سبھاش چندرا اور پنيت گوئنکا کے خلاف سیبی کا سخت ایکشن، ایک سال تک ٹرانزیکشن پر روک، بھاری بھرکم جرمانہ
سبھاش چندرا اور پنيت گوئنکا کے خلاف سیبی کا سخت ایکشن، ایک سال تک ٹرانزیکشن پر روک، بھاری بھرکم جرمانہ نئی دہلی، یکم اگست (ہ س)۔ مارکیٹ ریگولیٹر سیکورٹیز اینڈ ایکسچینج بورڈ آف انڈیا (سیبی) نے طے شدہ قواعد کی خلاف ورزی کے الزام میں زی انٹرٹینمنٹ ا
سبھاش چندرا کی فائل فوٹو


سبھاش چندرا اور پنيت گوئنکا کے خلاف سیبی کا سخت ایکشن، ایک سال تک ٹرانزیکشن پر روک، بھاری بھرکم جرمانہ

نئی دہلی، یکم اگست (ہ س)۔ مارکیٹ ریگولیٹر سیکورٹیز اینڈ ایکسچینج بورڈ آف انڈیا (سیبی) نے طے شدہ قواعد کی خلاف ورزی کے الزام میں زی انٹرٹینمنٹ انٹرپرائزز (زیل)، کمپنی کے سی ای او پنيت گوئنکا اور کمپنی کے آنریری چیئرمین اور ایسل گروپ کے بانی سبھاش چندرا کے خلاف سخت ایکشن لیا ہے۔ سیبی نے کمپنی کے ساتھ ساتھ ان دونوں عہدیداروں پر ایک طے شدہ مدت تک سیکورٹی مارکیٹ میں کسی بھی طرح کی ٹرانزیکشن کرنے پر پابندی عائد کر دی ہے۔ اس کے ساتھ ہی ان پر بھاری بھرکم جرمانہ بھی عائد کیا ہے۔

سیبی کی جانب سے جاری کردہ آرڈر میں کہا گیا ہے کہ زی انٹرٹینمنٹ انٹرپرائزز اگلے 2 ماہ تک سیکورٹی مارکیٹ میں کسی بھی طرح کی ٹرانزیکشن نہیں کر سکے گا۔ وہیں، پنيت گوئنکا اور سبھاش چندرا پر سیکورٹی مارکیٹ میں 12 ماہ تک کسی بھی طرح کی ٹرانزیکشن کرنے پر پابندی عائد کی گئی ہے۔ مارکیٹ ریگولیٹر سیبی نے کمپنی اور ان دونوں عہدیداروں پر کل 1.48 کروڑ روپے کا جرمانہ بھی عائد کیا ہے۔ اس میں زی انٹرٹینمنٹ انٹرپرائزز پر 30 لاکھ روپے کا جرمانہ عائد کیا گیا ہے، جبکہ پنيت گوئنکا پر 58 لاکھ روپے اور سبھاش چندرا پر 60 لاکھ روپے کا جرمانہ ٹھوکا گیا ہے۔

آپ کو بتا دیں کہ 19-2018 کی آڈٹ رپورٹ میں زی انٹرٹینمنٹ انٹرپرائزز کے آڈیٹر نے انکشاف کیا تھا کہ کمپنی کے کچھ غیر منقولہ اثاثوں کی ٹائٹل ڈیڈ غائب ہیں۔ اس انکشاف کے بعد سیبی نے معاملے کی جانچ شروع کی۔ اس جانچ کے دائرے میں زی انٹرٹینمنٹ انٹرپرائزز کے ذریعہ سیبی کے لسٹنگ ریگولیشنز اور پروہیبیشن آف فراڈیلنٹ اینڈ ان فیئر ٹریڈ پریکٹسز (پی ایف یو ٹی پی) ریگولیشنز کی خلاف ورزی کرنے کا بھی خاص خیال رکھا گیا۔

سیبی کی جانچ سے معلوم ہوا کہ ایسل گروپ کی چار کمپنیوں جینیکس انفرا بلڈ، جینیکس پروجیکٹس پرائیویٹ لمیٹڈ، وویک انفراکون پرائیویٹ لمیٹڈ اور رینو ریئل ٹیک نے دسمبر 2016 میں انڈیا بلس ہاؤسنگ فائنانس لمیٹڈ (آئی ایچ ایف ایل) سے 726 کروڑ روپے کا قرض لیا تھا۔ اس عمل میں ایسل ہومز پرائیویٹ لمیٹڈ کو-باروئر کے طور پر شامل ہوئی تھی۔ سیبی کی جانچ میں اس بات کا بھی پتہ چلا کہ قرض لینے والی کمپنیوں کی ملکیت کئی طرح کی کارپوریٹ لیئرز کے ذریعے پروموٹر فیملی سے جڑی ہوئی تھی۔

مارکیٹ ریگولیٹر کی جانچ میں اس بات کا بھی انکشاف ہوا کہ سیکورٹی کور برقرار رکھنے میں ناکام رہنے پر انڈیا بلس ہاوسنگ فائنانس لمیٹڈ نے اضافی ضمانت (ایڈیشنل کولیٹرل) کے لیے نومبر 2018 میں نوٹس بھی جاری کیا تھا۔ اس کے بعد 27 دسمبر 2018 کو زی انٹرٹینمنٹ انٹرپرائزز کی طرف سے ایک ڈکلیریشن اور ایکنالجمنٹ دیا گیا۔ اس کے تحت کمپنی کی حیدرآباد میں واقع پراپرٹی کی اوریجنل ٹائٹل ڈیڈ قرض کی اضافی سیکورٹی کے طور پر انڈیا بلس ہاوسنگ فائنانس لمیٹڈ کے پاس جمع کی گئی۔

زی انٹرٹینمنٹ انٹرپرائزز کی جانب سے جاری ڈکلیریشن میں بتایا گیا تھا کہ حیدرآباد کی پراپرٹی کو رَہن (مورگیج) رکھنے کے لیے تمام ضروری منظوریاں حاصل کر لی گئی تھیں۔ تاہم سیبی کی جانچ میں اس بات کا انکشاف ہوا کہ اس رَہن کے لیے کمپنی کی آڈٹ کمیٹی، بورڈ آف ڈائریکٹرز اور شیئر ہولڈرز سے منظوری نہیں لی گئی تھی۔ اسی طرح زی انٹرٹینمنٹ انٹرپرائزز کے انتظامیہ اور بورڈ کو بھی اس رَہن کی اطلاع نہیں تھی۔ اس لیے ان کی طرف سے بھی کمپنی کو کبھی منظوری نہیں ملی۔ طے شدہ قواعد میں ہوئی اس خلاف ورزی پر سیبی نے سخت قدم اٹھاتے ہوئے اب کمپنی اور اس کے دو عہدیداروں کے خلاف سخت ایکشن لیا ہے۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / انظر حسن


 rajesh pande