

نئی دہلی، یکم اگست (ہ س) ۔دہلی کی وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا نے ہفتہ کو ”دلی لکشمی یوجنا“ کا باضابطہ آغاز کیا۔ وزیر اعلی نے مشرقی دہلی میں واقع ضلع مجسٹریٹ آفس (ڈی ایم آفس) میں منعقدہ ایک تقریب میں اسکیم کے آن لائن رجسٹریشن پورٹل ( www.dly.delhi.gov.in ) کا آغاز کیا۔
اس اسکیم کے ذریعے، اہل خواتین کو ہر ماہ 2500 روپے کی مالی امداد ملے گی۔ یہ اسکیم مالی امداد سے آگے بڑھ کر ملک خواتین کو بچت، ڈیجیٹل مالیاتی شمولیت، سماجی تحفظ اور طویل مدتی اقتصادی استحکام سے جوڑنے والی ملک کی ایک منفرد ماڈل بن جائے گی۔
اس موقع پر وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا نے کہا کہ دہلی حکومت اب خواتین کو معاشی طور پر بااختیار بنانے کے اپنے عہد کو عملی جامہ پہنا رہی ہے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ دہلی کی کابینہ نے اس اسکیم کو ”مہیلا سمردھی یوجنا“ کے طور پر منظوری دی تھی، لیکن بعد میں، خواتین کے احترام، خوشحالی اور اقتصادی بااختیار بنانے کے وسیع جذبے کو مدنظر رکھتے ہوئے، اس کا نام دلی لکشمی یوجنا رکھا گیا۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ابتدائی مرحلے میں یہ اسکیم تین سال کے لیے نافذ کی جائے گی اور اس سے تقریباً 17 لاکھ خواتین مستفید ہوں گی۔ اسکیم کے ذریعے اہل خواتین کو2500 روپے کی مالی امداد فراہم کی جائے گی، جس سے وہ اپنےگھر کی ضروریات کو پورا کرنے کے ساتھ ساتھ مستقبل کے لیے مالی بچت کو یقینی بناسکیں گی۔
انہوں نے وضاحت کی کہ اس اسکیم کو روایتی نقد امدادی اسکیموں سے مختلف شکل دی گئی ہے۔مستحقین کو ان کی ضروریات کی بنیاد پر دو مالی متبادل پیش کیے جائیں گے۔ پہلے متبادل میں، 1,000 روپے ہر ماہ سینٹرل بینک کے ڈیجیٹل کرنسی والیٹ میں دستیاب ہوں گے، جن کا استعمال روزمرہ کی ضروریات کے لیے استعمال کیے جاسکے گا، جبکہ باقی 1,500روپے آر ڈی اور ایف ڈی میں جمع کیے جائیں گے۔ دوسرے متبادل میں، پورے 2,500 روپے ہر ماہ آر ڈی اور ایف ڈی میں جمع کیے جائیں گے، جو وقت کے ساتھ ساتھ سود کے ساتھ خاطر خواہ بچت کی بنیاد بنے گی۔ اس طرح یہ اسکیم خواتین کو فوری مالی امداد کے ساتھ ساتھ طویل مدتی مالی تحفظ فراہم کرے گی۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ سرکاری فنڈ کا استعمال صرف خاندان کی لازمی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے سی بی ڈی سی والیٹ میں ایک ڈیجیٹل نگیٹو لسٹ لاگو کی جائے گی۔ اس فہرست کے تحت موصول ہونے والے رقم کا استعمال شراب، تمباکو، منشیات، لاٹری ٹکٹ، جوا، سٹے بازی یا حکومت کی طرف سے وقتاً فوقتاً ممنوعہ دیگر اشیا اور خدمات کی خریداری کے لیے نہیں کیا جاسکے گا۔ یہ اس بات کو یقینی بنائے گا کہ حکومتی امداد خاندان کے بہترین مفاد میں استعمال کی جائے۔
ریکھا گپتا نے کہا کہ دلی لکشمی یوجنا مکمل طور پر ٹیکنالوجی پر مبنی اور ڈیجیٹل طور پر چلائی جائے گی۔ نیا شروع کیا گیاڈی ایل وائی پورٹل تمام خدمات بشمول درخواست، دستاویز کی تصدیق، اہلیت کی جانچ، منظوری، پی ایف ایم ایس انضمام، بینکنگ خدمات،سی بی ڈی سی ٹرانسفر، اور ایم ایس ایس کو مربوط کرے گا۔ اس سے پورا عمل تیز، شفاف اور جوابدہ ہو گا۔
ہر درخواست کو قبول کیے جانے سے پہلے چار مراحل کی جانچ پڑتال اور منظوری کے عمل سے گزرنا پڑے گا۔ ڈسٹرکٹ پروگرام مینجمنٹ یونٹ پہلے درخواست کی جانچ کرے گا۔ اس کے بعد ڈسٹرکٹ ویمن اینڈ چائلڈ ڈیولپمنٹ آفیسر سے تصدیق کی جائے گی۔ اس کے بعد ضلع سطح کی منظوری، نگرانی اور شکایت کے ازالے کی کمیٹی درخواست کا جائزہ لے گی اور اسے منظور کرے گی۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کہ صرف حقیقی طور پر اہل مستحقین کو ہی اسکیم کے تحت مدد ملے، آدھار کی تصدیق، دہلی ووٹر رجسٹریشن، سالانہ آمدنی، خاندان کی تفصیلات، بجلی کی کھپت، گاڑی کی ملکیت، پنشن، سرکاری سروس ریکارڈ اور دیگر مقررہ معیارات کی بنیاد پر تفصیلی چھان بین کی جائے گی۔ کسی بھی غلط بیانی یا دھوکہ دہی کی صورت میں امدادی رقم کی وصولی اور ضروری قانونی اور انتظامی کارروائی کے انتظامات کیے گئے ہیں۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ خاندان کی سب سے عمر رسیدہ خاتون اس اسکیم کے تحت درخواست دے سکتی ہے۔ مستحقینکی عمر 21 سے 60 سال کے درمیان ہونی چاہیے، خاندان کی سالانہ آمدنی 2.50 لاکھ روپے تک ہونی چاہیے، درخواست دہندہ یا ان کے والدین اور شوہر کم از کم 10 سال سے دہلی کے رہائشی ہوں اور مستحق والا دہلی میں رجسٹرڈ ووٹر ہونا چاہیے۔ اہلیت کے مقررہ معیار پر پورا اترنے والی خواتین کی درخواستیں ہی قبول کی جائیں گی۔
انہوں نے کہا کہ اسکیم کے موثر نفاذ کے لیے ریاستی سطح پر ایک اسٹیٹ پروگرام مینجمنٹ یونٹ اور دہلی کے تمام 13 اضلاع میں ڈسٹرکٹ پروگرام مینجمنٹ یونٹ قائم کیے جائیں گے۔ اہل درخواستوں کو منظور کرنے، شکایات کو حل کرنے اور اسکیم کے نفاذ کی باقاعدگی سے نگرانی کرنے کے لیے ہر ضلع میں ضلع سطح کی منظوری، نگرانی، اور شکایات کے ازالے کی کمیٹی بنائی جائے گی، جس کی سربراہی ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کرے گی۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ اس اسکیم کو خواتین اور بچوں کی ترقی کے محکمے، ضلع انتظامیہ، پے اینڈ اکاو¿نٹس آفس، بینکنگ پارٹنرز، پی ایف ایم ایس، یو آئی ڈی اے آئی، این پی سی آئی اور دیگر تکنیکی اداروں کے ساتھ تعاون کر کے لاگو کیا جائے گا۔ اسکیم کی باقاعدہ نگرانی ڈیش بورڈز، کی پرفارمینس انڈیکیٹرس، ایم آئی ایس، ڈیٹا اینالیٹکس، فیلڈ ویری فکیشن، سوشل آڈٹ، تھرڈ پارٹی ایویلیویشن اور اثرات کے جائزوں کے ذریعے کی جائے گی، جس سے شفافیت اور جوابدہی کو یقینی بنایا جائے گا۔
وزیر اعلیٰ نے خواتین سے اپیل کی کہ وہ یکم اگست سے www.dly.delhi.gov.in پر آن لائن درخواست دے کر اس اسکیم کے فوائد حاصل کریں۔ پورٹل انہیں درخواست فارم بھرنے اور مطلوبہ دستاویزات اپ لوڈ کرنے کی اجازت دے گا۔ درخواست کے دوران، مستفیدین اپنے پسندیدہ مالیاتی متبادل کو منتخب کر سکیں گے اور اپنے سی بی ڈی سی والیٹ یا بینک اکاو¿نٹ کو اسکیم سے لنک کر سکیں گے۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ دلی لکشمی یوجنا صرف ماہانہ مالی امداد فراہم کرنے تک محدود نہیں ہے۔ اسکیم کے تحت مستفیدین کو مختلف سرکاری اسکیموں اور خدمات سے بھی جوڑا جائے گا۔ ان میں اپار آئی ڈی، آبھا آئی ڈی، نیوٹریشن ٹریکر، ویکسینیشن،ایک پیڑ ماں کے نام مہم، سوچھ بھارت مشن اور دیگر سماجی ترقی کے پروگرام شامل ہیں۔
اس کے علاوہ خواتین کو سیلف ہیلپ گروپس اور اسکل ڈیولپمنٹ اورصنعت کاری تربیت سے جوڑنے کی کوشش کی جائے گی، تاکہ وہ طویل مدت میں خود انحصار بن سکیں۔ انہوں نے کہا کہ دلی لکشمی یوجنا صرف ایک فلاحی اسکیم نہیں ہے، بلکہ خواتین کے وقار، اقتصادی تحفظ، بچت کی ثقافت اوروکست دہلی کی تعمیر میں ان کی شراکت کو بااختیار بنانے والی ایک جامع سماجی تبدیلی کی مہم ہے۔
اس موقع پر لکشمی نگر سے ایم ایل اے ابھے ورما، پٹ پڑگنج سے ایم ایل اے رویندر نیگی، ترلوک پوری سے ایم ایل اے روی کانت، کرشنا نگر سے ایم ایل اے انل گوئل، شاہدرہ سے ایم ایل اے سنجے گوئل کے ساتھ متعلقہ محکمہ کے افسران، معززین اور خواتین کی بڑی تعداد موجود تھی۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمد شہزاد