
نئی دہلی، 28 جولائی (ہ س)۔ پے ٹی ایم پیمنٹس بینک لمیٹڈ (پی پی بی ایل) پردہلی ہائی کورٹ نے سخت موقف اختیار کیا ہے۔ عدالت نے پے ٹی ایم پیمنٹس بینک کو ختم کرنے کا حکم دیا ہے۔ عدالت نے ہدایت دی ہے کہ لیکویڈیٹر 8 جولائی سے بورڈ کے اختیارات کا استعمال کرے گا۔ اس کے ساتھ ہی عدالت نے گری کمار نائر کو بھی آفیشل لیکویڈیٹر مقرر کیا ہے۔
ریزرو بینک آف انڈیا (آر بی آئی) نے منگل کو ایک بیان میں کہا کہ ہائی کورٹ نے مرکزی بینک کی درخواست پر پے ٹی ایم پیمنٹس بینک کو بند کرنے کا حکم دیا ہے اور اس کے کام-کاج کو آفیشیل لیکویڈیٹر کے حوالے کر دیا ہے۔ آر بی آئی نے کہا کہ 8 جولائی 2026 کے حکم اور اس کے ساتھ 22 جولائی 2026 کے حکم کے تحت ،دہلی ہائی کورٹ نے حکم دیا ہے کہ پے ٹی ایم پیمنٹس بینک لمیٹڈ (پی پی بی ایل) کو بینک کاری انضباطی ضابطے، 1949 اورکمپنیوں کے قانون، 2013 کی دفعات کے تحت بند کیا جائے۔ آر بی آئی کے مطابق ، عدالت نے اس کے لئے اسٹیٹ بینک آف انڈیا ( ایس بی آئی) کے سابق منیجر گری کمار ایم نائر کو اس مقصد کے لیے آفیشل لیکویڈیٹر کے طور پر مقرر کیا ہے، جو 8 جولائی 2026 سے بینک کے بورڈ کے تمام اختیارات استعمال کریں گے۔
ریزرو بینک آف انڈیا ( آر بی آئی ) نے 24 اپریل 2026 سے بینک کاری انضباطی ضابطے کی دفعہ 22(4) کے تحت پے ٹی ایم پیمنٹس بینک لمیٹڈ(پی پی بی ایل)کا بینکنگ لائسنس منسوخ کر دیا تھا۔ آر بی آئی کی جانب سے قوانین کی خلاف ورزیوں کی وجہ سے پے ٹی ایم پیمنٹس بینک کا لائسنس منسوخ کرنے کے چند مہینوں بعد، دہلی ہائی کورٹ نے بینک کو بند کرنے کا حکم دیا ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمد شہزاد