دھرو راٹھی کے ویڈیو پر ہائی کورٹ کا فیصلہ، شکایت اپیل کمیٹی 15 دن میں فیصلہ سنائے
نئی دہلی، 3 جولائی (ہ س)۔ دہلی ہائی کورٹ نے مرکزی حکومت کی شکایت اپیل کمیٹی کو ہدایت دی ہے کہ مبینہ طور پر بھگوان رام اور سیتا کی توہین کرنے والے یوٹیوبر دھرو راٹھی کے ویڈیو کو ہٹانے کی درخواست پر وہ 15 دن کے اندر فیصلہ کرے ۔ جسٹس سورن کانتا شرما ک
Delhi-HC-YouTuber-Dhruv-Rathee


نئی دہلی، 3 جولائی (ہ س)۔ دہلی ہائی کورٹ نے مرکزی حکومت کی شکایت اپیل کمیٹی کو ہدایت دی ہے کہ مبینہ طور پر بھگوان رام اور سیتا کی توہین کرنے والے یوٹیوبر دھرو راٹھی کے ویڈیو کو ہٹانے کی درخواست پر وہ 15 دن کے اندر فیصلہ کرے ۔ جسٹس سورن کانتا شرما کی سربراہی والی بنچ نے یہ حکم دیا۔

وکیل امت سچدیوا نے ایک عرضی دائر کرکے دھرو راٹھی کی 21 مارچ کی اس ویڈیو کو ہٹانے کا مطالبہ کیا ہے جس کا عنوان ہے ”کین ہندو ایٹ بیف؟ کیرالہ اسٹوری 2ایکسپوزڈ“ہے۔ سماعت کے دوران اے ایس جی چیتن شرما نے مرکزی حکومت کی نمائندگی کرتے ہوئے کہا کہ دھرو راٹھی کا ویڈیو ہندو دیوتاو¿ں کی توہین کرتا ہے۔ کوئی بھی اس ویڈیو کو برداشت نہیں کر سکتا۔ چیتن شرما نے کہا کہ یا تو گوگل اس ویڈیو کو ہٹا دے یا اس تعلق سے کوئی عدالتی حکم دیا جائے، جس کی تعمیل کو یقینی بنایا جائے۔

اس کے بعد عدالت نے مرکزی حکومت کی شکایت اپیل کمیٹی کو 15 دنوں کے اندر اپیل پر فیصلہ کرنے کا حکم دیا۔ عدالت نے کہا کہ حکم نامے کی تعمیل نہ کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ درخواست گزار نے الزام لگایا کہ دھرو راٹھی کے یوٹیوب ویڈیو میں مبینہ طور پر بھگوان رام اور سیتا کی توہین کی گئی، سناتن دھرم کے جذبات کو ٹھیس پہنچائی گئی اور مذہبی عداوت پھیلائی گئی۔ 11 جون کو ساکیت کورٹ نے دہلی پولیس کو اس معاملے میں کارروائی کی رپورٹ داخل کرنے کا حکم دیا تھا۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / محمد شہزاد


 rajesh pande