مل مزدوروں کو مکانات فراہم کرنے کا عمل آخری مرحلے میں، ایک لاکھ 705 اہل درخواستوں کی جانچ مکمل
ممبئی ، 4 جولائی (ہ س)۔ مہاراشٹر کے وزیر محنت آکاش فنڈکر نے کہا ہے کہ مل مزدوروں کو مکانات فراہم کرنے کا عمل اب آخری مرحلے میں پہنچ چکا ہے اور اب تک ایک لاکھ 705 اہل درخواست دہندگان کی جانچ پڑتال مکمل کر لی گئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ جلد ہی اہل مل
مل مزدوروں کو مکانات فراہم کرنے کا عمل آخری مرحلے میں، ایک لاکھ 705 اہل درخواستوں کی جانچ مکمل


ممبئی ، 4 جولائی (ہ س)۔ مہاراشٹر کے وزیر محنت آکاش فنڈکر نے کہا ہے کہ مل مزدوروں کو مکانات فراہم کرنے کا عمل اب آخری مرحلے میں پہنچ چکا ہے اور اب تک ایک لاکھ 705 اہل درخواست دہندگان کی جانچ پڑتال مکمل کر لی گئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ جلد ہی اہل مل مزدوروں کو مہاڈا کے ذریعے مکانات الاٹ کرنے کا عمل شروع کیا جائے گا۔وزیر آکاش فنڈکر نے کہا کہ جن درخواست دہندگان کو ابتدائی طور پر اہل قرار نہیں دیا گیا ہے، انہیں بھی ضروری دستاویزات جمع کرانے کا ایک اور موقع فراہم کیا گیا ہے تاکہ اگر وہ واقعی اہل ہوں توانہیں بھی انصاف مل سکے اور کسی مستحق شخص کو اس اسکیم کے فائدے سے محروم نہ رہنا پڑے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں 29 مختلف لیبر قوانین کو یکجا کرتے ہوئے چار نئے لیبرکوڈز تیار کیے گئے ہیں اور ریاستی حکومت انہی کے مطابق نئے ضابطے وضع کرنے کے عمل میں مصروف ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ مسودۂ قوانین پر مزدور یونینوں کی جانب سے موصول ہونے والی تجاویز اور اعتراضات کا تفصیلی جائزہ لینے کے بعد ہی حتمی قواعد کو منظوری دی جائے گی۔وزیر محنت نے کہا کہ ریاستی حکومت کنٹریکٹ پر کام کرنے والے مزدوروں اور غیر منظم شعبے سے وابستہ کارکنوں کے حقوق کے تحفظ، انہیں سماجی تحفظ فراہم کرنے اور قانونی مراعات یقینی بنانے کے لیے پوری طرح سنجیدہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اس بات کو یقینی بنائے گی کہ تمام مزدوروں کو قانون کے مطابق حقوق حاصل ہوں اور ان کے ساتھ کسی بھی قسم کی ناانصافی نہ ہونے پائے۔آکاش فنڈکر نے خبردار کیا کہ جو افراد یا ادارے کنٹریکٹ مزدوروں کو غیر قانونی طریقے سے ملازمت پر رکھیں گے یا مزدور قوانین کی خلاف ورزی کریں گے، ان کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ مزدوروں کی فلاح و بہبود سے متعلق موجودہ اسکیموں کا بھی ازسرنو جائزہ لیا جا رہا ہے اور ضرورت کے مطابق ان میں مناسب تبدیلیاں کی جائیں گی تاکہ زیادہ سے زیادہ محنت کشوں کو ان اسکیموں کا فائدہ پہنچ سکے۔ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / جاوید این اے


 rajesh pande