
نئی دہلی، 10 اگست (ہ س)۔ ونڈ مل ٹاوربنانے والی کمپنی اناویل وائر اینڈ انجینئرنگ لمیٹڈ کے شیئروں نے آج اسٹاک مارکیٹ میں اضافے کے ساتھ انٹری کرکے اپنے آئی پی او سرمایہ کاروں کو خوش کر دیا۔ کمپنی کے حصص آئی پی او کے تحت 270 روپے کی قیمت پر جاری کیے گئے تھے۔ آج، این ایس ای کے ایس ایم ای پلیٹ فارم پراس کی لسٹنگ 22.09 فیصد پریمیم کے ساتھ 329.65 روپے کی سطح پر ہوئی ۔ لسٹنگ کے بعد منافع وصولی کی کوشش میں ہوئی فروخت کی وجہ سے اس نے 313.20 تک غوطہ لگایا۔حالانکہ بعد میں خریداری شروع ہونے کے بعد کمپنی کے حصص اچھل کر 346.10 روپے کے اوپری سرکٹ کی سطح پر پہنچ کر بند ہوئے۔ اس طرح، پہلے دن کے کاروبار میں کمپنی کے آئی پی او سرمایہ کاروں نے 76.10 روپے فی حصص یعنی 28.19 فیصد کا منافع ہوا۔
اناویل وائر اینڈ انجینئرنگ لمیٹڈ کا 177.81 کروڑ روپے کا آئی پی او 3 اور 5 اگست کے درمیان سبسکرپشن کے لیے کھلا تھا۔ آئی پی او کو سرمایہ کاروں کی طرف سے زبردست ردعمل ملا، جس کی وجہ سے اسے مجموعی طور پر 149.13 گنا سبسکرائب کیا گیا۔ ان میںاہل ادارہ جاتی خریداروں (کیو آئی بی) کے لیے مخصوص حصے کو 164.56 گنا سبسکرائب کیا گیا تھا۔ اسی طرح، غیر ادارہ جاتی سرمایہ کاروں (این آئی آئی) کے لیے مختص حصے کو 233.36 گنا سبسکرائب کیا گیا۔ اسی وقت، خوردہ سرمایہ کاروں کے لیے مختص حصے کو 104.22 گنا سبسکرائب کیا گیا تھا۔اس آئی پی او کے تحت 10 روپے کی فیس ویلیو والے 65,85,600 حصص جاری کیے گئے ہیں۔ ان میں 52,84,800 نئے حصص جاری کیے گئے ہیں، جبکہ 13,00,800 حصص آفر فار سیل ونڈو کے ذریعے فروخت کیے گئے ہیں۔ آئی پی او میں نئے حصص کی فروخت کے ذریعے جمع ہونے والی رقم کمپنی کے قرض کو کم کرنے، ورکنگ کیپٹل کی ضروریات کو پورا کرنے اور عام کارپوریٹ مقاصد کے لیے استعمال کی جائے گی۔
اناویل وائر اینڈ انجینئرنگ لمیٹڈ کی مالی صحت کے بارے میں بات کریں تو کیپٹل مارکیٹ ریگولیٹر سیبی کے پاس جمع کرائے گئے ریڈ ہیرنگ پراسپیکٹس (ڈی آر ایچ پی) کے مسودے میں کئے گئے دعوے کے مطابق اس کی مالی صحت مستقل طور پر مضبوط ہوئی ہے۔ مالی سال2023تا2024 میں کمپنی کا خالص منافع 4.39 کروڑ روپے تھا، جو اگلے مالی سال 2024تا2025میں بڑھ کر 12.31 کروڑ روپے ہو گیا۔ اسی دوران، پچھلے مالی سال 2025تا2026میں کمپنی کا خالص منافع 36.63 کروڑ روپے تھا۔
اس عرصے کے دوران کمپنی کی آمدنی کی وصولیابی میں بھی اضافہ ہوا۔ اس نے مالی سال2023 تا 2024 میں 54.08 کروڑ روپے کی کل آمدنی حاصل کی، جو مالی سال 2024 تا 2025 میں بڑھ کر 79.40 کروڑ روپے ہو گئی۔ اسی دوران پچھلے مالی سال 2025 تا 2026 میں کمپنی کو 143.63 کروڑ روپے کی آمدنی حاصل ہوئی تھی۔
اس عرصے کے دوران کمپنی کے قرض کا بوجھ بھی مسلسل بڑھتا گیا۔ مالی سال 2023 تا 2024 کے اختتام پر کمپنی پر 51.86 کروڑ روپے کا قرض کا بوجھ تھا، جو اگلے مالی سال 2024 تا 2025میں بڑھ کر 55.11 کروڑ روپے ہو گیا۔ اسی دوران پچھلے مالی سال 2025 تا 2026 میں اس عرصے کے دوران کمپنی پر قرض کا بوجھ بڑھ کر 128.25 کروڑ روپے ہو گیا۔
اس عرصے کے دوران کمپنی کی مجموعی مالیت میں بھی اضافہ ہوا۔ مالی سال 2023 تا 2024میں یہ 27.77 کروڑ روپے کی سطح پر تھا۔ اسی طرح، کمپنی کی مجموعی مالیت 2024 تا 2025 میں بڑھ کر 40.08 کروڑ روپے ہو گئی۔ اسی وقت، یہ پچھلے مالی سال 2025 تا 2026 میں 89.51 کروڑ روپے کی سطح پر پہنچ گیا۔
کمپنی کے ریزرواور سرپلس کی بات کریں تو اس عرصے میں کمپنی اس محاذ پر بھی فائدہ اٹھانے میں کامیاب رہی ہے۔ مالی سال 2023 تا 2024 میں یہ 18.12 کروڑ روپے کی سطح پر تھا۔ اسی طرح 2024 تا 2025 میں کمپنی کے رزرو اور سرپلس بڑھ کر 30.43 کروڑ روپے ہو گئے۔ اسی کے ساتھ ہی گزشتہ مالی سال 2025 تا 2026 میں کمپنی کے رزرو اور سرپلس 69.80 کروڑ روپے کی سطح پر پہنچ گئے۔
اسی طرح ای بی آئی ٹی ڈی اے (ارننگ بفور انٹریسٹ،ٹیکسز،ڈپریشیئیشنس اینڈ ایمارٹائزیشن) 2023 تا 2024میں 22.22 کروڑ روپے تھی، جو 2024 تا 2025 میںبڑھ کر 29.98 کروڑ روپے ہو گئی۔ اسی دوران کمپنی کا ای بی آئی ٹی ڈی اے گزشتہ مالی سال 2025 تا 2026 میں بڑھ کر 61.09 کروڑ روپے کی سطح پر پہنچ گیا۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمد شہزاد