
بھوپال، 03 جولائی (ہ س)۔
اداکارہ-ماڈل ٹوشا شرما کی مشکوک موت کے معاملے میں جمعہ کے روز بھوپال ضلع کورٹ میں اہم سماعت ہوئی۔ جس میں ملزم فریق نے سی بی آئی کو لیپ ٹاپ کا پاسورڈ سونپنے اور ایک خصوصی شرط کے ساتھ وائس سیمپل دینے پر رضامندی ظاہر کر دی ہے۔
ضلع کورٹ میں جمعہ کے روز ہوئی سماعت کے دوران ملزم ساس ریٹائرڈ جج گری بالا سنگھ اور شوہر ایڈوکیٹ سمرتھ سنگھ کے وکیل نے سی بی آئی کے گزشتہ مطالبات پر اپنا موقف واضح کیا۔ سی بی آئی نے جانچ کو آگے بڑھانے کے لیے سمرتھ سنگھ کے لاکڈ لیپ ٹاپ کا پاسورڈ اور دونوں ملزموں کے وائس سیمپل کا مطالبہ کیا تھا۔ اس پر دفاعی فریق کے وکیل نے کورٹ میں کہا کہ انہیں لیپ ٹاپ کا پاسورڈ سی بی آئی کو سونپنے میں کوئی اعتراض نہیں ہے۔ وہیں، وائس سیمپل دینے پر بھی رضامندی ظاہر کی گئی لیکن شفافیت برقرار رکھنے کے لیے ایک لازمی شرط رکھی گئی کہ وائس سیمپل کی ایک اصل کاپی کو پوری طرح محفوظ طریقے سے براہِ راست کورٹ کے ریکارڈ میں بھی جمع کرایا جائے۔ کورٹ نے دونوں فریقوں کے دلائل سننے کے بعد اس پر اپنا فیصلہ 6 جولائی تک کے لیے محفوظ رکھ لیا ہے۔
اس سے پہلے منگل کے روز ہوئی سماعت میں سی بی آئی نے عدالت کو مطلع کیا تھا کہ معاملے کی تہہ تک جانے، ڈیجیٹل شواہد کا ملان کرنے اور ضبط شدہ الیکٹرانک آلات کے باریک تجزیے کے لیے لیپ ٹاپ کا پاسورڈ اور وائس سیمپل بے حد اہم کڑی ہیں۔ جانچ ایجنسی سمرتھ سنگھ کو پہلے ہی ریمانڈ پر لے کر سختی سے پوچھ گچھ کر چکی ہے اور اب اس کی پوری توجہ فورینسک و تکنیکی شواہد مضبوط کرنے پر ہے۔ جمعہ کے روز دونوں فریقوں کے وکیلوں نے انہی نکات پر اپنے آخری دلائل پیش کیے، جس کے بعد اب 6 جولائی کو آنے والے کورٹ کے حکم کے بعد ہی سی بی آئی اپنی آگے کی فورینسک جانچ کا عمل شروع کر سکے گی۔
معاملے میں ایک اور اہم موڑ تب آیا جب ملزم فریق کے ایڈوکیٹ انکور پانڈے نے کورٹ کو بتایا کہ ٹوشا کی پہلی اور دوسری پوسٹ مارٹم رپورٹ کی کاپیاں حاصل کرنے کے لیے ان کی جانب سے ایک درخواست دائر کی گئی تھی۔ اس درخواست پر جمعہ کے روز یونین آف انڈیا کے وکیل نے اپنا موقف رکھتے ہوئے عدالت سے تھوڑا وقت مانگا۔ سرکاری وکیل نے دلیل دی کہ ایمس اسپتال سے اس معاملے کی پوری تفصیلی معلومات اور رپورٹ ملنے کے بعد ہی وہ اپنا دفتری جواب تیار کر پائیں گے، جس میں کچھ وقت لگنا فطری ہے۔ عدالت نے سی بی آئی اور سرکاری فریق کی اس دلیل کو قبول کرتے ہوئے جواب داخل کرنے کے لیے آنے والی 14 جولائی تک کا وقت دے دیا ہے۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / انظر حسن