
نئی دہلی، 3 جولائی (ہ س) ۔
سپریم کورٹ نے میگھالیہ میں اپنے شوہر کے قتل کی ملزمہ سونم رگھوونشی کو دی گئی ضمانت پر روک لگانے سے انکار کردیا۔ جسٹس ایم ایم سندریش کی صدارت والی تعطیلاتی بنچ نے سونم رگھوونشی کو نوٹس جاری کیا۔
میگھالیہ حکومت نے سونم رگھوونشی کی ٹرائل کورٹ سے دی گئی ضمانت کو برقرار رکھنے کے ہائی کورٹ کے حکم کو چیلنج کرتے ہوئے ایک عرضی دائر کی تھی۔ سماعت کے دوران عدالت نے کہا کہ سونم رگھوونشی کو رہا کیا گیا ہے،اس لئے ہائی کورٹ کے حکم پر روک نہیں لگا رہے ہیں لیکن انہیں نوٹس جاری کر رہے ہیں ۔ سپریم کورٹ نے ضمانت کے حکم کو برقرار رکھنے کے ہائی کورٹ کے فیصلے پر صرف اس بنیاد پر اعتراض کیا کہ گرفتاری میمو میں متعلقہ سیکشن غلطی تھی۔
سماعت کے دوران میگھالیہ حکومت کی جانب سے پیش سالیسٹر جنرل (ایس جی) تشار مہتا نے کہا کہ ہائی کورٹ نے ضمانت کو برقرار رکھنے میں قانوناً غلطی کی ہے۔ مہتا نے بتایا کہ سونم رگھوونشی اور ان کے شوہر ہنی مون کے لیے میگھالیہ گئے تھے۔ وہیں ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت شوہر کا قتل کر دیا گیا۔ سونم رگھوونشی نے اپنے شوہر کو ایک وادی میں قتل کر کے اس کی لاش کو ایک کھائی میں پھینک دیا۔ اس میں تین ساتھی شامل تھے۔ قتل کے بعد سونم رگھوونشی فرار ہو گئی اور اسے اتر پردیش میں گرفتار کر لیا گیا۔ اسپیشل جوڈیشل مجسٹریٹ (ایس جی) نے کہا کہ ہائی کورٹ نے ضمانت دینے کی وجہ ٹائپنگ کی غلطی تھی۔ انہوں نے کہا کہ سونم رگھوونشی کے فرار ہونے کا خطرہ تھا۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / عطاءاللہ