
ساگر، یکم اگست (ہ س):۔
مدھیہ پردیش کے شہر ساگر کی جوڈو کھلاڑی یامنی موریہ نے کامن ویلتھ گیمز 2026 میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے بھارت کے لیے چاندی کا تمغہ حاصل کیا۔
اسکاٹ لینڈ کے شہر گلاسگو میں منعقدہ مقابلوں میں خواتین کے 57 کلوگرام وزن کے زمرے کے فائنل تک رسائی حاصل کرنے والی یامنی نے پورے ٹورنامنٹ میں بہترین کھیل پیش کیا۔ تاہم فائنل میں انہیں انگلینڈ کی ایسیلیا توپرک کے ہاتھوں انتہائی سنسنی خیز مقابلے میں شکست کا سامنا کرنا پڑا اور وہ معمولی فرق سے طلائی تمغہ جیتنے سے محروم رہیں۔
جمعہ کی رات کھیلے گئے فائنل مقابلے میں دونوں کھلاڑیوں کے درمیان ابتدا سے آخر تک سخت مقابلہ دیکھنے میں آیا۔ یامنی نے گولڈ میڈل کے لیے بھرپور کوشش کی، لیکن انگلینڈ کی کھلاڑی فیصلہ کن لمحات میں سبقت حاصل کرنے میں کامیاب رہیں، جس کے نتیجے میں یامنی نے چاندی کا تمغہ اپنے نام کر کے ملک کا وقار بلند کیا۔
بتایا گیا ہے کہ مقابلے سے قبل یامنی کو طلائی تمغہ جیتنے کا پورا یقین تھا۔ فائنل کے بعد انہوں نے اپنے اہلِ خانہ سے فون پر گفتگو کرتے ہوئے گولڈ میڈل نہ جیت پانے کا افسوس بھی ظاہر کیا۔ اہلِ خانہ نے ان کی شاندار کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ بین الاقوامی سطح پر ملک کے لیے چاندی کا تمغہ جیتنا بھی ایک بڑی کامیابی ہے۔ انہوں نے یامنی کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے کہا کہ وہ آئندہ مقابلوں میں طلائی تمغہ حاصل کرنے کے لیے اسی جذبے کے ساتھ اپنی تیاری جاری رکھیں۔
یامنی موریہ کی یہ کامیابی طویل جدوجہد، مسلسل محنت اور عزم کا نتیجہ ہے۔ ایک متوسط خاندان سے تعلق رکھنے والی یامنی نے محدود وسائل اور بے شمار مشکلات کے باوجود جوڈو کی تربیت شروع کی۔ مسلسل مشق، نظم و ضبط اور مضبوط ارادے کی بدولت انہوں نے بھارتی ٹیم میں جگہ بنائی اور اب کامن ویلتھ گیمز میں تمغہ جیت کر اپنی صلاحیتوں کا بھرپور ثبوت دیا ہے۔
یامنی کی اس کامیابی کی خبر ملتے ہی ساگر شہر میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ پرانی صدر میں واقع ان کی رہائش گاہ پر مبارک باد دینے والوں کا تانتا بندھ گیا۔ کھیلوں سے وابستہ افراد، مقامی کھلاڑیوں، سماجی تنظیموں اور عوامی نمائندوں نے انہیں مبارک باد دیتے ہوئے اس کامیابی کو ساگر، مدھیہ پردیش اور پورے ملک کے لیے باعثِ فخر قرار دیا اور ان کے روشن مستقبل کے لیے نیک تمناو¿ں کا اظہار کیا۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / عطاءاللہ