
نئی دہلی، یکم اگست (ہ س)۔ دہلی کے روہنی علاقے کے بدھ وہار میں 31 سالہ ایک جوان کی مشتبہ حالات میں موت کے بعد ہفتہ کی صبح شدید ہنگامہ آرائی دیکھنے میں آئی۔ متوفی کے اہلِ خانہ اور مقامی افراد نے مکان مالک پر نوجوان کو تشدد کا نشانہ بنا کر قتل کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے بدھ وہار-کنجھاؤلا روڈ بند کرنے کی کوشش کی۔
مظاہرین نے ملزم کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کرنے اور اسے فوری طور پر گرفتار کرنے کا مطالبہ کیا۔ اطلاع ملنے پر پولیس کی بھاری نفری موقع پر پہنچ گئی اور کافی دیر تک بات چیت اور یقین دہانیوں کے بعد مظاہرین کو منتشر کر کے سڑک پر ٹریفک بحال کر دیا گیا۔
پولیس کے مطابق متوفی کی شناخت 31 سالہ گنیش کے طور پر ہوئی ہے۔ وہ اپنے والد ہری پرساد کے خاندان سے الگ بدھ وہار میں کرائے کے مکان میں رہتا تھا۔ جمعہ کی رات اچانک اس کی طبیعت خراب ہوگئی، جس پر مکان مالک اسے علاج کے لیے اسپتال لے گیا، جہاں ڈاکٹروں نے اسے مردہ قرار دے دیا۔
گنیش کی موت کی اطلاع ملتے ہی اس کے اہلِ خانہ اسپتال پہنچ گئے۔ ان کا الزام ہے کہ گنیش کی موت طبعی نہیں بلکہ مکان مالک کے مبینہ تشدد کا نتیجہ ہے۔ ان کے مطابق گنیش کے جسم پر تشدد کے نشانات موجود تھے اور اسے بے رحمی سے مارا پیٹا گیا تھا۔ اسی الزام کے تحت ہفتہ کی صبح بڑی تعداد میں لوگ سڑکوں پر نکل آئے اور احتجاج شروع کر دیا، جس سے کچھ دیر کے لیے ٹریفک بھی متاثر ہوئی۔
صورتحال کشیدہ ہونے پر مقامی تھانے کی پولیس کے ساتھ اضافی نفری بھی موقع پر طلب کر لی گئی۔ پولیس حکام نے مظاہرین سے بات چیت کی اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کی یقین دہانی کرائی، جس کے بعد احتجاج ختم کر دیا گیا اور آمدورفت معمول پر آ گئی۔
دوسری جانب پولیس کا کہنا ہے کہ ابتدائی تحقیقات میں قتل کی تصدیق نہیں ہوئی ہے۔ پولیس کے مطابق گنیش کو حد سے زیادہ شراب نوشی کی عادت تھی، تاہم اس کی موت کی اصل وجہ پوسٹ مارٹم رپورٹ آنے کے بعد ہی واضح ہو سکے گی۔ لاش کو پوسٹ مارٹم کے لیے بھیج دیا گیا ہے۔
پولیس حکام نے بتایا کہ معاملے کے تمام پہلوؤں سے تحقیقات کی جا رہی ہیں۔ پوسٹ مارٹم رپورٹ، فرانزک شواہد، جائے وقوعہ سے حاصل ہونے والے شواہد اور متعلقہ افراد کے بیانات کی بنیاد پر آئندہ کارروائی کی جائے گی۔ اگر تحقیقات میں کسی شخص کے ملوث ہونے کے شواہد ملتے ہیں تو قانون کے مطابق سخت کارروائی کی جائے گی۔
فی الحال متوفی کے اہلِ خانہ قتل کا مقدمہ درج کرنے اور مبینہ ملزم مکان مالک کی گرفتاری کے مطالبے پر قائم ہیں، جبکہ پولیس کا کہنا ہے کہ پوسٹ مارٹم رپورٹ اور سائنسی شواہد سامنے آنے سے پہلے کسی نتیجے پر پہنچنا مناسب نہیں ہوگا، اسی لیے پورے معاملے کی باریک بینی سے تحقیقات جاری ہیں۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan