
ویلنیوس، 04 جولائی (ہ س)۔ یورپی ملک لیتھوانیا کی پارلیمنٹ (سیماس) میں جوہری ہتھیاروں کی تعیناتی پر لگی آئینی پابندی ہٹانے کے لیے آئینی ترمیم کی تجویز پیش کی گئی ہے۔ اس تجویز کو پارلیمنٹ کے 141 میں سے 51 ارکانِ پارلیمنٹ کی حمایت حاصل ہے، جس سے اسے باضابطہ طور پر پارلیمنٹ میں درج کرا دیا گیا ہے۔
تجویز کے تحت آئین کی دفعہ 137 کو ختم کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ اس دفعہ کے مطابق لیتھوانیا میں بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں اور غیر ملکی فوجی اڈوں کی تعیناتی پر پابندی ہے۔
یہ پہل صدر گیتاناس نوسیدا کے اس بیان کے بعد سامنے آئی ہے، جس میں انہوں نے اس آئینی شق کو ’’پرانا‘‘ بتاتے ہوئے کہا تھا کہ بدلتے ہوئے سیکورٹی حالات میں ملک کو مستقبل کے اختیارات کھلے رکھنے چاہئیں۔ پارلیمانی جماعتوں کے رہنماوں کے ساتھ میٹنگ کے بعد نوسیدا نے کہا کہ زیادہ تر سیاسی جماعتیں دفعہ 137 کو پوری طرح ہٹانے کے حق میں ہیں۔
صدر کا کہنا ہے کہ علاقائی سیکورٹی کا ماحول مسلسل چیلنجنگ ہوتا جا رہا ہے اور لیتھوانیا کو ناٹو کے اندر کسی ’’کمزور کڑی‘‘ یا ’’گرے زون‘‘ کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے۔ انہوں نے فن لینڈ کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ ناٹو میں شامل ہونے کے بعد وہاں بھی جوہری ہتھیاروں سے جڑی پابندیوں میں تبدیلی کی گئی ہے۔
تاہم روس نے لیتھوانیا اور دیگر بالٹک ممالک کی طرف سے ظاہر کی جانے والی سیکورٹی تشویش کو خارج کیا ہے۔ ماسکو کا کہنا ہے کہ ناٹو ممالک پر حملہ کرنے کا اس کا کوئی ارادہ نہیں ہے اور روس کے مبینہ خطرے کا حوالہ دے کر مشرقی یورپ میں فوجی موجودگی بڑھائی جا رہی ہے۔
اس دوران بین الاقوامی میڈیا رپورٹوں میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ امریکہ ناٹو کے مشرقی حصے کے بعض ممالک میں اپنے جوہری ہتھیاروں کی ممکنہ تعیناتی پر غور کر رہا ہے۔ روس کی سرحد سے متصل کئی ممالک نے ایسی تعیناتی میں دلچسپی بھی دکھائی ہے۔
یورپ میں بڑھتی ہوئی عسکریت پسندی کے درمیان ناٹو قیادت رکن ممالک سے اپنی دفاعی تیاریاں مضبوط کرنے کی اپیل کر رہی ہے۔ دوسری طرف روس نے انتباہ دیا ہے کہ اگر اس کی سرحدوں کے قریب ناٹو کا جوہری ڈھانچہ قائم کیا جاتا ہے، تو اسے براہِ راست فوجی خطرے کے طور پر دیکھا جائے گا اور اس کے مطابق جواب دیا جائے گا۔ ساتھ ہی روس نے یہ بھی کہا ہے کہ وہ ناٹو کے ساتھ برابری کی بنیاد پر بات چیت کے لیے تیار ہے۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / انظر حسن