
پٹنہ، یکم اگست (ہ س)۔ بہار کے میونسپل اداروں میں صفائی ملازمین اور ڈرائیوروں کی ہڑتال تیسرے روز بھی جاری ہے۔ ریاست بھر میں ہزاروں صفائی کارکن اور ڈرائیور کام پر واپس نہیں آئے ہیں۔ اس کا اثر اب شہروں میں صفائی کے نظام پر واضح طور پر نظر آرہا ہے۔ گلیوں، محلوں اور اہم سڑکوں پر کچرے کے ڈھیر لگ گئے ہیں۔ بدبو نے لوگوں کا جینا محال کر دیا ہے جبکہ وبائی امراض کا خطرہ بھی بڑھتا جا رہا ہے۔پٹنہ میں پانچ ہزار سے زیادہ صفائی کارکن ہڑتال پر ہیں۔ میونسپل کارپوریشن نے متبادل انتظامات کے ذریعے کچرا اٹھانے کی کوششیں شروع کر دی ہیں تاہم ہڑتالی کارکن دوسرے کارکنوں کو کام کرنے سے روک رہے ہیں۔ جس کے جواب میں میونسپل انتظامیہ نے سخت موقف اپنایا ہے۔
میونسپل کمشنر نے کام میں رکاوٹ ڈالنے والوں کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کا حکم دیا ہے۔ کئی علاقوں میں پولیس کی موجودگی میں کچرا اٹھا یا جارہا ہے ۔ احتجاج سے بچنے کے لیے رات 10 بجے سے صبح 4 بجے تک خصوصی صفائی مہم چلائی جا رہی ہے۔میونسپل کمشنر یشپال مینا نے تمام صفائی انسپکٹر اور سپروائزروں کو ہدایت دی ہے کہ وہ تمام مستقل، روزانہ اور آؤٹ سورسنگ ایجنسی کے ملازمین کی بائیو میٹرک اور دستی حاضری کو یقینی بنائیں۔ بغیر اجازت غیر حاضر رہنے والے ملازمین کے خلاف قواعد کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔
اس کے علاوہ ہر وارڈ میں 15 سے 20 ملازمین کی اضافی ٹیمیں بنانے کی ہدایات دی گئی ہیں تاکہ صفائی کا کام انجام دیا جا سکے۔میونسپل کارپوریشن انتظامیہ نے ہڑتالی ملازمین سے کام پر واپس آنے کی اپیل کی ہے۔ میونسپل کمشنر نے کہا کہ کارپوریشن کے دائرہ اختیار سے متعلق یونین کے تمام مطالبات کو پہلے ہی پورا کیا جا چکا ہے۔ باقی مطالبات بھی حکومت کو بھجوا دیے گئے ہیں۔ انہوں نے عوامی مفاد میں ہڑتال ختم کرنے کی اپیل کی ہے۔دربھنگہ میںتقریباً 1500 صفائی کارکن تیسرے دن بھی ہڑتال پر ہیں۔ شہر میں روزانہ تقریباً 10 ٹن کچرا اکھٹا ہوتا ہے تاہم تین روز سے صفائی کا کام مکمل طور پر رکا ہوا ہے۔ میونسپل کارپوریشن کے احاطے میں احتجاج کرنے والے ملازمین نے حکومت کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔ انہوں نے اپنے تین نکاتی مطالبات کو فوری طور پر پورا کرنے کا مطالبہ کیا جس میں مساوی کام کے لیے مساوی تنخواہ بھی شامل ہے۔
نالندہ کے بہار شریف میونسپل کارپوریشن علاقے میں بھی صفائی کا نظام درہم برہم ہو گیا ہے۔ تقریباً 1,300 صفائی کارکن کارپوریشن کے مین گیٹ پر احتجاج کر رہے ہیں۔ تقریباً 250 ٹن کچرا روزانہ اکٹھا کیا جاتا ہے لیکن ہڑتال کی وجہ سے جمع کرنے کا کام مکمل طور پر رک گیا ہے۔ شہر کے کئی علاقوں میں کچرے کے ڈھیر لگ گئے ہیں جس سے شہریوں کو شدید پریشانی کا سامنا ہے۔
سپول میونسپل کونسل علاقہ میں بھی صفائی ملازمین کی ہڑتال جاری ہے۔ سڑکوں اور عوامی مقامات پر کچرے کے ڈھیر لگنا شروع ہو گئے ہیں۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ میونسپل کونسل نے ابھی تک کوئی موثر متبادل انتظامات نہیں کیے ہیں جس کی وجہ سے مسائل میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔مسلسل تین روز سے صفائی کا نظام درہم برہم ہے جس کے باعث شہر میں گندگی میں اضافہ ہو گیا ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ طویل عرصے تک کچرا جمع کرنے سے انفیکشن اور متعدی امراض کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔ انتظامیہ جلد از جلد صفائی کی بحالی کے لیے کام کر رہی ہے، جبکہ ہڑتالی کارکن اپنے مطالبات پر ڈٹے ہوئے ہیں۔ فی الحال اس ہڑتال کا اثر ریاست بھر میں عام لوگوں کی روزمرہ کی زندگی پر واضح طور پر نظر آرہا ہے۔
ہندوستھان سماچار
--------
ہندوستان سماچار / Mohammad Afzal Hassan