چھ برس بعد لپولیکھ درّے سے بھارت-چین سرحدی تجارت بحال، بھارتی تاجروں کا پہلا وفد تکلاکوٹ پہنچا
پتھورا گڑھ/دھارچولا، یکم اگست(ہ س)۔ کووڈ-19 وبا کے باعث تقریباً چھ برس سے معطل بھارت-چین سرحدی تجارت ہفتے کے روز اتراکھنڈ کے ضلع پتھورا گڑھ میں واقع تاریخی لپولیکھ درّے کے راستے دوبارہ شروع ہو گئی۔ سال 2026 کی سرحدی تجارت کے آغاز کے ساتھ ہی بھارتی
چھ برس بعد لپولیکھ درّے سے بھارت-چین سرحدی تجارت بحال، بھارتی تاجروں کا پہلا وفد تکلاکوٹ پہنچا


پتھورا گڑھ/دھارچولا، یکم اگست(ہ س)۔ کووڈ-19 وبا کے باعث تقریباً چھ برس سے معطل بھارت-چین سرحدی تجارت ہفتے کے روز اتراکھنڈ کے ضلع پتھورا گڑھ میں واقع تاریخی لپولیکھ درّے کے راستے دوبارہ شروع ہو گئی۔ سال 2026 کی سرحدی تجارت کے آغاز کے ساتھ ہی بھارتی تاجروں کا پہلا وفد تبت کے سرحدی قصبے تکلاکوٹ پہنچ گیا، جہاں ضروری کارروائیاں مکمل کرنے کے بعد تجارتی سرگرمیوں کا باقاعدہ آغاز کر دیا گیا۔

بھارت-تبت ٹریڈ ایسوسی ایشن کے صدر جیون سنگھ راؤکلی کی قیادت میں 16 رجسٹرڈ تاجروں اور چار معاونین پر مشتمل 20 رکنی وفد تمام مقررہ ضابطے پورے کرنے کے بعد لپولیکھ درّے سے گزر کر چین کے تبت خودمختار علاقے میں داخل ہوا اور تکلاکوٹ منڈی پہنچا۔دھارچولا کے سب ڈویژنل مجسٹریٹ آشیش جوشی کے مطابق 31 جولائی کی شام تجارتی وفد نے گونجی امیگریشن دفتر میں تمام رسمی کارروائیاں مکمل کیں اور رات نابی ڈھانگ میں قیام کیا۔ ہفتے کی صبح تقریباً 10:15 بجے چینی حکام کی جانچ اور اجازت کے بعد وفد نے سرحد عبور کی اور تکلاکوٹ پہنچ کر تجارت کا آغاز کیا۔انہوں نے بتایا کہ چینی انتظامیہ کی ہدایت کے مطابق فی الحال صرف انہی تاجروں کو داخلے کی اجازت دی گئی ہے جو پہلے سے رجسٹرڈ ہیں اور ماضی میں بھی سرحدی تجارت کر چکے ہیں۔ اسی وجہ سے بھارتی وفد اس مرحلے میں اپنے ساتھ کوئی نئی تجارتی اشیا نہیں لے گیا۔ تاجر تکلاکوٹ میں پہلے سے موجود سامان اور ضروری انتظامات کی بنیاد پر تجارت کریں گے۔ضلعی انتظامیہ کے مطابق آئندہ تجارتی وفود کی روانگی کے لیے چینی حکام کے ساتھ ای میل کے ذریعے مسلسل رابطہ رکھا جا رہا ہے۔ جیسے ہی اگلے مرحلے کی منظوری ملے گی، دیگر رجسٹرڈ تاجروں کو بھی مرحلہ وار تکلاکوٹ بھیجا جائے گا۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Mohammad Khan


 rajesh pande