چینی کی ذخیرہ اندوزی پر قابو پانے کے لیے حکومت سخت، نئے ضوابط کا یکم اگست سے نفاذ
نئی دہلی، 28 جولائی (ہ س): مرکزی حکومت نے چینی کی ذخیرہ اندوزی پر قابو پانے کے لیے ایک اہم اور سخت قدم اٹھایا ہے۔ حکومت نے بازار میں چینی کی وافر دستیابی کو یقینی بنانے کے لیے چینی کے تاجروں اور ڈیلروں کے لیے نئی اسٹاک حد مقرر کر دی ہے۔ نئے حکم کے
چینی کی ذخیرہ اندوزی پر قابو پانے کے لیے


نئی دہلی، 28 جولائی (ہ س): مرکزی حکومت نے چینی کی ذخیرہ اندوزی پر قابو پانے کے لیے ایک اہم اور سخت قدم اٹھایا ہے۔ حکومت نے بازار میں چینی کی وافر دستیابی کو یقینی بنانے کے لیے چینی کے تاجروں اور ڈیلروں کے لیے نئی اسٹاک حد مقرر کر دی ہے۔ نئے حکم کے مطابق اب کوئی بھی چینی ڈیلر 4,000 کوئنٹل سے زیادہ چینی اپنے ذخیرے میں نہیں رکھ سکے گا۔ یہ ضابطہ یکم اگست سے 30 نومبر تک نافذ العمل رہے گا۔

صارفین کے امور، خوراک اور عوامی تقسیم کی وزارت نے منگل کو بتایا کہ عوامی تقسیم نظام (پی ڈی ایس) اور سرکاری چینی کے ذخائر کو اس نئی اسٹاک حد سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے۔ مرکزی حکومت نے ہدایت دی ہے کہ کوئی بھی چینی ڈیلر 30 دن سے زیادہ عرصے تک چینی کا ذخیرہ نہ رکھے۔ اس کے ساتھ ہی چینی کی قیمتوں کو قابو میں رکھنے کی کوششوں کے تحت 4,000 کوئنٹل کی زیادہ سے زیادہ اسٹاک حد مقرر کی گئی ہے۔

صارفین کے امور، خوراک اور عوامی تقسیم کی وزارت کے سرکاری بیان کے مطابق تمام چینی ڈیلروں کو خوراک اور عوامی تقسیم کے محکمے کے آن لائن پورٹل کے ذریعے ہر ہفتے اپنے چینی کے ذخیرے کی تفصیلات فراہم کرنا اور اسٹاک کی تازہ صورتحال درج کرنا لازمی ہوگا۔

اس کے علاوہ مرکزی حکومت نے ریاستی حکومتوں کو بھی اختیار دیا ہے کہ اگر ضرورت محسوس ہو تو وہ مرکز کی مقرر کردہ حد سے بھی کم اسٹاک حد نافذ کر سکتی ہیں۔ اس اقدام کا مقصد بازار میں چینی کی بلا رکاوٹ فراہمی کو یقینی بنانا، ذخیرہ اندوزی پر قابو پانا اور قیمتوں کو مستحکم رکھنے میں مدد فراہم کرنا ہے۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / عبدالواحد


 rajesh pande