روایتی حدود سے باہر نکال کر جدید بازار کی ضروریات کے مطابق ڈھالنا ہے۔

سکریٹری نیلم شمی راؤ نے آج دہلی واقع بین الاقوامی امبیڈکر بھون میں منعقدہ ’نیشنل ہینڈلوم ڈیزائنرز کانکلیو 2026‘ پروگرام کے افتتاح کے موقع پر یہ بات کہی۔ اس کا بنیادی مقصد ہینڈلوم شعبے کی ترقی، بُنکروں کی آمدنی میں اضافہ اور نئی نسل کو اس روایت سے جوڑنا ہے۔

انہوں نے کہا، ”ہمارے بُنکر بھائی بہن طویل عرصے سے ایک ہی طرح کی ساڑیوں، رنگوں اور پیٹرنز تک محدود رہے ہیں۔ آج کی کثیر سطحی مارکیٹ میں جہاں ایک طرف روایتی کام ہو رہا ہے، وہیں دوسری طرف ایسے بُنکر بھی ہیں جو بازار کی طلب کے مطابق اپنی مہارت میں تبدیلی لا رہے ہیں۔ اس کے علاوہ، ڈیزائنروں اور کمپنیوں کے تعاون سے چلنے والی ایک الگ پریمیم مارکیٹ بھی تیزی سے ابھر رہی ہے۔“

سکریٹری نے کہا کہ ہینڈلوم شعبے کا سب سے بڑا چیلنج بُنکروں کی محدود آمدنی ہے۔ فی الحال سرکاری اسکیموں، خام مال کی دستیابی اور مارکیٹنگ پروموشن کے باوجود بُنکر سالانہ صرف 1 سے 3 لاکھ روپے تک کما پاتے ہیں، جو صرف ان کی روزی روٹی برقرار رکھنے کا ذریعہ ہے۔ اس آمدنی کو سالانہ 10 لاکھ روپے تک لے جانے کے لیے ایک حسابی اور عملی نقطۂ نظر پیش کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگر 10 لاکھ روپے کی آمدنی کا ہدف حاصل کرنا ہے تو پیداوار کی مالیت 20 سے 30 لاکھ روپے ہونی چاہیے، جسے صرف بہتر ڈیزائننگ، معیار اور عالمی بازار تک رسائی پیدا کرکے ہی حاصل کیا جا سکتا ہے۔

شمی راؤ نے بُنکروں کو بااختیار بنانے کے لیے بُنکر سروس سینٹر (ڈبلیو ایس سی)، نِفٹ، وشو بھارتی، آئی آئی ایچ ٹی اور دیگر فنونِ لطیفہ کے اداروں کے ڈیزائنروں کو مل کر کام کرنے کی اپیل کی۔ انہوں نے بتایا کہ ہینڈلوم صنعت کو جدید بنانے کے لیے آئی آئی ٹی کے تعاون سے ایک ایپلی کیشن ٹول تیار کیا جا رہا ہے۔ یہ ٹول بُنائی شروع کیے بغیر ہی یہ دکھا سکے گا کہ تیار پیٹرن کا لباس پہننے پر کیسا نظر آئے گا۔ بُنائی کے ساتھ بنیادی سلائی اور کڑھائی و آرائشی کام کو بھی اندرونِ ادارہ لاتے ہوئے ’ریڈی ٹو ویئر‘ تصور کو فروغ دینے پر زور دیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ مصنوعات کو بین الاقوامی سطح اور نِش مارکیٹ تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا مارکیٹنگ کا مؤثر استعمال، نئے اسٹارٹ اپس اور نوجوان کاروباری افراد کو کلسٹرز کے ساتھ جوڑنا اور ڈبلیو ایس سی اور ہینڈلوم سینٹرز کو ’ایٹیلیرز‘ کے طور پر تیار کرنا ضروری ہے۔

اس دوران کئی سیشن منعقد کیے گئے۔ اس کے علاوہ ’نیشنل ہینڈلوم ڈیزائن کانٹیسٹ 2026‘ کے فاتحین کو انعامات بھی دیے گئے تاکہ ہینڈلوم شعبے میں اختراعی ڈیزائن اور تخلیقی تعاون کو سراہا جا سکے۔

اس موقع پر ہینڈلوم اور دستکاری کی ڈی سی ڈاکٹر ایم. بینا اور ڈی ڈی جی اکھلیش کمار، ٹیکسٹائل شعبے سے متعلق افسران، ڈیزائنر اور نیشنل ایوارڈ یافتہ بُنکر موجود رہے۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / عبدالواحد


 rajesh pande