
گوہاٹی، یکم اگست (ہ س)۔ آسام میں حالیہ سیلاب کی تباہ کاریوں کے اثرات اب بھی نمایاں ہیں۔ سب سے زیادہ نقصان ریاست کے شیوساگر اور چرائی دیو اضلاع میں ہوا ہے، جہاں کئی دیہات مکمل طور پر تباہ ہو چکے ہیں۔ سب سے افسوس ناک صورتحال شیوساگر ضلع کے نیپالی کھونٹی گاؤں کی ہے، جہاں سو سے زائد خاندان آباد تھے، مگر اب تقریباً پورا گاؤں سیلاب کی نذر ہو چکا ہے۔
سیلاب سے بچ جانے والے افراد امدادی کیمپوں اور نسبتاً بلند مقامات پر خیموں میں پناہ لیے ہوئے ہیں اور دوبارہ زندگی شروع کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ یہ گاؤں دودھ کی پیداوار کے لیے مشہور تھا، تاہم اب یہاں ایک بھی مویشی باقی نہیں بچا۔ دشوار گزار علاقہ ہونے کے باعث امدادی اور بچاؤ کی کارروائیاں بھی مکمل طور پر وہاں تک نہیں پہنچ سکی ہیں۔ گاؤں میں کتنے افراد محفوظ رہے اور کتنے جان کی بازی ہار گئے، اس کی سرکاری تصدیق ابھی تک نہیں ہو سکی۔
اگرچہ بیشتر دریاؤں کے پانی میں نمایاں کمی آ چکی ہے، تاہم متاثرہ علاقوں میں معمولاتِ زندگی بحال ہونے میں ابھی وقت لگے گا۔ بالائی آسام کے شیوساگر، چرائی دیو، جورہاٹ اور گولاگھاٹ اضلاع سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں، جہاں سرکاری اور نجی سطح پر امدادی سرگرمیاں جاری ہیں، مگر بیشتر متاثرین اب بھی اپنے گھروں کو واپس نہیں جا سکے۔
آسام اسٹیٹ ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی(اے ایس ڈی ایم اے)کی جانب سے 31 جولائی کو جاری اعداد و شمار کے مطابق دھنسری ندی نمولی گڑھ کے مقام پر اب بھی خطرے کے نشان سے اوپر بہہ رہی ہے، جس کے باعث مقامی آبادی میں تشویش برقرار ہے۔اسی دوران شیوساگر اور چرائی دیو اضلاع سے ایک، ایک لاش برآمد ہونے کے بعد سیلاب سے ہلاک ہونے والوں کی مجموعی تعداد 82 ہو گئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق اس وقت بھی ریاست کے پانچ اضلاع، یعنی شیوساگر، گولاگھاٹ، جورہاٹ، ناگاؤں اور چرائی دیو سیلاب سے متاثر ہیں۔ ان اضلاع کے 17 ریونیو سرکلز کے 379 دیہات زیرِ اثر ہیں، جبکہ ایک لاکھ 92 ہزار 799 افراد اب بھی سیلاب سے متاثر ہیں۔ اس کے علاوہ 15 ہزار 430 ہیکٹر زرعی اراضی اب بھی زیرِ آب ہے۔
ریاستی حکومت نے متاثرین کے لیے 54 امدادی کیمپ اور 26 امدادی تقسیم مراکز سمیت مجموعی طور پر 80 مراکز قائم کیے ہیں۔ ان امدادی کیمپوں میں 12 ہزار 994 افراد مقیم ہیں، جبکہ 5 ہزار 384 دیگر متاثرین امدادی مراکز سے ضروری سامان حاصل کر رہے ہیں۔سیلاب سے مویشیوں کو بھی بھاری نقصان پہنچا ہے۔ اب تک 10 ہزار 855 جانور متاثر ہونے کی تصدیق ہوئی ہے، جن میں 4 ہزار 755 بڑے جانور، 4 ہزار 629 چھوٹے جانور اور 1 ہزار 471 پولٹری پرندے شامل ہیں۔ صرف شیوساگر ضلع میں 1 ہزار 461 مویشی سیلابی ریلے میں بہہ گئے۔
31 جولائی تک کے اعداد و شمار کے مطابق شیوساگر اور چرائی دیو اضلاع میں 879 کچے مکانات مکمل طور پر تباہ ہو چکے ہیں، جبکہ 134 پکے مکانات بھی مکمل طور پر منہدم ہوئے ہیں۔ اس کے علاوہ 2 ہزار 22 کچے اور 547 پکے مکانات کو جزوی نقصان پہنچا ہے۔ دیگر جھونپڑیوں اور مویشیوں کے باڑوں کو بھی بڑے پیمانے پر نقصان پہنچا ہے۔
ریاست میں امدادی اور ریسکیو کارروائیوں میں ایس ڈی آر ایف، این ڈی آر ایف، فوج، نیم فوجی دستے، فضائیہ، پولیس، فائر اینڈ ایمرجنسی سروسز، ضلعی انتظامیہ، سول ڈیفنس اور تربیت یافتہ رضاکار حصہ لے رہے ہیں۔ متاثرہ علاقوں میں 64 طبی ٹیمیں تعینات کی گئی ہیں، جبکہ امدادی سرگرمیوں کے لیے تین کشتیاں بھی استعمال کی جا رہی ہیں۔ریاستی حکومت کی جانب سے متاثرین میں چاول، دال، نمک، سرسوں کا تیل اور مویشیوں کے لیے گندم اور چاول کی بھوسی سمیت بڑی مقدار میں امدادی سامان تقسیم کیا گیا ہے۔سیلاب سے سڑکوں، پلوں اور دیگر بنیادی ڈھانچے کو بھی وسیع پیمانے پر نقصان پہنچا ہے۔ ریاستی حکومت مسلسل صورتحال کا جائزہ لے رہی ہے۔ وزیر اعلیٰ ڈاکٹر ہیمنت بسوا سرما متعلقہ حکام کے ساتھ مسلسل اجلاس کر رہے ہیں اور متاثرین تک خوراک، ضروری اشیائے ضروریہ اور مالی امداد کی بروقت فراہمی کے لیے ضروری ہدایات جاری کر رہے ہیں۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan