ملک بھر کے اسپتالوں میں ’پروجیکٹ سارتھی‘ کی توسیع کی تیاری، مرکزی وزیر صحت نے جائزہ لیا
نئی دہلی، یکم اگست (ہ س )۔ مرکزی وزیر صحت و خاندانی بہبود جگت پرکاش نڈا نے ہفتہ کو ملک بھر کے اسپتالوں اور طبی اداروں میں ’پروجیکٹ سارتھی‘ کی توسیع کے امکانات کا جائزہ لینے کے لیے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کی۔ اجلاس میں مرکزی وزیر محنت و روزگ
ملک بھر کے اسپتالوں میں ’پروجیکٹ سارتھی‘ کی توسیع کی تیاری، مرکزی وزیر صحت نے جائزہ لیا


نئی دہلی، یکم اگست (ہ س )۔

مرکزی وزیر صحت و خاندانی بہبود جگت پرکاش نڈا نے ہفتہ کو ملک بھر کے اسپتالوں اور طبی اداروں میں ’پروجیکٹ سارتھی‘ کی توسیع کے امکانات کا جائزہ لینے کے لیے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کی۔ اجلاس میں مرکزی وزیر محنت و روزگار، نوجوانوں کے امور اور کھیل ڈاکٹر منسکھ مانڈویہ بھی موجود تھے۔

اجلاس میں پی جی آئی ایم ای آر، چنڈی گڑھ میں نافذ پروجیکٹ سارتھی کے نفاذ اور اس کے اثرات کا جائزہ لیا گیا اور اس منصوبے کو مرکزی سرکاری اسپتالوں اور دیگر طبی اداروں میں نافذ کرنے کے امکانات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

اس موقع پر نڈا نے کہا کہ مریض ۔مرکوز طبی خدمات صرف علاج تک محدود نہیں ہوتیں بلکہ اس میں مریضوں اور ان کے اہل خانہ کو اسپتال میں بروقت رہنمائی، مدد اور ہمدردانہ تعاون فراہم کرنا بھی شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ پروجیکٹ سارتھی نے ثابت کیا ہے کہ منظم رضاکارانہ شمولیت سے مریضوں کو بہتر سہولتیں ملتی ہیں اور ڈاکٹروں و طبی عملے کو اپنے طبی فرائض پر زیادہ مو¿ثر انداز میں توجہ دینے کا موقع حاصل ہوتا ہے۔

اجلاس میں بتایا گیا کہ پی جی آئی ایم ای آر، چنڈی گڑھ میں سارتھی رضاکاروں نے مریضوں کی رہنمائی، وہیل چیئر اور اسٹریچر کی فراہمی، مختلف جانچ خدمات تک رسائی اور دیگر غیر طبی معاونت فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ اب تک اس منصوبے سے 2500 سے زائد رضاکار وابستہ ہو چکے ہیں، جنہوں نے ڈیڑھ لاکھ سے زیادہ گھنٹے خدمات انجام دی ہیں۔ پی جی آئی ایم ای آر کے شعبہ کمیونٹی میڈیسن کی ایک تحقیق کے مطابق اس اقدام سے مستفید ہونے والے مریضوں کے اسپتال میں رہنمائی حاصل کرنے کے وقت میں تقریباً 26 فیصد کمی درج کی گئی ہے۔

اجلاس میں نوجوانوں کے امور اور کھیل کی وزارت کی ’مائی بھارت‘ پہل کے ساتھ پروجیکٹ سارتھی کے انضمام کا بھی جائزہ لیا گیا۔ رضاکاروں کے اندراج، تربیت، حاضری، مریضوں سے حاصل ہونے والے تاثرات اور آبھا (اے بی ایچ اے) آئی ڈی بنانے کے لیے ڈیجیٹل پلیٹ فارم کے استعمال پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔

اجلاس میں وزارت صحت و خاندانی بہبود، وزارت نوجوانان و کھیل اور مختلف مرکزی اسپتالوں کے سینئر حکام اور ڈاکٹروں نے شرکت کی۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / عطاءاللہ


 rajesh pande