
ممبئی ، 4 جولائی (ہ س)۔ مرکزی حکومت کی جانب سے مہاراشٹر سمیت تمام ریاستوں کو اسپتالوں کی حفاظتی انتظامات سخت کرنے کی ہدایت کے بعد ریاستی انتظامیہ نے تمام سرکاری اور نجی اسپتالوں کا 31 جولائی تک فائر سیفٹی آڈٹ مکمل کرنے کے احکامات جاری کر دیے ہیں۔ حکومت نے واضح کیا ہے کہ جن اسپتالوں میں فائر سیفٹی سے متعلق سنگین خامیاں پائی جائیں گی، ان کے خلاف فوری اور سخت کارروائی کی جائے گی۔
گزشتہ چند برسوں کے دوران مہاراشٹر، دہلی، گجرات، اتر پردیش اور دیگر ریاستوں کے متعدد اسپتالوں میں آگ لگنے کے افسوسناک واقعات پیش آئے، جن میں کئی مریض جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ ان حادثات کی تحقیقات میں بیشتر مقامات پر شارٹ سرکٹ، پرانی برقی وائرنگ، ناقص فائر فائٹنگ نظام، بند ایمرجنسی راستے اور فائر این او سی سے متعلق سنگین بے ضابطگیاں سامنے آئی تھیں۔ ان مسلسل واقعات کے بعد مریضوں کی حفاظت ایک اہم عوامی مسئلہ بن گئی ہے۔
مرکزی وزارت صحت نے تمام ریاستی حکومتوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو ہدایت دی ہے کہ 31 جولائی تک تمام سرکاری، نجی اور میڈیکل کالجوں سے وابستہ اسپتالوں کا فائر سیفٹی آڈٹ مکمل کیا جائے۔ اس دوران فائر سیفٹی نظام، برقی تنصیبات، آکسیجن سپلائی سسٹم، ایمرجنسی اخراج کے راستوں اور فائر ایکسٹنگوئشرز کی کارکردگی کا تفصیلی معائنہ کیا جائے گا تاکہ کسی بھی قسم کی غفلت کے باعث جانی نقصان سے بچا جا سکے
وزارت صحت کی ہدایات کے مطابق ہر اسپتال کے پاس مؤثر اور کارآمد فائر این او سی ہونا لازمی ہوگا۔ اس کے علاوہ آئی سی یو، این آئی سی یو، آپریشن تھیٹر، آکسیجن پلانٹ، جنریٹر روم اور ہائی وولٹیج شعبوں کی الگ الگ جانچ کی جائے گی۔ اسپرنکلر سسٹم، اسموک ڈیٹیکٹر، فائر الارم، فائر ایکسٹنگوئشر، ایمرجنسی لائٹنگ اور ایمرجنسی اخراج کے راستوں کا بھی تفصیلی معائنہ کیا جائے گا۔
ریاستی انتظامیہ کو یہ ذمہ داری بھی سونپی گئی ہے کہ اگر کسی اسپتال میں فائر سیفٹی سے متعلق سنگین کوتاہی یا ضابطوں کی خلاف ورزی سامنے آئے تو متعلقہ اسپتال کے خلاف فوری قانونی اور انتظامی کارروائی کی جائے، تاکہ مریضوں، ان کے اہل خانہ اور طبی عملے کی حفاظت کو ہر حال میں یقینی بنایا جا سکے
ہندوستھان سماچار
--------------------
ہندوستان سماچار / جاوید این اے