
حیدرآباد ،یکم اگست (ہ س)۔
تلنگانہ میں کالیشورم پروجیکٹ کے ریورس پمپنگ سسٹم کو لے کر کانگریس حکومت اور بی آرایس کے درمیان سیاسی تنازعہ ایک بار پھر شدت اختیارکرگیا ہے۔ بی آر ایس نے دعویٰ کیا ہے کہ جس ریورس پمپنگ طریقہ کار کو کانگریس حکومت نے پہلے فضول اور غیرمؤثرقراردیا تھا، اب اسی طریقے سے کسانوں کو آبپاشی کے لیے پانی فراہم کیاجارہا ہے۔ بی آرایس کے مطابق کانگریس حکومت نے کالیشورم پروجیکٹ کے ریورس پمپنگ پر تنقید کرتے ہوئے اسے بیکارقراردیاتھا،لیکن اب ایس آرایس پی فلڈ فلو کینال میں پانی پہنچانے کے لیے رام پور پمپ ہاؤس کے موٹروں کو دوبارہ شروع کیا گیا ہے۔ پارٹی کا کہنا ہے کہ کالیشورم پروجیکٹ کے پمپ ہاؤسز کے ذریعے گوداوری کا پانی ریورس پمپنگ کے ذریعہ ایس آر ایس پی فلڈ فلو کینال تک پہنچایا جا رہا ہے۔ بی آر ایس نے دعویٰ کیا کہ اس پانی کی فراہمی سے تقریباً 2 لاکھ ایکڑ اراضی کو آبپاشی کی سہولت حاصل ہو رہی ہے، جس سے کسانوں کو فائدہ پہنچ رہا ہے۔ بی آر ایس نے موجودہ صورتحال کو کانگریس حکومت کی سابقہ تنقید سے جوڑتے ہوئے سوال اٹھایا کہ اگر ریورس پمپنگ غیر ضروری اور فضول تھی تو اب اسی طریقہ کار کے ذریعے آبپاشی کے لیے پانی کیوں اٹھایا جا رہا ہے۔ کالیشورم پروجیکٹ اور اس کے پمپنگ سسٹم کو لے کر تلنگانہ میں پہلے سے جاری سیاسی بحث کے درمیان پانی کی یہ منتقلی ایک بار پھر دونوں بڑی جماعتوں کے درمیان لفظی جنگ کا باعث بن گئی ہے۔
۔ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمدعبدالخالق