کم پانی اور کم مدت والی فصلوں کا رقبہ بڑھائیں: وزیر اعلیٰ ڈاکٹر یادو
شری انّ (موٹے اناج) کی پیداوار کو دیں ترجیح، حکومت کسانوں کے مفاد میں تمام انتظامات کر رہی ہے بھوپال، 04 جولائی (ہ س)۔ مدھیہ پردیش کے وزیر اعلیٰ ڈاکٹر موہن یادو نے کہا ہے کہ قدرتی کھیتی میں بڑا اسکوپ ہے۔ یہ بڑے منافع کا کام ہے۔ کسانوں کو چاہیے ک
وزیر اعلیٰ ڈاکٹر موہن یادو )فائل فوٹو(


شری انّ (موٹے اناج) کی پیداوار کو دیں ترجیح، حکومت کسانوں کے مفاد میں تمام انتظامات کر رہی ہے

بھوپال، 04 جولائی (ہ س)۔

مدھیہ پردیش کے وزیر اعلیٰ ڈاکٹر موہن یادو نے کہا ہے کہ قدرتی کھیتی میں بڑا اسکوپ ہے۔ یہ بڑے منافع کا کام ہے۔ کسانوں کو چاہیے کہ وہ روایتی کھیتی کی جگہ نامیاتی اور قدرتی کھیتی اپنائیں۔ وزیر اعلیٰ نے اس سال کم بارش کے خدشے کے پیش نظر ریاست کے کسانوں سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنے زرعی کاموں کا سائنسی اور عملی منصوبہ بنائیں اور کم مدت اور کم پانی میں بہتر پیداوار دینے والی فصلوں کو خصوصی ترجیح دیں۔ وزیر اعلیٰ ڈاکٹر یادو نے ہفتہ کو بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ ریاستی حکومت کسانوں کے مفادات کے تحفظ اور زرعی پیداوار کو محفوظ رکھنے کے لیے تمام ضروری تیاریاں کر رہی ہے۔ زراعت، باغبانی اور متعلقہ محکموں کے ذریعے ضلع وار مستقل جائزہ اور ضروری انتظامات کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔

وزیر اعلیٰ ڈاکٹر یادو نے کہا کہ موجودہ حالات میں پانی کے تحفظ اور اس کے سمجھداری سے استعمال کی خاص اہمیت ہے۔ کسان بھائی بہن کھیتوں میں دستیاب نمی کا تحفظ کریں، بارش کے پانی کو جمع کرنے (واٹر ہارویسٹنگ) کو فروغ دیں اور مائیکرو آبپاشی کے طریقوں کا زیادہ سے زیادہ استعمال کریں۔ زرعی ماہرین اور محکمہ زراعت کی طرف سے جاری کردہ تکنیکی مشوروں پر عمل کرتے ہوئے حالات کے مطابق فصل کا انتخاب کریں۔

وزیر اعلیٰ ڈاکٹر یادو نے کسانوں سے خاص طور پر شری انّ (موٹے اناج) جیسے کودو، کٹکی، راگی، جوار، باجرہ سمیت دیگر کم پانی میں کامیابی سے پیدا ہونے والی فصلوں کا رقبہ بڑھانے کی گزارش کی۔ انہوں نے کہا کہ یہ فصلیں موسمیاتی تبدیلی کے چیلنجوں کے مطابق ہونے کے ساتھ ساتھ کم لاگت، زیادہ غذائیت اور کسانوں کی آمدنی میں اضافے کے بہتر متبادل کے طور پر انتہائی فائدہ مند ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہماری حکومت بھی شری انّ کی پیداوار، پروسیسنگ اور مارکیٹنگ کی مسلسل حوصلہ افزائی کر رہی ہے۔ وزیر اعلیٰ ڈاکٹر یادو نے کہا کہ بدلتے ہوئے موسمی حالات میں سائنسی زرعی طریقے اپنا کر ہی پیداوار اور آمدنی کو محفوظ رکھا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مدھیہ پردیش کا کسان اپنے تجربے، محنت اور جدید ٹیکنالوجی کے تال میل سے ہر چیلنج کا کامیابی سے سامنا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

وزیر اعلیٰ ڈاکٹر یادو نے کسانوں کو یقین دلایا کہ ریاستی حکومت ہر حال میں ان کے ساتھ کھڑی ہے۔ کسانوں کو ضروری تکنیکی رہنمائی، زرعی وسائل فراہم کرنے اور حالات کے مطابق ہر ممکن تعاون یقینی بنانے کے لیے تمام محکموں کو ہدایات دی گئی ہیں۔ حکومت کی کوشش ہے کہ کسی بھی کسان کو مشکل کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ زرعی پیداوار متاثر نہ ہو اور کسانوں کے مفادات بھی ہر طرح سے محفوظ رہیں۔ وزیر اعلیٰ نے کہا ہے کہ زراعت اور کسان ریاست کے ساتھ ساتھ ملک کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہیں۔ کسانوں کی آمدنی بڑھانا اور جدید ضروریات کے مطابق انہیں تمام سہولیات فراہم کرنا ہمارا فرض ہے۔ اسی مقصد کے تحت ریاست میں سال 2026ء ’کرشک کلیان ورش‘ (کسان بہبود سال) کے طور پر منایا جا رہا ہے۔

وزیر اعلیٰ ڈاکٹر یادو نے کسانوں کو مانسون اور بارش کی اپڈیٹس کے لیے سوشل میڈیا پر مبنی میسجنگ سسٹم پر خاص زور دیا ہے۔ بارش کم ہونے کی صورت میں بیجوں کی تیاری، بوائی کی تکنیک، کم پانی میں پیداوار دینے والی فصلوں جیسے- باجرہ، جوار، اڑد، مونگ، ارہر اور کودو-کٹکی کی کھیتی کے لیے ترغیب دی جا رہی ہے۔ ایسی فصلیں کم پانی اور کم مدت میں بہتر پیداوار کے لیے اچھا متبادل ہیں۔ اس کے علاوہ کسانوں کو موبائل پر میسج بھیج کر بھی موسم کی پیشین گوئی سے متعلق مشورے دیے جا رہے ہیں۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / انظر حسن


 rajesh pande