
ڈھاکہ، 04 جولائی (ہ س)۔ میانمار کی ریاست رکھائن میں تیز ہوتی فوجی جھڑپوں کے درمیان بنگلہ دیش-میانمار سرحد پر کشیدگی بڑھ گئی ہے۔ سرحد سے متصل ٹیکناف اور آس پاس کے علاقوں میں رہنے والے لوگوں کو خدشہ ہے کہ تشدد کی وجہ سے روہنگیا پناہ گزینوں کی ایک نئی لہر بنگلہ دیش کا رخ کر سکتی ہے۔
مقامی باشندوں اور رکھائن میں رہنے والے اپنے رشتہ داروں کے رابطے میں رہنے والے روہنگیا پناہ گزینوں کے مطابق، گزشتہ دو دنوں سے سرحد پار مسلسل بھاری گولی باری اور دھماکوں کی آوازیں سنائی دے رہی ہیں۔ بتایا جا رہا ہے کہ میانمار کی فوج نے مونگڈاو، بوتھیڈانگ اور اراکان آرمی کے کنٹرول والے دیگر علاقوں میں اپنی فوجی مہم تیز کر دی ہے۔
سرحدی علاقے شاہ پوریر جزیرے کے باشندے شاہ عالم نے بتایا کہ دھماکے اتنے طاقتور تھے کہ گھر زلزلے جیسی شدت سے ہلنے لگے۔
تاہم، بنگلہ دیشی حکام نے ان خبروں کی تصدیق نہیں کی ہے جن میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ بڑی تعداد میں روہنگیا ناف ندی کے کنارے بنگلہ دیش میں داخلے کا انتظار کر رہے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ سرحد پر حالات پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے۔
کاکس بازار کے بالو خالی پناہ گزین کیمپ کے ایک روہنگیا کمیونٹی لیڈر نے بتایا کہ مونگڈاو میں صورتحال انتہائی سنگین ہے اور کئی خاندان محفوظ مقامات کی تلاش میں ہیں۔
بنگلہ دیش میں پہلے ہی 10 لاکھ سے زیادہ روہنگیا پناہ گزین رہ رہے ہیں، جو میانمار میں برسوں سے جاری تشدد، خاص طور پر 2017 کی بڑی ہجرت کے دوران، اپنے گھر چھوڑ کر آئے تھے۔ ایسے میں رکھائن میں دوبارہ بڑھتے ہوئے تشدد نے سرحدی سیکورٹی کے حوالے سے تشویش بڑھا دی ہے۔
ٹیکناف ذیلی ضلع انتظامیہ نے کہا ہے کہ اب تک کسی نئے داخلے کی باضابطہ تصدیق نہیں ہوئی ہے۔ دوسری طرف، بارڈر گارڈ بنگلہ دیش (بی جی بی) نے ناف ندی اور دیگر حساس علاقوں میں گشت بڑھا دیا ہے۔
اس دوران، میانمار کی سرحد پر بڑھتے ہوئے تصادم کا اثر تھائی لینڈ پر بھی پڑا ہے۔ میانمار کی فوج اور کرین نیشنل لبریشن آرمی کے درمیان تصادم کے دوران سرحد پار سے ہوئی گولی باری میں تھائی لینڈ کے تاک صوبے میں کچھ گھروں کو نقصان پہنچنے کے بعد تھائی انتظامیہ نے سرحد پار کرنے والے تمام راستے غیر معینہ مدت کے لیے بند کر دیے ہیں اور اضافی سیکورٹی فورسز تعینات کر دی ہیں۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / انظر حسن