خالص پٹرول کا متبادل نہیں ملا تو 4 اگست کو وزیر اعظم کی رہائش گاہ تک مارچ کیا جائے گا : کیجریوال کا اعلان
نئی دہلی، یکم اگست (ہ س)۔ عام آدمی پارٹی کے کنوینر اور دہلی کے سابق وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال نے ای-20 پٹرول کے معاملے پر مطالبہ کیا ہے کہ ملک بھر کے پٹرول پمپوں پر صارفین کو خالص پٹرول اور ای-20 پٹرول کے درمیان انتخاب کا اختیار دیا جائے۔ انہوں نے
خالص پٹرول کا متبادل نہیں ملا تو 4 اگست کو وزیر اعظم کی رہائش گاہ تک مارچ کیا جائے گا : کیجریوال کا اعلان


نئی دہلی، یکم اگست (ہ س)۔ عام آدمی پارٹی کے کنوینر اور دہلی کے سابق وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال نے ای-20 پٹرول کے معاملے پر مطالبہ کیا ہے کہ ملک بھر کے پٹرول پمپوں پر صارفین کو خالص پٹرول اور ای-20 پٹرول کے درمیان انتخاب کا اختیار دیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ اگر حکومت یہ مطالبہ تسلیم نہیں کرتی تو 4 اگست کو وہ 100 افراد کے ساتھ وزیر اعظم کی رہائش گاہ تک مارچ نکالیں گے اور دستخطی مہم کے تحت تیار کی گئی عرضی وزیر اعظم کو سونپیں گے۔

کیجریوال نے ہفتہ کے روز کانسٹی ٹیوشن کلب میں منعقدہ ‘نیشنل ٹاؤن ہال’ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت مناسب سائنسی مطالعے کو عوام کے سامنے پیش کیے بغیر لوگوں پر ای-20 پٹرول نافذ کر رہی ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اب تک دو لاکھ سے زیادہ افراد آن لائن عرضی پر دستخط کر چکے ہیں۔ یہ مہم 3 اگست تک جاری رہے گی، جس کے بعد وفد وزیر اعظم کی رہائش گاہ جا کر عرضی سونپے گا۔

انہوں نے الزام لگایا کہ حکومت شہریوں پر ’ملاوٹی پٹرول‘ مسلط کر رہی ہے۔ کیجریوال نے کہا کہ ای-20 کے خلاف سوال اٹھانے والوں کو ڈرایا دھمکایا جاتا ہے اور انہیں ملک مخالف تک کہا جاتا ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ اگر ای-20 واقعی مکمل طور پر محفوظ ہے تو حکومت کھلی بحث سے کیوں بچ رہی ہے۔ ان کے مطابق سوال اٹھانے والوں کے خلاف ایف آئی آر درج کیے جانے سے یہ شبہ پیدا ہوتا ہے کہ حکومت کسی دباؤ میں اس پالیسی کو نافذ کر رہی ہے۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایک سروے کے مطابق 67 فیصد گاڑی مالکان نے ای-20 کے استعمال کے بعد مائلیج کم ہونے کی شکایت کی ہے، جبکہ 45 فیصد افراد نے انجن پر منفی اثر پڑنے کی بات کہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر لاکھوں لوگ ایک جیسی پریشانی کا ذکر کر رہے ہیں تو ان کی بات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے ای-20 سے متعلق تمام مطالعات اور تکنیکی رپورٹیں عوام کے سامنے پیش کرنے کا مطالبہ کیا۔

کیجریوال نے کہا کہ ای-20 پٹرول سے صرف گاڑیاں ہی متاثر نہیں ہو رہیں بلکہ ایتھنول کی پیداوار سے متعلق ماحولیاتی سوالات بھی سامنے آ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایتھنول پلانٹس کے آس پاس زیر زمین پانی کے آلودہ ہونے کی شکایات موصول ہو رہی ہیں۔ انہوں نے 29 گاڑی بنانے والی کمپنیوں کو خط لکھ کر پوچھا ہے کہ کیا 2023 سے پہلے تیار کی گئی گاڑیوں میں ای-20 کا محفوظ استعمال ممکن ہے اور اگر نقصان ہوتا ہے تو کیا کمپنیاں اس کی ذمہ داری لیں گی۔

کیجریوال نے دعویٰ کیا کہ اس پروگرام سے تقریباً چھ لاکھ افراد جڑے۔ پروگرام میں نکڑ ناٹک اور علامتی مظاہروں کے ذریعے ای-20 کے مبینہ نقصانات کو دکھایا گیا۔ پروگرام میں فنکار شیام رنگیلا بھی موجود رہے، جنہوں نے وزیر اعظم کے انداز میں طنزیہ مکالموں کے ذریعے ای-20 پالیسی اور حالیہ سیاسی معاملات پر سوال اٹھائے۔ اس پروگرام میں ملک بھر سے بڑی تعداد میں لوگوں نے آن لائن اور آف لائن شرکت کی۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / عبدالواحد


 rajesh pande