
کاٹھمنڈو، 31 جولائی (ہ س)۔
نیپال کے ضلع سنسری سمیت مدھیش کے مختلف اضلاع میں حالیہ تنازعات کے بعد حالات کو معمول پر لانے کے لیے سیاسی سطح پر کوششیں تیز کر دی گئی ہیں۔ اس کے ساتھ ہی مقامی حکومت، انتظامیہ اور عوام بھی امن و امان اور سماجی ہم آہنگی برقرار رکھنے کے لیے سرگرم اقدامات کر رہے ہیں۔
سنسری کے دیوان گنج گاو¿ں پالیکا میں پیش آئے واقعہ کے خلاف احتجاج اور اس کے بعد ترائی کے مختلف اضلاع میں پیدا ہونے والی کشیدہ صورت حال کو معمول پر لانے کے لیے کئی مقامات پر پرامن اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ سنسری میں دو اور سرہا میں ایک شخص کی موت کے بعد ان واقعات کے اثرات ترائی کے متعدد علاقوں میں دیکھے گئے ہیں۔ احتجاجی مظاہروں کے باعث کوشی پردیش کے ضلع مورنگ کے ویراٹ نگر اور مدھیش پردیش کے جلیشور اور گو¿شالا بازار بند رہے۔ پولیس کے مطابق کئی مقامات پر آمد و رفت بھی متاثر ہوئی ہے۔
ضلع سپتری کے کلیان پور بازار میں ہندو اور مسلم برادریوں کی مشترکہ شرکت سے ”سماجی ہم آہنگی برقرار رکھیں، باہمی بھائی چارہ فروغ دیں“ کے نعرے کے ساتھ یکجہتی ریلی نکالی گئی۔ ضلع مورنگ میں بھی امن اور سماجی ہم آہنگی کے فروغ کے لیے جمعہ کو وراٹ نگر کے مہیندر چوک سے ضلعی انتظامیہ کے دفتر تک امن ریلی نکالی گئی۔ ضلع دھنوشا میں بھی حالات کو معمول پر لانے کے مقصد سے رکنِ ایوانِ نمائندگان کی موجودگی میں آل پارٹی اور کل جماعتی اجلاس منعقد کیا گیا۔ اس کی اطلاع ضلعی انتظامیہ کے دفتر نے دی۔
سیکیورٹی انتظامات کے پیش نظر دھنوشا کے جنک پور دھام سب میٹروپولیٹن سٹی سمیت بعض علاقوں اور سپتری کے راج وراج اور بودے برسائن بلدیات میں غیر معینہ مدت کا کرفیو نافذ کر دیا گیا ہے۔ حالات کو مزید بگڑنے سے روکنے اور مذہبی و سماجی ہم آہنگی برقرار رکھنے کے لیے مختلف اضلاع میں آل پارٹی اجلاسوں اور امن ریلیوں کا انعقاد کیا جا رہا ہے۔
اگرچہ سنسری کے کپتان گنج واقعہ کے سلسلے میں حکومت اور متاثرہ خاندان کے درمیان سات نکاتی معاہدہ ہو چکا ہے، تاہم دیوان گنج سمیت بعض علاقوں میں کرفیو بدستور نافذ ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / عطاءاللہ