
جموں ، یکم اگست (ہ س): جموں و کشمیر کے وزیر برائے قبائلی امور جاوید احمد رانا نے کہا ہے کہ حکومت نے مرکز کے زیر انتظام علاقے میں فاریسٹ رائٹس ایکٹ 2006 کو اس کی حقیقی روح کے مطابق مکمل طور پر نافذ کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جبکہ جنگلاتی اراضی پر کسی بھی نئی تجاوزات کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ جموں میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جاوید رانا نے کہا کہ حکومت نے تمام ڈپٹی کمشنروں کو ہدایت دی ہے کہ وہ فاریسٹ رائٹس ایکٹ کے تحت موصول ہونے والے تمام زیر التوا اور نئے دعووں کی وصولی، جانچ اور تصفیے کے عمل کو تیز کریں تاکہ مستحق درج فہرست قبائل اور دیگر روایتی جنگلاتی باشندوں کو ان کے قانونی حقوق فراہم کیے جا سکیں۔
انہوں نے کہا کہ اگرچہ فاریسٹ رائٹس ایکٹ 2019 میں جموں و کشمیر میں نافذ کیا گیا تھا، تاہم اس پر مؤثر عمل درآمد نہ ہونے کی وجہ سے بڑی تعداد میں مستحق افراد اس کے فوائد سے محروم رہے۔ اب قبائلی امور کا محکمہ اس قانون کے نفاذ کے لیے نوڈل محکمہ مقرر کیا گیا ہے۔وزیر نے بتایا کہ عمل درآمد کو مؤثر بنانے کے لیے ایک پروجیکٹ مینجمنٹ یونٹ (پی ایم یو) قائم کیا گیا ہے، جبکہ جموں، کشمیر اور پونچھ کے لیے تین ماہرین بھی نامزد کیے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ ہر ضلع میں عمل درآمد کے خصوصی سیل قائم کیے جا رہے ہیں، جو جلد کام شروع کریں گے۔
جاوید رانا نے کہا کہ دور دراز علاقوں میں رہنے والے قبائلی خاندانوں کو دعوے جمع کرانے میں پیش آنے والی مشکلات دور کرنے کے لیے پی ایم یو ہر ممکن مدد فراہم کرے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ فاریسٹ رائٹس ایکٹ کے تحت نوٹس جاری کرنے کا اختیار محکمہ جنگلات کے پاس نہیں بلکہ متعلقہ قانونی طریقہ کار کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ جو لوگ برسوں سے جنگلاتی اراضی پر آباد ہیں یا کاشتکاری کر رہے ہیں، انہیں اس وقت تک بے دخل نہیں کیا جائے گا جب تک ان کے دعووں کی جانچ اور تصدیق کا عمل مکمل نہیں ہو جاتا۔ تاہم جنگلاتی اراضی پر کسی بھی نئی تجاوزات کو ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا۔وزیر نے مزید بتایا کہ قبائلی برادری کے خلاف مبینہ زیادتیوں کی تحقیقات کے لیے حکومت نے انکوائریاں کرائی ہیں اور جہاں بھی غیر قانونی اقدامات ثابت ہوں گے، وہاں ذمہ داروں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ درج فہرست قبائل، خانہ بدوش برادریوں اور دیگر پسماندہ طبقات کے حقوق کا تحفظ حکومت کی اولین ترجیح ہے اور فاریسٹ رائٹس ایکٹ پر مؤثر عمل درآمد سے ہزاروں مستحق خاندانوں کو ان کے قانونی حقوق مل سکیں گے۔
ہندوستھان سماچار
--------------
ہندوستان سماچار / محمد اصغر