
اسلام آباد، 04 جولائی (ہ س): اقوام متحدہ کے تعلیمی، سائنسی اور ثقافتی ادارے یونیسکو نے پاکستان کو عالمی ثقافتی ورثے کے مقام ٹیکسلا میں دو قدیم یادگاروں پر کی گئی تعمیرِ نو کے معاملے پر سخت وارننگ دی ہے۔ ادارے نے کہا ہے کہ اگر تعمیراتی کام کو اصل تاریخی شکل کے مطابق بحال نہ کیا گیا تو ٹیکسلا کو خطرے سے دوچار عالمی ثقافتی ورثے کی فہرست میں شامل کیا جا سکتا ہے، اور اس کا عالمی ثقافتی ورثے کا درجہ بھی متاثر ہو سکتا ہے۔
روس کے بین الاقوامی سرکاری نیوز ٹی وی نیٹ ورک رشیا ٹوڈے (آر ٹی) نے مقامی میڈیا کے حوالے سے بتایا کہ یونیسکو نے حال ہی میں پاکستانی حکومت کے اعلیٰ حکام کے ساتھ ہونے والی ایک میٹنگ میں واضح کیا کہ تاریخی مقامات پر غیر ضروری تبدیلیاں ان کی اصلیت اور تاریخی اہمیت کو نقصان پہنچاتی ہیں۔ ادارے نے جرمنی میں واقع ایک عالمی ثقافتی ورثے کے مقام کی مثال بھی دی، جسے اسی طرح کی وجوہات کی بنا پر عالمی ورثے کی فہرست سے خارج کر دیا گیا تھا۔
یونیسکو نے خاص طور پر ٹیکسلا کے دو اہم آثارِ قدیمہ کے مقامات موہڑا موراڈو اور سرکپ پر کی گئی تعمیرِ نو پر اعتراض کیا ہے۔ ادارے کا کہنا ہے کہ ان کاموں سے یادگاروں کی اصل تاریخی شکل متاثر ہوئی ہے۔
یہ معاملہ اس وقت سامنے آیا جب ایک نامعلوم شخص نے پیرس میں قائم یونیسکو میں پاکستان کے مستقل نمائندے کو تصاویر اور دستاویزات کے ذریعے ان تعمیراتی کاموں کی معلومات بھیجیں۔ شکایت میں الزام لگایا گیا کہ پنجاب کے محکمہ آثارِ قدیمہ نے کئی مقامات پر قدیم اصل دیواروں کی جگہ نئی دیواریں تعمیر کیں اور بعض حصوں کی اونچائی بھی بڑھا دی۔
شکایت موصول ہونے کے بعد یونیسکو کی ایک ٹیم نے ٹیکسلا کا دورہ کر کے صورتحال کا جائزہ لیا۔ معائنے کے بعد ادارے نے پاکستان سے مطالبہ کیا کہ تعمیرِ نو کے کام کا دوبارہ جائزہ لیا جائے اور اسے اصل تاریخی شکل کے مطابق بحال کیا جائے۔
ٹیکسلا قدیم زمانے میں تعلیم اور ثقافت کا ایک بڑا مرکز تھا، جس کی تاریخی وراثت چھٹی صدی قبل مسیح تک پہنچتی ہے۔ یونیسکو نے 1980 میں اسے عالمی ثقافتی ورثے کا درجہ دیا تھا۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / عبدالواحد