
احمد نگر، 3 جولائی (ہ س)۔ معروف سماجی کارکن انا ہزارے نے مطالبہ کیا ہے کہ معلومات کے حق (آر ٹی آئی) قواعد 2026 کو محض معطل کرنا کافی نہیں، بلکہ انہیں مکمل طور پر منسوخ کیا جانا چاہیے۔ ریاستی حکومت کی جانب سے نظرثانی شدہ قواعد کو عارضی طور پر معطل کیے جانے کے بعد انہوں نے رالے گن سدھی میں اتوار سے شروع ہونے والا اپنا مجوزہ بھوک ہڑتال فی الحال ملتوی کرنے کا اعلان کیا، تاہم واضح کیا کہ یہ فیصلہ حکومت پر اعتماد کی بنیاد پر نہیں بلکہ اس کی جانب سے شروع کیے گئے مثبت عمل کو موقع دینے کے لیے کیا گیا ہے۔انا ہزارے نے نظرثانی شدہ آر ٹی آئی قواعد میں شامل بعض دفعات پر اعتراض کرتے ہوئے کہا تھا کہ ان سے معلومات کے حق کا قانون کمزور ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔ اسی اعتراض کے تحت انہوں نے بھوک ہڑتال کا اعلان کیا تھا۔ اس کے بعد مہاراشٹر حکومت نے نئے قواعد کو عارضی طور پر معطل کر دیا۔ اس فیصلے کے بعد جاری اپنے مکتوب میں انا ہزارے نے حکومت کے اس اقدام کا خیرمقدم کیا، لیکن ساتھ ہی واضح کیا کہ یہ صرف عارضی معطلی ہے، حتمی فیصلہ نہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ قواعد کو مستقل طور پر منسوخ کر کے شہریوں کے حقوق کا مکمل تحفظ یقینی بنایا جائے۔انہوں نے اپنے خط میں کہا کہ ریاست کے عوام کی بیداری، رالے گن سدھی کے دیہاتیوں کے اتحاد اور جمہوری طریقے سے پیدا ہونے والے عوامی دباؤ کے باعث حکومت کو اپنے فیصلے پر نظرثانی کرنا پڑی۔ انہوں نے پرامن عوامی جدوجہد کو حکومت کے مثبت رویے کی بنیادی وجہ قرار دیتے ہوئے شہریوں کا شکریہ ادا کیا۔ انا ہزارے نے خبردار کیا کہ اگر حکومت نے اس عمل کو ادھورا چھوڑ دیا یا قواعد کو مستقل طور پر منسوخ کرنے کا فیصلہ نہیں کیا تو وہ دوبارہ جمہوری اور پرامن طریقے سے عوامی تحریک شروع کریں گے۔انہوں نے کہا کہ حکومت کو یہ سمجھنا چاہیے کہ عوام کی آواز سننا ہی حقیقی جمہوریت ہے۔ شہریوں کے بنیادی حقوق پر اثر انداز ہونے والے فیصلے کرنے سے قبل وسیع عوامی مشاورت اور عوام کا اعتماد حاصل کرنا ضروری ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ معلومات کا حق حکومتی نظام میں شفافیت، جوابدہی اور عوامی شمولیت کو مضبوط بنانے والا نہایت اہم قانون ہے، اس لیے اسے ہر صورت مضبوط اور مؤثر رہنا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ کئی برسوں کی جدوجہد کے بعد عوام کو یہ مؤثر قانونی حق حاصل ہوا ہے اور وہ اسے کمزور ہوتے ہوئے خاموشی سے نہیں دیکھ سکتے۔انا ہزارے نے کہا کہ اگرچہ ان کی عمر اب 90 برس ہو چکی ہے، لیکن عوامی مفاد کے اس قانون کے تحفظ کے لیے جدوجہد کرنے کا ان کا عزم بدستور برقرار ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ رالے گن سدھی نے ہر عوامی تحریک کے ذریعے ملک کو نئی سمت دی ہے اور اس مرتبہ بھی عدم تشدد، سچائی اور عوامی طاقت کی قوت ایک بار پھر نمایاں ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ افراد ہمیشہ نہیں رہتے، مگر جمہوری اقدار اور اصول ہمیشہ قائم رہنے چاہئیں۔ معلومات کے حق کے قانون کا تحفظ ہر باشعور شہری کی ذمہ داری ہے کیونکہ یہ قانون صرف انا ہزارے کا نہیں بلکہ ہر عام شہری کے ہاتھ میں بدعنوانی اور بدانتظامی کے خلاف ایک مؤثر ہتھیار ہے۔انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ اس قانون کو مزید مضبوط بنانے کے لیے ہمیشہ بیدار رہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کسی بھی جماعت کی ہو، آخری طاقت عوام کے پاس ہوتی ہے اور منظم، پرامن عوامی دباؤ ہی حکومتوں کو عوامی مفاد میں فیصلے کرنے پر مجبور کرتا ہے۔ہندوستھان سماچار
--------------------
ہندوستان سماچار / جاوید این اے