گروہ بندی ختم کیے بغیر تمل ناڈو میں کانگریس مضبوط نہیں ہو سکتی: راہل گاندھی
چنئی، یکم اگست (ہ س)۔ لوک سبھا میں قائدِ حزبِ اختلاف راہل گاندھی نے ہفتہ کو کہا کہ تمل ناڈو میں کانگریس تنظیم کو مضبوط بنانے کے لیے پارٹی کے اندر گروہ بندی کا خاتمہ سب سے بڑی ترجیح ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب تک قائدین اور کارکن متحد ہو کر کام نہیں کر
گروہ بندی ختم کیے بغیر تمل ناڈو میں کانگریس مضبوط نہیں ہو سکتی: راہل گاندھی


چنئی، یکم اگست (ہ س)۔

لوک سبھا میں قائدِ حزبِ اختلاف راہل گاندھی نے ہفتہ کو کہا کہ تمل ناڈو میں کانگریس تنظیم کو مضبوط بنانے کے لیے پارٹی کے اندر گروہ بندی کا خاتمہ سب سے بڑی ترجیح ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب تک قائدین اور کارکن متحد ہو کر کام نہیں کریں گے، اس وقت تک ریاست میں کانگریس کو مطلوبہ مضبوطی حاصل نہیں ہو سکے گی۔ انہوں نے مجوزہ حلقہ بندی (ڈلیمیٹیشن) کی بھی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ یہ صرف تمل ناڈو کا نہیں بلکہ ریاستوں کے حقوق اور وفاقی ڈھانچے سے متعلق معاملہ ہے۔

راہل گاندھی مہابلی پورم میں واقع تمل ناڈو محکمہ سیاحت کے مہمان خانے میں 23 جولائی سے جاری تمل ناڈو کانگریس کے ضلعی صدور کے تربیتی کیمپ کی اختتامی تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔ اس موقع پر انہوں نے ضلعی صدور اور سینئر رہنماو¿ں کے ساتھ تنظیمی توسیع، بوتھ سطح پر پارٹی کو مضبوط بنانے، سیاسی حکمتِ عملی اور آئندہ انتخابات کی تیاریوں پر تبادلہ خیال کیا۔

اپنے خطاب میں راہل گاندھی نے کہا کہ تمل ناڈو میں کانگریس کی نسبتاً کمزور حیثیت کی بنیادی وجہ پارٹی کے اندر گروہ بندی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مختلف دھڑوں میں کام کرنے کا رجحان تنظیم کی اجتماعی طاقت کو کمزور کرتا ہے۔ انہوں نے تمام رہنماو¿ں اور کارکنوں سے ذاتی اختلافات بھلا کر تنظیم کو مضبوط بنانے کے لیے متحد ہو کر کام کرنے کی اپیل کی۔

انہوں نے ضلعی صدور سے کہا کہ وہ اپنے اپنے علاقوں میں تنظیم اور عوام کے درمیان مضبوط رابطے کا کردار ادا کریں اور عوامی مسائل کو ترجیح دیں۔ ان کا کہنا تھا کہ کانگریس اسی وقت مضبوط ہوگی جب کارکن مسلسل عوام کے درمیان رہ کر ان کے مسائل کے حل کے لیے جدوجہد کریں گے۔

تقریب کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے راہل گاندھی نے حلقہ بندی کا مسئلہ اٹھایا۔ انہوں نے کہا کہ اگر مجوزہ شکل میں حلقہ بندی نافذ کی گئی تو اس کا سب سے زیادہ اثر تمل ناڈو جیسی ریاستوں پر پڑے گا۔ ان کے مطابق یہ صرف سیاسی نمائندگی کا معاملہ نہیں بلکہ ریاست کے مستقبل اور وہاں کے عوام کے حقوق سے وابستہ سوال ہے۔ انہوں نے تمام سیاسی جماعتوں اور ریاستوں سے اس مسئلے پر متحد ہو کر مخالفت درج کرانے کی اپیل کی۔

راہل گاندھی نے حلقہ بندی کی حمایت کرنے والوں کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ جو لوگ اس عمل کی حمایت کر رہے ہیں وہ نادان ہیں۔ ان کا الزام تھا کہ موجودہ شکل میں حلقہ بندی کا عمل تمل ناڈو کے عوام کے حقوق اور ان کی سیاسی نمائندگی کو متاثر کر سکتا ہے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / عطاءاللہ


 rajesh pande