جین زی کو ڈرانے کی کوشش بے کار، بچے ڈر نہیں رہے بلکہ وزیر اعظم کی گھٹیا حرکتوں پر ہنس رہے ہیں: سوربھ بھاردواج
نئی دہلی، یکم اگست(ہ س )۔ عام آدمی پارٹی نے جنتر منتر پر احتجاج کرنے والے بچوں کی شناخت کرکے ان کے ساتھ مارپیٹ کرنے اور ایف آئی آر درج کرکے انہیں ڈرانے کی مبینہ کوششوں پر بی جے پی اور وزیر اعظم کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ آپ کے دہلی ریاستی صد
جین زی کو ڈرانے کی کوشش بے کار، بچے ڈر نہیں رہے بلکہ وزیر اعظم کی گھٹیا حرکتوں پر ہنس رہے ہیں: سوربھ بھاردواج


نئی دہلی، یکم اگست(ہ س )۔

عام آدمی پارٹی نے جنتر منتر پر احتجاج کرنے والے بچوں کی شناخت کرکے ان کے ساتھ مارپیٹ کرنے اور ایف آئی آر درج کرکے انہیں ڈرانے کی مبینہ کوششوں پر بی جے پی اور وزیر اعظم کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ آپ کے دہلی ریاستی صدر سوربھ بھاردواج نے کہا کہ جین زی کو ڈرانے کی کوشش بے کار ہے۔ یہ بچے ڈر نہیں رہے ہیں بلکہ وزیر اعظم کی گھٹیا حرکتوں پر ہنس رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان نوجوان بچوں کو پریشان کرنے، انہیں اکیلا پا کر مارنے اور ان کی ویڈیوز بنانے کے لیے رائٹ ونگ کے غنڈوں کو کھلی چھوٹ دے دی گئی ہے۔ اس کے ساتھ ہی جھوٹے الزامات میں ایف آئی آر درج کرکے بچوں اور ان کے والدین کو ڈرانے اور دبأ میں لانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ بی جے پی حکومت ایک ڈرپوک معاشرہ اور ڈرپوک ملک بنانے کی کوشش کر رہی ہے، لیکن یہ ملک ان کے غنڈوں سے نہیں ڈرے گا۔سوربھ بھاردواج نے کہا کہ وزیر اعظم کی ویڈیو دیکھ کر میں ایک بات کہہ سکتا ہوں کہ وزیر اعظم نریندر مودی کو اس ملک کے نوجوان اور یہاں کی جین زی کبھی معاف نہیں کرے گی۔ جب سے احتجاج کو روکا گیا ہے، اس کے اگلے ہی دن سے ہم دیکھ رہے ہیں کہ وزیر اعظم کی سرپرستی میں پلنے والے غنڈے کم عمر بچوں کو اکیلا پا کر ان کے ساتھ مارپیٹ اور گالم گلوچ کر رہے ہیں۔ اسے میڈیا اور سوشل میڈیا پر بڑے پیمانے پر چلایا جا رہا ہے، تاکہ کسی طرح جین زی کو ڈرایا جا سکے۔ مرکز میں بیٹھی بی جے پی حکومت ایک ڈرپوک معاشرہ اور ڈرپوک ملک بنانے کی کوشش کر رہی ہے، لیکن یہ ملک وزیر اعظم مودی اور ان کے غنڈوں سے نہیں ڈرے گا۔ سوربھ بھاردواج نے کہا کہ اس کے بعد حکومت نے دوسری چال چلی۔ گودی میڈیا اور 60، 60 سال کے اینکروں نے کم عمر بچیوں کو ولن بنانا شروع کر دیا۔ ان کی تصاویر دکھانا شروع کر دیں اور جب اس سے بھی کام نہیں چلا تو ان کے خلاف ایف آئی آر درج کروا دی گئی۔ گالی دینے پر ایف آئی آر درج ہونا اس ملک کے قانون میں نہیں ہے، لیکن حکومت نے یہ بھی کرکے دکھا دیا۔ ایک کم عمر بچی کے خلاف ایف آئی آر درج کرکے ایسا ماحول بنایا گیا کہ پولیس اسے اور اس کے گھر والوں کو پریشان کرے گی۔ حکومت کی کوشش یہ تھی کہ وہ بچی ڈر جائے اور اس کے خوف سے پورے ملک کے بچے بھی یہ سوچ کر ڈر جائیں کہ یہ اتنی ظالم حکومت ہے جو کسی کو نہیں چھوڑے گی۔ اس کے بعد بی جے پی کے لوگوں نے اس کے والدین پر دباؤ ڈال کر اور انہیں ڈرا دھمکا کر معافی منگوا لی۔ اس ملک کے گودی میڈیا کے ایڈیٹروں اور اینکروں کی بے شرمی دیکھیے کہ وہ اس 15 سالہ بچی کی ویڈیو پر اس طرح ناچ کود رہے ہیں، جیسے ابھیمنیو کے قتل کے بعد جرَاسندھ اور کوروؤں نے جشن منایا ہو۔ سوربھ بھاردواج نے کہا کہ آج وزیر اعظم اور میڈیا کی بے شرمی کو پورا ملک اور یہاں کا نوجوان دیکھ رہا ہے۔ نوجوان نہ وزیر اعظم سے ڈرے گا، نہ ان کی کھوکھلی دھمکیوں سے ڈرے گا اور نہ ہی ان کی سرپرستی میں پلنے والے کرائے کے غنڈوں سے ڈرے گا۔ جن بچوں پر اس طرح حملہ کیا گیا ہے، ان کے معاملات میں ابھی تک کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی ہے۔ ہم خود نئی دہلی کے ڈی سی پی کو شکایت دے کر آئے ہیں، لیکن غنڈوں کے خلاف ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، کیونکہ انہیں وزیر اعظم کی سرپرستی حاصل ہے۔انہوں نے وزیر اعظم اور رائٹ ونگ کے غنڈوں سے کہا کہ جین زی ان پر ہنس رہی ہے۔ بچے وزیر اعظم کی گھٹیا حرکتوں پر ہنس رہے ہیں، وہ ڈر نہیں رہے ہیں۔ حقیقت میں وزیر اعظم خود ڈرے ہوئے ہیں اور ان کا یہ خوف ان کی ویڈیو میں صاف نظر آ رہا ہے۔سوربھ بھاردواج نے ایکس پر کہا کہ وزیر اعظم مودی اور گودی میڈیا نے جین زی کے ساتھ جو کچھ کیا ہے، اسے یہ ملک کبھی معاف نہیں کرے گا۔ معصوم نابالغ لڑکے لڑکیوں کو پریشان کرنے، انہیں اکیلا پا کر مارنے اور ان کی ویڈیوز بنانے کے لیے رائٹ ونگ کے غنڈوں کو کھلی چھوٹ دے دی گئی۔نوجوان بچوں اور ان کے والدین کو ڈرانے کے لیے سوشل میڈیا اور گودی میڈیا پر ان ویڈیوز کو بڑے پیمانے پر پھیلایا گیا۔ بے بنیاد الزامات میں ایف آئی آر درج کی گئیں اور گودی میڈیا نے بچوں اور ان کے والدین پر زبردست دباو بنایا۔ گودی اینکروں اور بھکتوں نے بچوں کے معافی مانگنے والے ویڈیوز کا ایک جیت کی ٹرافی کی طرح جشن منایا۔اب وزیر اعظم کی یہ بھدی ویڈیو سامنے آئی ہے، جس میں وہ اپنی اب تک کی تمام حرکتوں کے بالکل برعکس باتیں کرتے ہوئے نظر آ رہے ہیں۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Md Owais Owais


 rajesh pande