
کولکاتا، یکم اگست (ہ س)۔
تقریباً دو دہائیوں بعد کولکاتا پہنچنے والی بنگلہ دیش کی معروف مصنفہ تسلیمہ نسرین کا ہفتہ کو رویندر سدن میں منعقدہ ایک مشاعرہ نما تقریب میں استقبال کیا گیا۔ اس موقع پر مغربی بنگال کے وزیراعلیٰ شبھیندو ادھیکاری نے انہیں ریاست میں مکمل تحفظ کا یقین دلاتے ہوئے کہا کہ وہ جب چاہیں مغربی بنگال آ سکتی ہیں اور ان کی حفاظت کو یقینی بنانا ریاستی حکومت کی ذمہ داری ہے۔
وزیراعلیٰ نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اب مغربی بنگال آئین، جمہوریت اور اظہارِ رائے کی آزادی کا احترام کرنے والی ریاست ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہاں ہر شخص کو آنے اور اپنی بات رکھنے کا حق حاصل ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ تسلیمہ نسرین کی مغربی بنگال آمد اس بات کا ثبوت ہے کہ ریاست میں جمہوری اقدار اور بنیادی حقوق کا تحفظ کیا جا رہا ہے۔
قابلِ ذکر ہے کہ 2007 میں تسلیمہ نسرین کی خودنوشت دوی کھنڈیت کی اشاعت کے بعد مغربی بنگال کے کئی علاقوں میں پرتشدد احتجاج ہوئے تھے۔ اس وقت بائیں محاذ کی حکومت نے کتاب پر پابندی عائد کر دی تھی اور امن و امان کی صورتِ حال خراب ہونے کے باعث تسلیمہ نسرین کو مغربی بنگال چھوڑنا پڑا تھا۔ اس کے بعد ترنمول کانگریس حکومت کے دور میں بھی ان کی واپسی ممکن نہیں ہو سکی۔
تقریب کے دوران وزیراعلیٰ نے کہا کہ مغربی بنگال میں اب خوف اور دھمکی کی سیاست کا دور ختم ہو چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ انہیں تقریب میں مدعو نہیں کیا گیا تھا، لیکن تسلیمہ نسرین کی آمد کی اطلاع ملنے پر وہ ان کا استقبال کرنے پہنچے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک مصنفہ کی حیثیت سے تسلیمہ نسرین کے قارئین اور مداحوں کی تعداد بہت زیادہ ہے اور انہیں خود بھی بدلے ہوئے مغربی بنگال کا تجربہ ہوگا۔
اس سے قبل ایک انٹرویو میں تسلیمہ نسرین نے مغربی بنگال حکومت اور وزیراعلیٰ شبھیندو ادھیکاری کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ بھارت کی شہری نہیں ہیں، اس کے باوجود ان کی حفاظت اور اظہارِ رائے کی آزادی کا احترام کیا گیا۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ ریاستی حکومت صرف ان ہی کے نہیں بلکہ تمام مصنفین، فنکاروں، خواتین، اقلیتوں اور مختلف خیالات رکھنے والے افراد کے حقوق کا بھی تحفظ کرے گی۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / عطاءاللہ