
چھندواڑہ/سیونی، یکم اگست (ہ س)۔
ملک کے اہم ٹائیگر ریزرو میں شامل مدھیہ پردیش کے پیچ ٹائیگر ریزرو نے گزشتہ ایک دہائی میں شیروں کے تحفظ کے شعبے میں قابل ذکر کامیابی حاصل کی ہے۔ گزشتہ 10 برسوں میں یہاں شیروں کی تعداد تقریباً دوگنی ہو گئی ہے۔
سال 2010 میں جہاں یہاں تقریباً 65 شیر درج کیے گئے تھے، وہیں سال 2022 کی آل انڈیا ٹائیگر شماری کے مطابق یہ تعداد بڑھ کر 123 تک پہنچ گئی۔ گزشتہ 10 سالوں میں تقریباً دوگنی ہوئی یہ تعداد جنگلی حیات کے تحفظ کی بڑی کامیابی مانی جا رہی ہے، لیکن اسی کامیابی کے ساتھ ایک نیا اور سنگین چیلنج بھی سامنے کھڑا ہو گیا ہے۔
دراصل، بڑھتی آبادی کی وجہ سے شیروں کے درمیان اپنے اپنے علاقے (ٹیریٹری) کو لے کر تصادم تیز ہو رہا ہے، جس کے باعث متعدد نوجوان شیر جنگل چھوڑ کر بفر زون اور دیہی علاقوں کی طرف رخ کر رہے ہیں۔ اس سے انسانی و جنگلی حیات کے تصادم کے واقعات مسلسل بڑھ رہے ہیں۔
قابل ذکر ہے کہ پیچ ٹائیگر ریزرو طویل عرصے سے وسطی ہندوستان کے سب سے خوشحال شیروں کی رہائش گاہوں میں شمار ہوتا رہا ہے۔ یہاں گھنے جنگل، وافر مقدار میں شکار اور سازگار قدرتی حالات شیروں کے تحفظ کے لیے مثالی مانے جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں شیروں کی تعداد مسلسل بڑھی ہے۔
دستیاب اعداد و شمار کے مطابق سال 2010 میں پیچ میں 65 شیر تھے۔ سال 2014 میں یہ تعداد بڑھ کر 69 ہوئی۔ سال 2018 کی شماری میں 87 شیر درج کیے گئے اور سال 2022 تک یہ اعداد و شمار 123 تک پہنچ گئے۔ سال 2026 کی آل انڈیا ٹائیگر شماری کے نتائج ابھی شائع نہیں ہوئے ہیں، لیکن محکمہ جنگلات کا اندازہ ہے کہ فی الحال بھی یہاں شیروں کی تعداد اسی سطح کے آس پاس ہے۔
جنگلی حیات کے ماہرین کے مطابق ہر بالغ شیر کو اپنے وجود کے لیے ایک مقررہ علاقے کی ضرورت ہوتی ہے۔ جب کسی جنگل میں شیروں کی تعداد تیزی سے بڑھتی ہے تو ان کے درمیان علاقے کو لے کر تصادم بھی بڑھ جاتا ہے۔ ایسے میں نوجوان شیر نئے علاقے کی تلاش میں جنگل سے باہر نکلنے لگتے ہیں۔ یہی صورت حال ان دنوں پیچ ٹائیگر ریزرو میں بھی دیکھنے کو مل رہی ہے۔ کئی نوجوان شیر بفر زون پار کر کے دیہی علاقوں تک پہنچ رہے ہیں۔ اس سے جہاں جنگلی حیات کا قدرتی رویہ متاثر ہو رہا ہے، وہیں گاوں والوں کے سامنے بھی نیا چیلنج کھڑا ہو گیا ہے۔
پیچ سے متصل گاوں میں رہنے والے لوگوں کا کہنا ہے کہ اب پہلے کے مقابلے میں کھیتوں اور جنگل کی سرحد پر شیروں کی موجودگی زیادہ نظر آتی ہے۔ کئی مقامات پر مویشیوں پر حملے ہوئے ہیں، جس سے گاوں والوں کو مالی نقصان بھی اٹھانا پڑ رہا ہے۔ کھیتی باڑی اور جنگل پر مبنی روزگار پر منحصر خاندانوں کے لیے یہ صورت حال تشویش کا باعث بن گئی ہے۔ خصوصاً مہوا، تیندو پتہ اور دیگر جنگلی اشیا کے جمع کرنے کے دوران لوگوں کو اضافی احتیاط برتنی پڑ رہی ہے۔
گزشتہ کچھ برسوں میں شیروں کے حملوں سے انسانی اموات کے واقعات بھی سامنے آئے ہیں۔ 2 اپریل 2026 کو پیچ ٹائیگر ریزرو کے چھندواڑہ علاقے کے کنبھا پانی فارسٹ رینج کی رمپوری بیٹ کے بفر زون میں مہوا چننے گئے مہیندر مانڈیکر کی شیر کے حملے میں موت ہو گئی تھی۔ اس سے پہلے 31 دسمبر 2025 کو چورئی علاقے کے قریب بفر زون میں بچھوا کے کشن پور کے ساکن 59 سالہ بلرام ڈہریا کی جنگلی جانور کے حملے میں جان چلی گئی تھی۔ وہیں 6 جنوری 2026 کو گمترا کور فارسٹ رینج کے مہادیو گھاٹ کے پاس ملی ایک شخص کی لاش کی جانچ میں بھی شیر کے حملے کی تصدیق ہوئی تھی۔ ان واقعات نے مقامی لوگوں کی تشویش اور بڑھا دی ہے نیز محکمہ جنگلات پر سیکورٹی انتظامات مضبوط کرنے کا دباو بھی بڑھا ہے۔
پیچ ٹائیگر ریزرو کے ڈپٹی ڈائریکٹر پنیت گوئل کے مطابق فی الحال تقریباً 79 بالغ شیر ہیں، جبکہ باقی تعداد بچوں کی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ نئی ٹائیگر شماری کے نتائج آنے کے بعد واقعی صورت حال مزید واضح ہوگی۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ شیروں کی بڑھتی تعداد یہ ثابت کرتی ہے کہ تحفظ کی کوششیں کامیاب رہی ہیں، لیکن اب تحفظ کی حکمت عملی کو اگلے مرحلے میں لے جانے کی ضرورت ہے۔ صرف کور ایریا کی سیکورٹی کافی نہیں ہوگی، بلکہ بفر زون اور اس سے متصل گاوں کو بھی تحفظ کے انتظام کا فعال حصہ بنانا ہوگا۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / انظر حسن