
نئی دہلی، 28 جولائی (ہ س): ہندوستانی ریلوے نے ہندوستان اور نیپال کے درمیان مال برداری کے رابطے کو مزید مضبوط بناتے ہوئے کولکاتا بندرگاہ سے نیپال کے ویرات نگر کسٹمز یارڈ تک پہلی مرتبہ براہِ راست تجارتی کنٹینر مال گاڑی کامیابی کے ساتھ چلائی ہے۔ چالیس ڈبوں پر مشتمل یہ مال گاڑی کینولا کی کھیپ لے کر نظرثانی شدہ ہندوستان-نیپال ریل ٹرانزٹ پروٹوکول کے تحت اپنی منزل تک پہنچی، جس کے ساتھ دونوں ممالک کے درمیان ریل کے ذریعے سرحد پار تجارتی مال برداری کے ایک نئے دور کا آغاز ہو گیا ہے۔
ریلوے وزارت نے منگل کو بتایا کہ اس سروس کے آغاز کے بعد اب کنٹینروں میں بند مال کو کولکاتا بندرگاہ سے ہندوستان-نیپال سرحد پر ٹرانس شپمنٹ کیے بغیر براہِ راست ریل کے ذریعے ویرات نگر پہنچایا جا سکے گا۔ اس سے مال کی ترسیل میں لگنے والا وقت کم ہوگا، لاجسٹکس لاگت میں کمی آئے گی، بار بار مال اتارنے اور چڑھانے کی ضرورت ختم ہوگی، اور ہندوستان و نیپال کے درمیان تجارت زیادہ تیز، قابلِ اعتماد اور مسابقتی بنے گی۔
وزارت کے مطابق یہ کامیابی نظرثانی شدہ ہندوستان-نیپال ریل ٹرانزٹ پروٹوکول کے مؤثر نفاذ کی بدولت ممکن ہوئی ہے، جس کے تحت دونوں ممالک کے درمیان مال کی بلا رکاوٹ اینڈ ٹو اینڈ ریل نقل و حمل کی سہولت فراہم کی گئی ہے۔
اس اقدام کی بنیاد جون 2023 میں وزیر اعظم نریندر مودی اور نیپال کے اُس وقت کے وزیر اعظم کی جانب سے جوگبانی (ہندوستان) – ویرات نگر (نیپال) براڈ گیج ریلوے رابطے کے افتتاح کے ساتھ رکھی گئی تھی۔ بعد ازاں نومبر 2025 میں نظرثانی شدہ لیٹر آف ایکسچینج (ایل او ای) پر دستخط کے بعد ویرات نگر تک براہِ راست تجارتی ریل مال برداری کی راہ ہموار ہوئی۔
ریلوے وزارت کے مطابق نئی سروس سے درآمدی و برآمدی کارگو کی نقل و حرکت میں تیزی آئے گی اور برآمد کنندگان، درآمد کنندگان، لاجسٹکس خدمات فراہم کرنے والوں اور سرحد پار تجارت سے وابستہ صنعتوں کو کم لاگت، کم وقت اور زیادہ ماحول دوست نقل و حمل کا فائدہ حاصل ہوگا۔ اس کے ساتھ ہی سپلائی چین کی کارکردگی میں بہتری آئے گی اور مال برداری کی قابلِ اعتمادیت مزید مضبوط ہوگی۔
وزارت نے کہا کہ یہ کامیابی بین الاقوامی ریلوے رابطوں کے فروغ، مال برداری کے بنیادی ڈھانچے کو مستحکم بنانے اور جدید نقل و حمل کے نظام کے ذریعے کاروباری سہولت کو بڑھانے کے لیے ہندوستانی ریلوے کے عزم کی عکاسی کرتی ہے۔ ریل کے ذریعے مال برداری میں اضافے سے لاجسٹکس لاگت کم ہوگی، ماحول دوست ٹرانسپورٹ کو فروغ ملے گا اور پڑوسی ممالک کے ساتھ اقتصادی شراکت داری کو نئی مضبوطی حاصل ہوگی۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / عبدالواحد