چار اگست کو ای-20 کے خلاف موصول ہونے والی 2 لاکھ درخواستیں لے کر وزیر اعظم سے ملاقات کے لیے جاوں گا: کیجریوال
نئی دہلی، یکم اگست(ہ س )۔ عام آدمی پارٹی کے قومی کنوینر اروند کیجریوال ای-20 پٹرول کے معاملے پر پیچھے ہٹنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ ہفتہ کے روز انہوں نے اعلان کیا کہ وہ 4 اگست (منگل) کو ای-20 کے خلاف ملک کے عوام کی جانب سے آن لائن دستخط کی گئی پٹیشن
چار اگست کو ای-20 کے خلاف موصول ہونے والی 2 لاکھ درخواستیں لے کر وزیر اعظم سے ملاقات کے لیے جاں گا: کیجریوال  نئی دہلی، یکم اگست(ہ س )۔  عام آدمی پارٹی کے قومی کنوینر اروند کیجریوال ای-20 پٹرول کے معاملے پر پیچھے ہٹنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ ہفتہ کے روز انہوں نے اعلان کیا کہ وہ 4 اگست (منگل) کو ای-20 کے خلاف ملک کے عوام کی جانب سے آن لائن دستخط کی گئی پٹیشنیں لے کر وزیر اعظم سے ملاقات کے لیے ان کی رہائش گاہ جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ میں دوپہر 12 بجے 100 لوگوں کے ساتھ وزیر اعظم سے ملاقات کے لیے روانہ ہوں گا۔ انہوں نے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ میرے ساتھ وزیر اعظم کی رہائش گاہ تک صرف وہی لوگ چلیں جو لاٹھی اور جیل جانے سے نہیں ڈرتے۔ ساتھ ہی انہوں نے امید ظاہر کی کہ قائد حزب اختلاف کو جہاں تک جانے کی اجازت دی گئی تھی، انہیں بھی وہاں تک جانے دیا جائے گا۔ اروند کیجریوال نے کہا کہ چند روز قبل میں نے ملک کے عوام سے اپیل کی تھی کہ وہ وزیر اعظم کے نام پٹیشن پر دستخط کریں۔ اب تک 2 لاکھ سے زیادہ لوگوں نے آن لائن پٹیشن پر دستخط کیے ہیں۔ میں نے ان کی پرنٹ آ¶ٹ لے لی ہیں اور منگل، 4 اگست کو دوپہر 12 بجے تمام پٹیشنیں لے کر خود ذاتی طور پر وزیر اعظم کو دینے ان کی رہائش گاہ جا¶ں گا۔سب لوگوں کو آنے کی ضرورت نہیں ہے۔ میں اپنے ساتھ صرف 100 ایسے لوگوں کو لے کر جا¶ں گا جو لاٹھی یا جیل جانے سے نہیں ڈرتے۔ جو لوگ میرے ساتھ جانا چاہتے ہیں، وہ مجھے ٹیگ کرکے لکھ دیں۔ ہم 100 لوگوں کو اپنے ساتھ لے جائیں گے اور وزیر اعظم کی رہائش گاہ کی طرف روانہ ہوں گے، پھر دیکھتے ہیں اس کے بعد کیا ہوتا ہے۔ اروند کیجریوال نے کہا کہ جو لوگ وزیر اعظم کے خلاف آواز اٹھاتے ہیں، ان کے خلاف ایف آئی آر درج کروا دی جاتی ہے۔ ایسے بہت سے لوگ ہیں جن کا ان لوگوں نے جینا دوبھر کر رکھا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ کہیں نہ کہیں کچھ گڑبڑ ضرور ہے اور ای-20 میں بھی گڑبڑ ہے۔ اگر ای-20 درست ہوتا تو وہ آمنے سامنے بیٹھ کر بات کرتے۔ ہم دو ثبوت پیش کرتے اور وہ دو ثبوت پیش کرتے۔ لیکن جب وہ دھمکی دے کر کچھ کروانے کی کوشش کر رہے ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ کہیں نہ کہیں کچھ گڑبڑ ضرور ہے۔ وزیر اعظم کی رہائش گاہ جانے کے اعلان اور سکیورٹی سے متعلق سوال پر اروند کیجریوال نے کہا کہ جس طرح قائد حزب اختلاف کو جہاں تک جانے کی اجازت دی گئی تھی، مجھے امید ہے کہ ہمیں بھی کم از کم وہاں تک جانے کی اجازت دی جائے گی۔اروند کیجریوال نے کہا کہ وزیر اعظم مودی، ٹرمپ کے سامنے کمزور پڑے ہوئے ہیں۔ وزیر اعظم کی کچھ نہ کچھ مجبوریاں ضرور ہیں، جن کی وجہ سے انہوں نے پورے ملک کو ٹرمپ کے سامنے گروی رکھ دیا ہے اور ملک کے عوام بہت دکھی ہیں۔وزیر اعظم کی جو بھی مجبوریاں ہوں، ہم ان سے اپیل کرتے ہیں کہ اگر وہ اپنی مجبوریوں کا سامنا نہیں کر سکتے تو استعفیٰ دے دیں۔ وہ کسی اور کو وزیر اعظم بننے دیں، جو کم از کم ٹرمپ کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر مقابلہ کر سکے، لیکن پورے ملک کو دکھی نہ کریں۔ ہندوستھان سماچار


نئی دہلی، یکم اگست(ہ س )۔

عام آدمی پارٹی کے قومی کنوینر اروند کیجریوال ای-20 پٹرول کے معاملے پر پیچھے ہٹنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ ہفتہ کے روز انہوں نے اعلان کیا کہ وہ 4 اگست (منگل) کو ای-20 کے خلاف ملک کے عوام کی جانب سے آن لائن دستخط کی گئی پٹیشنیں لے کر وزیر اعظم سے ملاقات کے لیے ان کی رہائش گاہ جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ میں دوپہر 12 بجے 100 لوگوں کے ساتھ وزیر اعظم سے ملاقات کے لیے روانہ ہوں گا۔ انہوں نے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ میرے ساتھ وزیر اعظم کی رہائش گاہ تک صرف وہی لوگ چلیں جو لاٹھی اور جیل جانے سے نہیں ڈرتے۔ ساتھ ہی انہوں نے امید ظاہر کی کہ قائد حزب اختلاف کو جہاں تک جانے کی اجازت دی گئی تھی، انہیں بھی وہاں تک جانے دیا جائے گا۔ اروند کیجریوال نے کہا کہ چند روز قبل میں نے ملک کے عوام سے اپیل کی تھی کہ وہ وزیر اعظم کے نام پٹیشن پر دستخط کریں۔ اب تک 2 لاکھ سے زیادہ لوگوں نے آن لائن پٹیشن پر دستخط کیے ہیں۔ میں نے ان کی پرنٹ آؤٹ لے لی ہیں اور منگل، 4 اگست کو دوپہر 12 بجے تمام پٹیشنیں لے کر خود ذاتی طور پر وزیر اعظم کو دینے ان کی رہائش گاہ جاؤں گا۔سب لوگوں کو آنے کی ضرورت نہیں ہے۔ میں اپنے ساتھ صرف 100 ایسے لوگوں کو لے کر جاؤں گا جو لاٹھی یا جیل جانے سے نہیں ڈرتے۔ جو لوگ میرے ساتھ جانا چاہتے ہیں، وہ مجھے ٹیگ کرکے لکھ دیں۔ ہم 100 لوگوں کو اپنے ساتھ لے جائیں گے اور وزیر اعظم کی رہائش گاہ کی طرف روانہ ہوں گے، پھر دیکھتے ہیں اس کے بعد کیا ہوتا ہے۔ اروند کیجریوال نے کہا کہ جو لوگ وزیر اعظم کے خلاف آواز اٹھاتے ہیں، ان کے خلاف ایف آئی آر درج کروا دی جاتی ہے۔ ایسے بہت سے لوگ ہیں جن کا ان لوگوں نے جینا دوبھر کر رکھا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ کہیں نہ کہیں کچھ گڑبڑ ضرور ہے اور ای-20 میں بھی گڑبڑ ہے۔ اگر ای-20 درست ہوتا تو وہ آمنے سامنے بیٹھ کر بات کرتے۔ ہم دو ثبوت پیش کرتے اور وہ دو ثبوت پیش کرتے۔ لیکن جب وہ دھمکی دے کر کچھ کروانے کی کوشش کر رہے ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ کہیں نہ کہیں کچھ گڑبڑ ضرور ہے۔ وزیر اعظم کی رہائش گاہ جانے کے اعلان اور سکیورٹی سے متعلق سوال پر اروند کیجریوال نے کہا کہ جس طرح قائد حزب اختلاف کو جہاں تک جانے کی اجازت دی گئی تھی، مجھے امید ہے کہ ہمیں بھی کم از کم وہاں تک جانے کی اجازت دی جائے گی۔اروند کیجریوال نے کہا کہ وزیر اعظم مودی، ٹرمپ کے سامنے کمزور پڑے ہوئے ہیں۔ وزیر اعظم کی کچھ نہ کچھ مجبوریاں ضرور ہیں، جن کی وجہ سے انہوں نے پورے ملک کو ٹرمپ کے سامنے گروی رکھ دیا ہے اور ملک کے عوام بہت دکھی ہیں۔وزیر اعظم کی جو بھی مجبوریاں ہوں، ہم ان سے اپیل کرتے ہیں کہ اگر وہ اپنی مجبوریوں کا سامنا نہیں کر سکتے تو استعفیٰ دے دیں۔ وہ کسی اور کو وزیر اعظم بننے دیں، جو کم از کم ٹرمپ کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر مقابلہ کر سکے، لیکن پورے ملک کو دکھی نہ کریں۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Md Owais Owais


 rajesh pande